Tag: ڈاکو

  • 11 مئی 1991جب دادو کے قریب ڈاکووں نے تین چینی انجینئروں کو اغوا کر لیا

    11 مئی 1991جب دادو کے قریب ڈاکووں نے تین چینی انجینئروں کو اغوا کر لیا

    یہ آج سے پینتیس سال پہلے کے ان دنوں کا قصہ ہے، جب جام صادق علی سندھ کے طاقتور وزیر اعلیٰ تھے اور صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت سندھ کے بااختیار وزیر داخلہ تھے۔ انہی دنوں 11 مئی 1991 کو صبح ساڑھے نو بجے ضلع دادو میں انڈس ہائی وے پر بھان سید آباد اور مناہیوں روڈ کے درمیان ڈاکووں کے ایک گروہ نے، جس کی قیادت بدنام ڈاکو لطیف چانڈیو اور اسحاق منگنہار کر رہے تھے، پاکستان اور چین کے مشترکہ تعاون سے جامشورو سے گڈو اور کوٹ ادو ملتان تک واپڈا کی ہائی پاور ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر کام کرنے والے تین چینی انجینئروں، لی چنگ، ژو زنگ اور ڈائی شی یو کو اس وقت مقامی ڈرائیور سمیت اغوا کر لیا، جب وہ پجیرو گاڑی میں جامشورو سے دادو کی طرف جا رہے تھے۔

    ڈاکو آگے جا کر ڈرائیور کو ایس ایس پی دادو اختر جانوری کے نام ایک خط دے کر روانہ کر گئے، جس میں ڈی آئی جی حیدرآباد رینج سلیم اختر صدیقی اور ایس ایس پی دادو اختر جانوری کو چیلنج دیا گیا تھا کہ ہم دن دہاڑے چینی انجینئروں کو اغوا کر کے خیری دیری کے جنگل کی طرف جا رہے ہیں، اگر تم میں ہمت ہے تو آ کر ہمارا مقابلہ کرو۔

    ڈاکو لطیف چانڈیو اور اسحاق منگنہار کے گروہ نے بعد میں چینی انجینئروں کو بدنام ڈاکو لائق چانڈیو کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس واقعے پر چینی حکومت نے پاکستان حکومت کے سامنے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں جاری اپنے منصوبے بند کرنے کی دھمکی دی۔ اس صورتحال نے اسلام آباد میں بیٹھے پاکستانی حکمرانوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا، اور صدر غلام اسحاق خان نے سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی سے رابطہ کر کے ہر صورت اغوا شدہ تینوں چینی انجینئروں کی زندہ اور محفوظ بازیابی پر زور دیا۔

    اس کے بعد سندھ کے وزیر اعلیٰ جام صادق علی اور وزیر داخلہ عرفان اللہ مروت سرگرم ہو گئے۔ ڈی آئی جی حیدرآباد رینج سلیم اختر صدیقی اور دیگر اداروں کو ڈاکووں کے ٹھکانے کی خبر مل چکی تھی کہ ڈاکو مغوی چینی انجینئروں سمیت خیری دیری کے جنگل سے کیٹی جتوئی کی طرف چلے گئے ہیں، لیکن مغوی انجینئروں کی جان کو لاحق خطرات کے باعث آپریشن سے گریز کیا گیا۔

    ڈاکووں نے ابتدا میں بھاری بھتہ طلب کیا۔ بعد میں انہوں نے کروڑوں روپے تاوان کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ 30 ستمبر واقعہ کیس کے قیدیوں، ڈاکٹر قادر مگسی، قاضی ہمایوں، ڈاکو جانو آرائیں، حسن چانڈیو، عالمون چولیانی اور دیگر کے ساتھ سندھ کی مختلف جیلوں میں الذوالفقار تنظیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کے ایک دوست مجیب لغاری کو سندھ پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کیا جائے اور انہیں دس کروڑ روپے تاوان بھی دیا جائے۔

    ساتھ ہی مئی کی شدید گرمی کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ کہیں چینی انجینئر مر نہ جائیں، اس لیے ان کی بازیابی تک انہیں آرام دہ ماحول میں رکھنے کا مناسب انتظام کیا جائے۔ ڈاکووں کے ان مطالبات اور چینی حکومت کی دھمکی کے بعد جام صادق علی اور وزیر داخلہ عرفان اللہ مروت مزید متحرک ہو گئے۔

    کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے پیارو گوٹھ شوگر مل دادو سے ہیوی جنریٹر، ایئرکنڈیشنر، ڈش ٹی وی وغیرہ کیٹی جتوئی پہنچائے گئے اور وہاں ایک ریسٹ ہاؤس میں ڈاکووں کو یہ تمام سہولیات فراہم کی گئیں۔ پولیس کو تو پہلے ہی دن ڈاکووں کے ٹھکانے کا پتا چل گیا تھا، مگر سندھ حکومت نے مغویوں کی بازیابی کے لیے پہلے سائیں جی ایم سید کے فرزند سید امیر حیدر شاہ، چانڈیو قبیلے کے سردار نواب احمد سلطان چانڈیو، ڈاکو لائق چانڈیو کے مرشد پیر سید روشن علی شاہ آف رانی پور، سید ستابو شاہ اور نبن خان لنڈ سے رابطہ کیا اور ان سے چینی انجینئروں کی محفوظ بازیابی میں مدد طلب کی۔

    سید امیر حیدر شاہ نے اس معاملے میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ جب لائق چانڈیو کے مرشد پیر سید روشن شاہ آف رانی پور جنگل میں جا کر اس سے ملے تو لائق چانڈیو نے اپنے مرشد سے صرف اتنا کہا:

    ‘آپ ہمارے مرشد ہیں، آپ کی عزت ہے۔ آپ کی خاطر وعدہ ہے کہ مغوی چینی انجینئروں کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، لیکن انہیں تاوان کے بغیر آزاد نہیں کیا جائے گا۔’

    ڈاکووں کا یہ جواب سن کر پیر سید روشن علی شاہ خالی ہاتھ واپس آ گئے۔

    دوسرے مرحلے میں جام صادق علی حکومت نے چانڈیو قبیلے کے سردار نواب احمد سلطان چانڈیو کو راضی کیا کہ وہ جا کر ڈاکووں سے بات کریں۔ سندھ حکومت نے نواب احمد سلطان چانڈیو کو ایک ‘شوفر’ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈاکووں کے پاس بھیجا۔ ان کے ہیلی کاپٹر کے لیے جنگل میں ہیلی پیڈ بنایا گیا، اور وہ آخرکار کیٹی جتوئی پہنچ گئے۔

    نواب احمد سلطان چانڈیو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لائق چانڈیو اور اس کے ساتھی کیٹی جتوئی میں واقع ایک بہترین ایئرکنڈیشنڈ ریسٹ ہاؤس میں مغوی چینی انجینئروں سمیت بڑی شان و شوکت سے مزے میں بیٹھے تھے۔ ہیوی جنریٹروں پر ایئرکنڈیشنر اور سیٹلائٹ ٹی وی چل رہے تھے۔ ڈاکو لائق چانڈیو اور اس کے ساتھیوں نے نواب احمد سلطان چانڈیو کا بھرپور استقبال کیا۔

    نواب احمد سلطان چانڈیو نے چار دن تک کیٹی جتوئی میں ڈاکووں سے مذاکرات کیے۔ آخرکار لائق چانڈیو نے ان سے کہا:

    ‘آپ ہمارے بزرگ ہیں، ہم آپ کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجیں گے۔ تین مغویوں میں سے ایک مغوی آپ کو دے دیتے ہیں، باقی دو تاوان کے بغیر آزاد نہیں ہوں گے۔’

    یہ جواب سن کر نواب احمد سلطان چانڈیو غصے میں خالی ہاتھ ہیلی کاپٹر پر کراچی واپس چلے گئے، اور وہاں پہنچ کر ایک پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی حیدرآباد سلیم اختر صدیقی اور دادو پولیس پر شدید تنقید کی، اور واضح کہا کہ ڈاکو جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر جنگل میں عیش کر رہے ہیں۔

    نوابوں، پیروں اور مرشدوں کے علاوہ ایک خفیہ ادارے کے افسران بھی ڈاکووں سے رابطے میں تھے۔ اس کے بعد رئیس نبن خان لنڈ، چند سیدوں، پولیس افسروں، مقامی وڈیروں اور اداروں کے نمائندوں کے ذریعے ڈاکووں سے مذاکرات کیے گئے۔

