Tag: ڈھاٹکی

  • منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    منفرد ادب، شاعری اور موسیقی والی صحرائے تھر کی مقبول زبان ڈھاٹکی، جس کا رسم الخط بھی ہے

    سندھ کے ضلع تھرپارکر کے چیلہار شہر کے رہائشی اور ڈھاٹکی زبان کے شاعر اور متعدد کتابوں کے لکھاری،  صحرا  تھر کی  زبان لوک ادب لوک دانائی اور ثقافت پر کام کرنے والے بھارو مل امرانی کے مطابق ڈھاٹکی زبان کو تھر کے ریگستان میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور اس خطے کی اکثریت آبادی ڈھاٹکی زبان بولتی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بھارومل امرانی نے کہا: ‘سندھ کے اس ریگستانی حصے کو مُردھر یا مروستھل بھی کہا جاتا ہے۔ ‘مُردھر’ یا ‘مروستھل’ کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔ مُردھر یا مروستھل کے نام کی وجہ سے ریگستان کے لوگوں کی زبان کو مروبھاشا کا نام دیا گیا۔

    ‘مروگجر اور مروبھاشا کی طرح ریگستانی زبان کے لئے پنگل اور ڈنگل کا اصطلاح بھی 15ویں اور 16 ٓویں صدی میں مشہور ہوئی۔تھرپارکر درواڑی اور راجپوتی تھذیب کا سنگم ہے، تھرپارکر کی علاقائی تاریخ کی طرح زبان کی تاریخ بھی قدیم ہے۔

    ‘تھر کی زبان پے موھن جو دڑو کی امر مُھر لگی ہوئی ہے، دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے ماحول کا رنگ دے کر اپنے وجود میں شامل کرنے سے اس بولی کی  وسعت بڑتی گئی، تھرپارکر کی علائقائی بولی میں جہاں پانچ ہزار سال پرانے سندھی اور دراوڑی زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں وہاں جدید دور کے سائنسی ایجادات کے سائنسی نام جنم لے رہے ہیں۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق  تھرپارکر علاقائی لحاظ سے سات حصوں ڈاٹ، ونگو، کنٹھو، کھاہوڑ،پارکر،سامروٹی اور وٹ پے مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حصوں میں ہر ایک حصے کا اپنا لہجا ہے۔ مگر مجموعی طور تھرپارکر میں بولی جانے والی زبان کے تیں لہجے ہیں۔ سندھی تھری، پارکری، ڈھاٹکی۔

    ‘ڈھاٹکی تھر کی اہم زبان ہے، جس کو سوڈکی بھی کہتے ہیں۔ ایک غیر سرکاری سروے مطابق ضلع تھر میں 75 فیصد لوگوں کی مادری زبان ڈاٹکی ہے، 98 فیصد تھر کی آبادی ڈھاٹکی سمجھ اور بول سکتی ہے۔

    ‘دنیا کے لوک ادب کی طرح بادشاہوں اور پریوں کے ساتھ ساتھ یہاں کے مقامی لوک کرداروں کی کہانیوں اور شعر و شاعری کا بڑا ذخیرہ ملتا ہے،

    ‘موروں کے دلربا رقص اور حب الوطنی کے عظیم کردار مارئی کے داستان میں مھکتے ہوئے ڈھاٹکی کے گیتوں کو مقامی گلوکاروں مراد فقیر، مائی بھاگی، مائی ودھائی،موہن بھگت، استاد حسین فقیر، استاد شفیع فقیر، صادق فقیر، فوزیہ سومرو، عارب فقیر، حیدررند، بھگڑو ناچیز، انب فقیر،مصری ڈیپلائی، رجب فقیر، رفیق فقیر اور دیگر گلوکاروں نے دل و روح سے گایا ہے۔’

    بھارومل امرانی کے مطابق عربی رسم الخط میں سندھی الف ب کے تعاون سے ڈھاٹکی کی رسم الخط تیار کی گئی ہے۔ ڈھاٹکی زبان کے حروف تہجی کا تعداد 34 رکھا گیا ہے۔

    ڈھاٹکی پر سندھ میں ڈاکٹر پھلو سندر اور ہند میں ڈاکٹر مرلی بھوانانی نے پی ایچ ڈی کی ہے ۔ ڈھاٹکی سیکھنے کے کچھ کتاب شایع ہوئی ہیں۔ مگر اب تک ڈاٹکی کا کوئی جریدہ نہیں نکلتا۔ ریڈیو پاکستان مٹھی پے دو ڈھاٹکی کے پروگرام ڈھاٹی ماںجھا دھول اور تھر ری سرہان روزانہ نشر ہوتے ہیں۔ پیارو شوانی اور بھارومل امرانی نے شیخ ایاز کی شاعری کو ڈھاٹکی روپ دیا ہے۔ استاد لغاری نے شاھ جو رسالو کا ڈھاٹکی میں ترجمہ کیا ہے ۔