کراچی کا لیاری عام طور پر کھیل، فن، ثقافت اور اپنے مسائل کے حوالے سے دنیا کے سامنے آتا ہے، لیکن اسی لیاری سے ایک ایسا نوجوان بھی نکلا جس نے علم اور تحقیق کی دنیا میں اپنی شناخت بنائی اور عالمی سطح پر نمایاں سائنس دانوں کی فہرست میں جگہ حاصل کی۔
یہ کہانی ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی ہے، جو بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے پہلے بیچ کے طالب علم تھے۔ ان کا تعلیمی سفر 2012 میں اس وقت شروع ہوا جب یونیورسٹی نے اپنی تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ آج وہ اعلیٰ تعلیم کے کئی مراحل طے کرنے کے بعد تحقیق کے میدان میں عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔
بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کا قیام سندھ اسمبلی کے قانون کے تحت ہوا اور یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 2012 میں کیا گیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد لیاری اور کراچی کے دیگر کم آمدنی والے علاقوں کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا۔
ڈاکٹر عبداللہ ایوب کے لیے یہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں تھی بلکہ ان کے خوابوں کی پہلی سیڑھی تھی۔ دسمبر 2015 میں انہوں نے اپنی گریجویشن مکمل کی، لیکن یہ ان کے تعلیمی سفر کا اختتام نہیں بلکہ اصل سفر کا آغاز تھا۔
انہوں نے ماسٹرز کیا، پھر پی ایچ ڈی مکمل کی اور اپنے تعلیمی سفر میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد ملائیشیا کی سلطان زین العابدین یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کی اور اسی سپروائزر کے زیر نگرانی دوسری پوسٹ ڈاکٹریٹ بھی مکمل کی۔
تحقیق کے میدان میں مسلسل کام نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ ان کے مطابق وہ دنیا کے ٹاپ دو فیصد سائنس دانوں میں شامل ہیں، جبکہ رواں سال ان کی نامزدگی دنیا کے ٹاپ ایک فیصد سائنس دانوں میں بھی ہوئی ہے۔
لیکن ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو ان کی عالمی شناخت سے پہلے کا سفر ہے۔
وہ اسی لیاری میں رہتے ہوئے لیاری ہی کی ایک نئی اور اس وقت نسبتاً غیر معروف یونیورسٹی سے اپنا تعلیمی سفر شروع کر رہے تھے۔ 2012 کا لیاری آج کے لیاری سے مختلف تھا اور یونیورسٹی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ طلبہ کی تعداد کم تھی اور تعلیمی نظام مسلسل تشکیل پا رہا تھا۔
ڈاکٹر عبداللہ ایوب کے مطابق وقت کے ساتھ یونیورسٹی کے طلبہ، فیکلٹی اور نصاب میں نمایاں بہتری آئی۔ وہ اس تبدیلی کا کریڈٹ اپنے اساتذہ، فیکلٹی ممبران، ڈینز اور انتظامیہ کو دیتے ہیں، جنہوں نے وقت کے ساتھ ادارے کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
اس داستان میں فیس کا پہلو بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عبداللہ ایوب کے مطابق 2012 میں ان کی فی سمسٹر فیس تقریباً 5400 روپے تھی اور چار سال تک اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے مطابق اسی زمانے میں اچھی نجی یونیورسٹیوں کی فیس اس کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچتی تھی۔
محدود مالی وسائل رکھنے والے ایک طالب علم کے لیے کم فیس نے اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کا ایک راستہ کھولا۔ لیکن عبداللہ ایوب کی کامیابی صرف یہ نہیں بتاتی کہ کم فیس والی یونیورسٹی سے بھی بڑا مقام حاصل کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ اس تاثر کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ کامیابی صرف بڑے نام والے اداروں کی ڈگری سے ملتی ہے۔
لیاری کا ٹیگ ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنا، کیونکہ انہوں نے اپنی قابلیت کو اپنی شناخت بنا لیا۔
ایک ایسے نوجوان کا سفر، جس نے 2012 میں ایک نئی یونیورسٹی کے پہلے بیچ سے تعلیم شروع کی، 21 فارغ التحصیل طلبہ میں شامل ہوا، پھر ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور دو پوسٹ ڈاکٹریٹ تک پہنچا اور آج عالمی سطح پر نمایاں سائنس دانوں میں شمار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی داستان شاید صرف ایک فرد کی کامیابی کی کہانی نہیں۔ یہ لیاری کے نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ آغاز چاہے کہیں سے بھی ہو، منزل کا تعین انسان کی قابلیت، محنت اور مسلسل سیکھنے کی خواہش کرتی ہے۔
یہ کہانی اس لیے بھی اہم ہے کہ کامیابی کے اصل کردار اکثر انہی گلیوں سے نکلتے ہیں جنہیں دنیا صرف مسائل کے نام سے جانتی ہے۔
لیاری نے ڈاکٹر عبداللہ ایوب کو صرف ایک طالب علم نہیں دیا، بلکہ ایک ایسا سائنس دان دیا جس نے آج عالمی علمی دنیا میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
یہ ہے لیاری سے عالمی سائنس کی دنیا تک ڈاکٹر عبداللہ ایوب کی داستان۔