    ڈاکووں کی تین شرائط مان لی گئیں:

    1۔ تاوان ادا کیا جائے گا۔
    2۔ ان کے ساتھی مجیب لغاری کو سندھ پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کیا جائے گا۔
    3۔ جنگل میں مغوی چینی انجینئروں کی بازیابی کے بعد کوئی آپریشن نہیں کیا جائے گا اور ڈاکووں کو محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

    البتہ 30 ستمبر کیس اور الذوالفقار کے الزام میں قید افراد کو رہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ عدالتی معاملہ تھا۔

    دوسری طرف جام صادق علی نے اسلام آباد میں حکمرانوں کو بتایا کہ ڈاکو دس کروڑ روپے مانگ رہے ہیں۔ چین سے متاثر ہونے والے تعلقات کی خاطر انہیں کہا گیا کہ جتنے بھی پیسے دینے پڑیں، دے دو، مگر اغوا شدہ چینی انجینئر زندہ بازیاب ہونے چاہئیں۔

    کہا جاتا ہے کہ مرحوم جام صادق علی اور عرفان اللہ مروت نے اس رقم میں سے آدھا حصہ خود رکھ لیا، جبکہ باقی پانچ کروڑ مذاکرات کرنے والوں کو دیے گئے۔ ان پانچ کروڑ میں سے بھی رئیس نبن خان لنڈ، دیگر درمیانی وڈیروں اور پولیس والوں نے اپنی کمیشن کاٹ لی، اور صرف دو کروڑ روپے ڈاکو لائق چانڈیو کے گروہ کو دیے گئے، جن میں سے بھی آدھے سے زیادہ نوٹ جعلی نکلے۔

    ڈاکووں کے مطالبے پر نوجوان مجیب لغاری کو سندھ پولیس میں اے ایس آئی بھی بنایا گیا، جو کئی سال پولیس میں رہا، پھر طبعی موت مر گیا۔ مصنف کے مطابق مرحوم مجیب لغاری ان کے دوست تھے اور ان کے ساتھ کئی نشستیں رہی تھیں۔

    اطلاعات کے مطابق ڈاکووں سے مذاکرات میں ملک کے ایک خفیہ ادارے کے افسران بھی شامل تھے۔ آخر پچیس دن کے طویل ڈرامے کے بعد 4 جون 1991 کو نبن خان لنڈ اور پیر پگارا کے خاص نمائندے خان محمد مہر، کیٹی جتوئی سے تینوں مغوی چینی انجینئروں کو زندہ سلامت لے آئے اور انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔

    مغویوں کی رہائی کے بعد جب ڈاکووں کو جعلی نوٹوں کا پتا چلا تو وہ نبن خان لنڈ پر ناراض ہوئے، مگر نبن خان ملک سے باہر چلا گیا۔ بعد میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کے ڈاکووں اور دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران لائق چانڈیو ایک کارروائی میں مارا گیا۔

    لائق چانڈیو کے مارے جانے کے بعد نبن خان لنڈ واپس گاؤں آ گیا۔ نبن خان لنڈ 1988 کے انتخابات میں پی ایس 61 دادو سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 19551 ووٹ لے کر ایم پی اے منتخب ہوا تھا۔ مصنف کے مطابق ان کی ملاقات نبن خان لنڈ سے مرحوم امیر علی نے کروائی تھی، جب وہ ابھی ایم پی اے بھی نہیں بنا تھا۔

    اس کا تکیہ کلام ‘ون ڌک کریس’ چینی انجینئروں کے اغوا کے واقعے کے بعد ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں مشہور ہوا۔ زندگی کے آخری دنوں میں نبن خان لنڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسے اپنے ہی بیٹوں سے جان کا خطرہ ہے اور انہوں نے اس کی جائیداد پر قبضہ کر لیا ہے۔

    ایسے خاندانی جھگڑوں اور بیماریوں سے لڑتے ہوئے آخرکار 23 جون 2021 کو نبن خان لنڈ اس فانی دنیا سے رخصت ہو گیا۔