بحرِ ہند کے کنارے آباد یہ عظیم الشان میٹروپولیٹن شہر کراچی صرف ساحلی تجارت، بحری تاریخ اور بندرگاہوں کا شہر نہیں، بلکہ یہ آئین، انصاف اور نوآبادیاتی طاقت کے درمیان ہونے والے ان گنت معرکوں کا خاموش گواہ بھی ہے۔
کیماڑی کی لہروں سے ذرا پرے، موجودہ کورٹ روڈ پر واقع جودھ پور کے سرخ پتھروں سے تراشی گئی وہ باوقار اور تاریخی عمارت، جو آج ‘ہائی کورٹ آف سندھ’ کے نام سے جانی جاتی ہے، اپنے اندر ایک صدی پر محیط قانون، قانون شکنی اور آئینی ارتقا کے پُرپیچ قصے سمیٹے ہوئے ہے۔
1839 میں انگریزوں کے غاصبانہ قبضے کے بعد، جب کراچی کو برطانوی ہند کا معاشی دروازہ بنانے کا عمل شروع ہوا، تو اس نوآبادیاتی نظام کو چلانے اور اس کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ایک عدالتی ڈھانچے کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا۔
برطانوی اقتدار، عدالتی ارتقا اور عمارت کا سنگِ بنیاد
سندھ میں برطانوی عدالتی نظام کی رسمی شروعات 1866 کے ‘سندھ جوڈیشل کورٹ ایکٹ’ کے تحت ‘جوڈیشل کمشنر کی عدالت’ سے ہوئی، جس کا مقصد انتظامی اور تجارتی تنازعات کو نمٹانا تھا۔
تاہم، 1920 کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے، جب کراچی پورٹ کے راستے بین الاقوامی تجارت نے وسعت اختیار کی اور شہر میں قانونی و معاشی سرگرمیاں عروج پر پہنچیں، تو ایک باقاعدہ اور شاندار اعلیٰ عدالت کی ضرورت محسوس کی گئی۔
3 نومبر 1923 کو بمبئی کے گورنر سر لیسلی ولسن نے موجودہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اطالوی نشاۃ ثانیہ کے طرزِ تعمیر پر مبنی یہ عمارت تقریباً 6 سال کے طویل عرصے میں 26 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے مکمل ہوئی۔ 22 نومبر 1929 کو اس شاندار چیف کورٹ کا افتتاح ہوا۔
عمارت کے بیرونی حصے پر کراچی کے مقامی ‘گیزری’ کے پیلے سندھی پتھر، یونانی طرز کے کورینتھین اور ڈورک ستون اور اوپری حصے پر بنے سرخ ٹائلوں والے گنبد اس کے معماری شاہکار ہونے کا پُروقار اعلان کرتے تھے۔
بعد ازاں، 1936 میں جب سندھ کو بمبئی پریسیڈنسی سے الگ کر کے ایک مستقل صوبہ بنایا گیا، تو 1906 کے جوڈیشل ایکٹ میں ترمیم کر کے اسے باقاعدہ ‘چیف کورٹ آف سندھ’ کا عدالتی و آئینی درجہ دے دیا گیا۔

انصاف کا بنچ: برطانوی جج، مقامی دانش اور پہلا مسلم جج
چیف کورٹ آف سندھ کا عدالتی بنچ اپنے آپ میں ایک انوکھا اور تاریخی تنوع رکھتا تھا، جہاں برطانوی بیرسٹرز، ہندو قانونی ماہرین، پارسی قانون دان اور مسلم وکلا عدالتی نظام کا حصہ تھے۔
سر گوڈفرے ڈیوس
سر گوڈفرے ڈیوس چیف کورٹ آف سندھ کے پہلے باقاعدہ چیف جج مقرر ہوئے۔ انہوں نے 1935 سے لے کر قیامِ پاکستان کے بعد 1948 تک اس اعلیٰ منصب پر خدمات انجام دیں۔ وہ برطانوی قانونی نظام کے ساتھ ساتھ مقامی روایات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔
جسٹس روپ چند بیلارام
جسٹس روپ چند بیلارام سندھ کی عدالتی تاریخ کے اہم مقامی ہندو ججوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ تجارتی قوانین، زمینوں کے تنازعات اور کسٹمز کے معاملات میں اپنے فیصلوں کے لیے برطانوی ہند میں معروف تھے۔
جسٹس حاتم بی بدرالدین طیب جی
ممبئی کے نامور طیب جی خاندان سے تعلق رکھنے والے یہ روشن خیال قانونی ماہر چیف کورٹ آف سندھ کے پہلے مسلم جج بننے کے اعزاز سے سرفراز ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948 میں وہ سر گوڈفرے کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف کورٹ کے چیف جج بھی بنے۔
اس دور میں عدالت کے انتظامی اور دفتری امور کو سنبھالنے کے لیے رجسٹرار کا عہدہ انتہائی اہم ہوتا تھا۔ 1936 میں بمبئی سے عدالتی ریکارڈ اور دستاویزات کی منتقلی کے دوران انگریز آئی سی ایس افسران اور مقامی ڈسٹرکٹ ججز نے بطور رجسٹرار فرائض انجام دیے، تاکہ نوخیز صوبے کی عدالت کا انتظامی ڈھانچا مربوط رہے۔
قانون کی دنیا کے تاریخی معرکے: استعماری طاقت اور شمشیرِ عدل کے درمیان کشمکش
چیف کورٹ آف سندھ پر تاریخ دانوں اور ناقدین کا اکثر یہ اعتراض رہا ہے کہ یہ نوآبادیاتی طاقت کا ایک اوزار تھی، لیکن اس کے برعکس عدالت کے بعض فیصلوں سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ججوں نے برطانوی بیوروکریسی، پولیس اور نوآبادیاتی حکمرانوں کے اقدامات کو قانون کی کسوٹی پر پرکھا اور بعض مواقع پر حکومت کے خلاف فیصلے صادر کیے۔

