Tag: چائلڈ لیبر

  • سندھ میں بڑھتی ہوئی چائلڈ لیبر: بچپن کے خوابوں پر محنت کی دھول

    سندھ میں بڑھتی ہوئی چائلڈ لیبر: بچپن کے خوابوں پر محنت کی دھول

    سندھ میں پانچ سے 17 سال عمر کے 16 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر یا کم عمری کی مزدوری کا شکار ہیں۔ یہ انکشاف سندھ چائلڈ لیبر سروے 2022-24 میں کیا گیا ہے۔ صوبائی محکمہ محنت کی جانب سے یونیسیف اور سندھ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تکنیکی تعاون سے کیے گئے اس سروے کے مطابق 10 سے 17 سال عمر کے مزدوری کرنے والے بچوں میں سے نصف سے زائد، یعنی 50.4 فیصد، خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔ ان بچوں کو طویل اوقاتِ کار، شدید موسمی حالات اور غیر محفوظ آلات کے استعمال کا سامنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 1996 کے مقابلے میں سندھ میں چائلڈ لیبر کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس میں تقریباً 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان کے پہلے اور اب تک کے واحد قومی چائلڈ لیبر سروے، جو 1996 میں کیا گیا تھا، کے مطابق اس وقت سندھ میں بچوں کی کل آبادی کا 20.6 فیصد مزدوری میں مصروف تھا۔

    سروے کے مطابق مزدوری کرنے والے بچوں میں اسکول جانے کی شرح صرف 40.6 فیصد ہے، جبکہ غیر مزدور بچوں میں یہ شرح 70.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکول جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی آتی جاتی ہے۔

    پاکستان میں چائلڈ لیبر یا کم عمری میں مزدوری ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو اسکول جانے، کھیلنے اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے کے بجائے کھیتوں، ورکشاپوں، کارخانوں، دکانوں، گھروں اور دیگر خطرناک کاموں میں مصروف ہیں۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی سہولیات کی کمی اور سماجی ناہمواری اس مسئلے کی بڑی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریباً 33 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ یہ بچے اپنی تعلیم، صحت اور بچپن کے بنیادی حقوق سے محروم ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب کوئی بچہ کم عمری میں مزدوری شروع کرتا ہے تو اس کے لیے غربت کے دائرے سے نکلنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

    دیہی علاقوں میں چائلڈ لیبر کی تشویشناک صورتحال

    پاکستان میں چائلڈ لیبر کا مسئلہ زیادہ تر غریب اور دیہی علاقوں میں نمایاں ہے۔ بہت سے والدین معاشی مجبوریوں کے باعث بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کام پر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں بچے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کم عمری میں ہی مزدوری شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم سے محرومی اور چائلڈ لیبر کا آپس میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔

    سندھ میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ماضی میں کیے گئے سرویز سے معلوم ہوا تھا کہ صوبے کے تقریباً 10 فیصد بچے چائلڈ لیبر میں شامل تھے، تاہم حالیہ سروے نے ظاہر کیا ہے کہ مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے اور لاکھوں بچے اس مسئلے سے متاثر ہیں۔

    بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی رہنما کاشف بجیر کہتے ہیں، ’’سندھ میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے قانون تو موجود ہے، مگر ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ لاکھوں بچے گھروں، دکانوں، ورکشاپوں اور کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔‘‘

    انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی ایکٹ 2011 منظور کیا تھا۔ قانون کے مطابق صوبائی حکومت کو یہ اتھارٹی قانون کے نفاذ کے 60 روز کے اندر قائم کرنا تھی، تاہم یہ اتھارٹی تاحال مکمل طور پر فعال اور مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکی۔

    ریسرچ کے مطابق سندھ کے دیہی علاقوں میں چائلڈ لیبر کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ غربت، کم شرحِ تعلیم، والدین کی ناخواندگی اور روزگار کے محدود مواقع بچوں کو مزدوری کی طرف دھکیلنے والے اہم عوامل ہیں۔ بعض اضلاع میں یہ مسئلہ زیادہ شدت سے موجود ہے، جہاں بڑی تعداد میں بچے کھیتی باڑی، مویشی پالنے، چھوٹے کاروباروں اور غیر رسمی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔

    چائلڈ لیبر صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان کے آئین میں بچوں کو تعلیم کا حق دیا گیا ہے، جبکہ مختلف قوانین کم عمر بچوں سے مشقت لینے پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ اس کے باوجود قوانین پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ بدستور موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس پر مؤثر اور سخت عمل درآمد بھی ضروری ہے تاکہ بچوں کو استحصال سے بچایا جا سکے۔

    سندھ چائلڈ لیبر سروے کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس نے حکومت کو تازہ اور مستند اعداد و شمار فراہم کیے ہیں، جن کی بنیاد پر بہتر پالیسیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق درست اعداد و شمار کسی بھی مسئلے کے حل کی پہلی شرط ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس سروے کو چائلڈ لیبر کے خلاف جاری جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی، صنعت کاروں اور مقامی کمیونٹیز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایسے بچوں کو اسکول واپس لانے، فنی تربیت فراہم کرنے اور غریب خاندانوں کی معاشی مدد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچے مزدوری کے بجائے تعلیم حاصل کر سکیں۔

    عالمی سطح پر اگرچہ چائلڈ لیبر میں کمی دیکھی گئی ہے، لیکن دنیا بھر میں اب بھی کروڑوں بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ، یونیسیف اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ تازہ عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی تقریباً 13 کروڑ 80 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔

    پاکستان اور خصوصاً سندھ کے لیے یہ صورتحال سنجیدہ اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر بچوں کو معیاری تعلیم، محفوظ ماحول اور بہتر معاشی مواقع فراہم کیے جائیں تو چائلڈ لیبر میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کا بچپن محفوظ بنانا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    سندھ چائلڈ لیبر سروے نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ لاکھوں بچے آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور سماجی ادارے مل کر ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور روشن مستقبل کا حق حاصل ہو سکے۔ جب تک بچوں کے ہاتھوں سے اوزار لے کر انہیں کتاب نہیں دی جائے گی، تب تک ترقی اور خوشحالی کا خواب مکمل نہیں ہو سکے گا۔