حیدرآباد میں کبھی ڈی پارک کے نام سے مشہور تفریحی مقام اب خان بہادر حسن علی آفندی پیپلز پارک کے نام سے ایک نئے روپ میں شہریوں کے لیے دستیاب ہے۔
یہ پارک جامشورو روڈ کے قریب واقع ہے اور 12 اگست 2025 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی اور حیدرآباد کے میئر کاشف شورو سمیت دیگر حکام موجود تھے۔
14 ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ پارک شہری جنگل کے تصور کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہاں 5 ہزار سے زیادہ درخت اور 10 ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔ پارک میں دو واکنگ ٹریکس اور تین اوپن لائبریریاں بھی قائم کی گئی ہیں، جس سے اسے محض تفریحی مقام کے بجائے واک، مطالعے اور کھلی فضا میں وقت گزارنے کی جگہ کے طور پر بھی ترتیب دیا گیا ہے۔
حیدرآباد جیسے بڑے اور گرم شہر میں شہری سبز مقامات کی اہمیت صرف تفریح تک محدود نہیں۔ درختوں اور پودوں سے بھرپور عوامی مقامات شہریوں کو کھلی فضا میں وقت گزارنے، چہل قدمی اور جسمانی سرگرمی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے حسن علی آفندی پیپلز پارک شہر میں ایک نمایاں عوامی تفریحی سہولت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
پارک کا نام خان بہادر حسن علی آفندی کے نام پر رکھا گیا ہے، جو سندھ میں جدید تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم تاریخی شخصیت تھے۔ حسن علی آفندی سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی تھے، جہاں بعد میں قائداعظم محمد علی جناح نے بھی تعلیم حاصل کی۔
ڈی پارک سے حسن علی آفندی پیپلز پارک تک کی تبدیلی حیدرآباد میں ایک موجودہ عوامی مقام کو نئے انداز میں ترقی دینے کی کوشش ہے۔ تاہم کسی بھی عوامی پارک کی کامیابی صرف افتتاح یا شجرکاری کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کی مستقل دیکھ بھال، صفائی، درختوں اور پودوں کی حفاظت، لائبریریوں اور دیگر سہولیات کے مؤثر استعمال اور شہریوں کے لیے محفوظ ماحول برقرار رکھنے سے بھی طے ہوتی ہے۔
اگر یہ سہولیات مستقل بنیادوں پر برقرار رہیں تو خان بہادر حسن علی آفندی پیپلز پارک حیدرآباد کے شہریوں، خصوصاً خاندانوں، بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے لیے ایک اہم عوامی سبز مقام بن سکتا ہے۔