پیر پگاڑا اور حر تحریک کا المیہ
حر تحریک کے قائد سید صبغت اللہ شاہ راشدی، پیر پگاڑا ثانی، کے خلاف برطانوی حکومت نے تحریک کو کچلنے کے لیے سندھ کے بعض علاقوں میں سخت اقدامات کیے۔ ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور بغاوت کے الزام میں 20 مارچ 1943 کو انہیں پھانسی دی گئی۔ چیف کورٹ آف سندھ اس دور میں عدالتی اور آئینی معاملات کا ایک اہم فورم تھی، جہاں ریاستی اقدامات کے خلاف قانونی سوالات اٹھائے جاتے تھے۔
برطانوی انتظامیہ کے خلاف زمینوں کی ضبطی
1930 کی دہائی میں جب نوآبادیاتی حکومت نے بندرگاہ اور ملٹری کینٹ کی توسیع کے نام پر مقامی شہریوں کی املاک حاصل کرنے کی کوشش کی، تو عدالت میں زمینوں کے حصول اور معاوضے سے متعلق مقدمات بھی زیرِ سماعت آئے۔ ان مقدمات میں شہریوں کے ملکیتی حقوق اور ریاست کے اختیارات کے درمیان توازن کا سوال اہم رہا۔
پولیس کے صوابدیدی اختیارات اور پریس کی آزادی
چیف کورٹ آف سندھ میں ‘ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ’ کے تحت گرفتاریوں، حبسِ بے جا اور انتظامی احکامات سے متعلق مقدمات بھی زیرِ سماعت رہے۔ اسی طرح پریس پر پابندیوں اور نوآبادیاتی انتظامیہ کے اختیارات سے متعلق قانونی تنازعات بھی عدالت تک پہنچے۔ ان مقدمات نے شہری آزادیوں، انتظامی اختیارات اور قانون کی حکمرانی کے سوالات کو نمایاں کیا۔
جمشید نصروانجی اور کے ایم سی کے اختیارات کا تحفظ
کراچی کے معروف میئر جمشید نصروانجی مہتا کی قیادت میں جب میونسپلٹی نے شہر کی صفائی، شہری سہولتوں اور عوامی مقامات سے متعلق اپنے اختیارات کے لیے نوآبادیاتی انتظامیہ سے اختلاف کیا، تو بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور حکومت کی مداخلت کا معاملہ بھی قانونی تنازعات کا حصہ بنا۔

سندھ چیف کورٹ کی بیرونی دیوار کے ساتھ گاندھی جی کا مجسمہ
8 جولائی 1934 کو کراچی کی تاجروں کی تنظیم ‘کراچی انڈین مرچنٹس ایسوسی ایشن’ نے گاندھی جی کے ہاتھوں ان کے مجسمے کی نقاب کشائی کرائی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی ایک عرصے تک یہ مجسمہ وہاں نصب رہا۔
نوآبادیاتی نقشِ پا سے سندھ ہائی کورٹ کا سفر
1947 میں آزادی کے بعد، جب کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت بنا، تو یہی چیف کورٹ ملک کے اہم قانونی مراکز میں شامل ہو گئی۔ جب ملک میں ون یونٹ کا نفاذ ہوا، تو 1955 میں یہ عمارت ‘مغربی پاکستان ہائی کورٹ، کراچی بنچ’ کا حصہ بن گئی۔ بعد ازاں جولائی 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے پر اسے باقاعدہ ‘ہائی کورٹ آف سندھ’ کا نام دیا گیا۔
سندھ کلچرل ہیریٹیج پروٹیکشن ایکٹ 1994 کے تحت اب یہ عمارت صوبے کے محفوظ تاریخی ورثے کا حصہ ہے۔ وقت کی ضرورت کے تحت اس کی اصل تاریخی ساخت کے عقب میں 1974 میں جدید ‘اینیکس بلاک’ بھی تعمیر کیا گیا، لیکن سرخ پتھر کی وہ مرکزی عمارت، قدآور ستون اور ساگوان کی لکڑی سے سجے ہال آج بھی برطانوی ہند کے عدالتی وقار اور نوآبادیاتی سندھ کے تنازعات کی گواہی دیتے ہیں۔
کراچی پورٹ کی مٹی اور ‘گھاس بندر’ کی لہروں سے لے کر چیف کورٹ کی کارروائیوں تک، سندھ کی تاریخ صرف فاتحین کے بیانیے پر مبنی نہیں، بلکہ یہ ان ججوں، وکیلوں اور عام انسانوں کا بھی لوک حافظہ ہے جنہوں نے استعماری راج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قانون اور صداقت کا علم بلند رکھا۔

