نئے سال کے آغاز پر وفاقی حکومت کے ادارے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک کے سماجی اشاریوں میں مجموعی طور پر کچھ حد تک بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ سروے یکم جنوری کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے باضابطہ طور پر جاری کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا مکمل طور پر ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ سروے ہے، جس کا مقصد عوام کے معاشی اور سماجی حالات کی درست اور حقیقی تصویر پیش کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کا موجودہ مرحلہ ستمبر 2024 سے جون 2025 تک مکمل کیا گیا۔ اس دوران اینڈرائیڈ ٹیبلٹس پر مبنی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پاکستان بھر میں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت، 32 ہزار 814 گھرانوں سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل طریقہ کار سے ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سروے کے نتائج کو صوبائی سطح پر دو الگ رپورٹس کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے، جن میں سماجی رپورٹ اور معاشی رپورٹ شامل ہیں۔ سماجی رپورٹ میں تعلیم، معلومات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، صحت، آبادی و خاندانی بہبود، رہائش، پانی، صفائی ستھرائی اور خوراک کی عدم تحفظ سے متعلق اہم اشاریوں پر تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ معاشی رپورٹ میں گھرانوں کی آمدنی اور اخراجات کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اخراجات کی بنیاد پر غربت کے تخمینے کے لیے ضروری اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔
تعلیم اور صحت کی صورتحال
تعلیم کے شعبے سے متعلق سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک میں شرح خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے، جسے ماہرین تعلیمی شعبے میں بتدریج بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں بھی معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن تعلیمی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
دوسری جانب یونیسف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سرکاری اعداد و شمار سے قدرے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ یونیسف کے مطابق سال 2025 میں پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر تھا۔ اندازوں کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے مجموعی بچوں کی آبادی کا 35 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قومی ترقی کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ مستقبل کی افرادی قوت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
صحت کے شعبے میں سروے کے نتائج نسبتاً مثبت رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی مکمل ویکسینیشن کی شرح 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی اموات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صاف ایندھن استعمال کرنے والے گھرانوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، جسے ماحولیاتی بہتری اور صحت مند طرزِ زندگی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل رسائی میں خاطرخواہ اضافہ
ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے سروے کے نتائج خاص طور پر نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ افراد کی سطح پر انٹرنیٹ استعمال 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں، تقریباً 96 فیصد گھرانوں میں موبائل یا اسمارٹ فون کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں آن لائن تعلیم، ای-کامرس اور ڈیجیٹل روزگار کے مواقع میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں موبائل فونزکی درآمدات پر801.13ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 40.51فیصدزیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موبائل فونز کی درآمدات پر570.18ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا،نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات پر156.56ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجونومبر2024کے مقابلہ میں 4.81فیصدزیادہ ہے،نومبر 2024میں موبائل فونزکی درآمدات پر149.37ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا۔
اکتوبرکے مقابلہ میں نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر8.30فیصدکی کمی ہوئی، اکتوبرمیں موبائل فونزکادرآمدی بل 144.56ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔
غربت میں کمی
ماہرین معاشیات کے مطابق سروے کے اعداد و شمار غربت میں کمی، سماجی تحفظ کے پروگراموں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ سروے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے ترتیب دیں اور عوامی فلاح کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، خاص طور پر تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔
مجموعی طور پر ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کو پاکستان میں ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان نتائج کو مؤثر پالیسی اقدامات میں تبدیل کیا گیا تو یہ سروے پاکستانی عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی اور دیرپا بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

