Tag: ڈیجیٹل دہشت گردی

  • ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کیس: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سات صحافیوں اور یوٹیوبرز کو عمر قید کی سزا سنادی

    ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کیس: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سات صحافیوں اور یوٹیوبرز کو عمر قید کی سزا سنادی

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعے کے روز ایک اہم فیصلے میں سات صحافیوں اور سوشل میڈیا تبصرہ نگاروں کو ان کی غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنا دی۔ یہ سزائیں نو مئی سے جڑے ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کے مقدمات میں سنائی گئیں، جنہیں حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا سے متعلق سخت ترین عدالتی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    عدالت کی جانب سے جن افراد کو سزا سنائی گئی، ان میں صحافی صابر شاکر، معید پیرزادہ، شاہین صہبائی اور وجاہت سعید خان شامل ہیں، جبکہ یوٹیوبرز اور سابق فوجی افسران عادل راجہ، حیدر رضا مہدی اور سید اکبر حسین بھی فیصلے کی زد میں آئے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق تمام ملزمان کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا دی گئی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے نو مئی کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی مواد پھیلایا۔ عدالت کے مطابق یہ طرز عمل دہشت گردی کے دائرے میں آتا ہے کیونکہ اس سے ریاستی نظم و نسق اور عوامی امن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

    عدالت نے عمر قید کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال اضافی قید اور 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید قید بھگتنا ہوگی۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں درج مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو سزا سنائی گئی، جبکہ تھانہ رمنا میں درج مقدمے کے تحت شاہین صہبائی، حیدر رضا مہدی اور وجاہت سعید خان کو مجرم قرار دیا گیا۔ مختلف مقدمات میں ملزمان کے کردار کو الگ الگ جانچا گیا، تاہم عدالت نے مجموعی طور پر ڈیجیٹل سرگرمیوں کو ایک منظم مہم قرار دیا۔

    استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ملزمان نے نو مئی کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف منظم ڈیجیٹل مہم چلائی، جس کے ذریعے عوام میں بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ استغاثہ کے مطابق یہ سرگرمیاں ڈیجیٹل دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور دکھانا تھا۔

    عدالت کے اس فیصلے کو ملک میں ڈیجیٹل اظہار، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ان سے جڑے قانونی دائرہ کار کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے پر مختلف حلقوں میں بحث اور ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اظہار رائے اور قانون کی حدود کہاں متعین ہوتی ہیں۔