سندھ میں رلی کو عورتوں کے ہاتھ کا ہنر سمجھا جاتا ہے۔ صدیوں سے یہ ثقافتی رلیاں گھروں میں عورتیں ہی تیار کرتی آئی ہیں۔ مگر تھر کے شہر ڈیپلو سے سامنے آنے والی ایک رلی اس روایت سے ہٹ کر ہے۔
یہ رلی کسی خاتون نے نہیں بلکہ ایک مرد نے تیار کی۔ اس مرد کا نام عبداللہ کٹی تھا، جو سنہ 1966 میں ڈیپلو میں پرائمری استاد تھے۔ غربت کے باعث وہ سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ رلی بھی تیار کر کے فروخت کرتے تھے، تاکہ اپنے بچوں کی کفالت کر سکے۔
عبداللہ کٹی صرف استاد نہیں تھے بلکہ خطاط اور شاعر بھی تھے۔ سنہ 1966 میں جب اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس نے بازار سے کوئی تحفہ خریدنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے ایک رلی بنانے کا فیصلہ کیا۔
یہ رلی عام رلی نہیں تھی۔ اس کے وسط میں عبداللہ کٹی نے اپنا لکھا ہوا ایک بیت کپڑے کے ٹکڑوں سے چٹ دیا۔ انہوں نے اس بیت میں کہیں بھی نقطے کا استعمال نہیں کیا گیا، جو خطاطی کا ایک مشکل اور کم معروف اسلوب سمجھا جاتا ہے۔
اس رلی کو مکمل کرنے میں عبداللہ کٹی کو چھ سال لگے۔ وہ فرصت کے لمحات میں آہستہ آہستہ اس پر کام کرتے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ رلی مکمل ہوئی اور بیٹے کے لیے ایک یادگار تحفہ بن گیا۔
آج یہ رلی عبداللہ کٹی کے وارثوں کے پاس محفوظ ہے۔ ڈیپلو کی یہ رلی صرف کپڑے کا نمونہ نہیں بلکہ سندھ کی ثقافت، ایک والد کی محنت اور محبت، اور ایک کم دیکھی گئی روایت کی خاموش کہانی ہے۔

