Tag: پی ایم ڈی سی

  • پی ایم ڈی سی کی 1,400 اضافی نشستوں میں سندھ نظرانداز، وفاقی ملازمتوں میں تاریخی استحصال کی داستان

    پی ایم ڈی سی کی 1,400 اضافی نشستوں میں سندھ نظرانداز، وفاقی ملازمتوں میں تاریخی استحصال کی داستان

    پاکستان میں وفاقی وسائل، روزگار، تعلیم اور مواقع کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ محض اعداد و شمار کا سوال نہیں، بلکہ وفاق کی وحدت، صوبائی برابری اور شہریوں کے اعتماد سے براہِ راست جڑا ہوا موضوع ہے۔

    جب کسی صوبے کی نوجوان نسل یہ محسوس کرنے لگے کہ قومی سطح پر پیدا ہونے والے نئے مواقع میں اس کا حصہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے تو یہ بے چینی رفتہ رفتہ ایک انتظامی شکایت سے بڑھ کر سماجی اور سیاسی احساسِ محرومی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

    30 ستمبر 2026 کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، یعنی پی ایم اینڈ ڈی سی، نے سرکاری شعبے کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے لیے 1,400 اضافی نشستوں کی منظوری دی۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کی وضاحت کے مطابق یہ اضافی نشستیں پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے سرکاری اداروں کے لیے منظور کی گئی ہیں، جبکہ سندھ کا نام اس فہرست میں شامل نہیں۔

    کونسل کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد قومی ضرورت، طبی تعلیم تک زیادہ رسائی اور محروم علاقوں کے اہل طلبہ کے لیے مواقع بڑھانا ہے۔

    یہاں پہلی بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ 1,400 ملازمتیں نہیں بلکہ میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کی اضافی نشستیں ہیں۔ تاہم سندھ کے لیے اس معاملے کی اہمیت کم نہیں ہوتی، کیونکہ سرکاری میڈیکل نشستیں ریاستی تعلیمی وسائل اور مستقبل میں ڈاکٹروں کی تیاری سے براہِ راست وابستہ ہیں۔

    سندھ کا نام نہ ہونے کا احساس

    30 ستمبر کے اعلان سے قبل ہی 10 اگست 2026 کو قومی اسمبلی کی صحت سے متعلق قائمہ کمیٹی نے میڈیکل کالجز کی خالی نشستوں، فیسوں اور سرکاری میڈیکل نشستوں میں اضافے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا تھا۔ اس اجلاس میں پی ایم اینڈ ڈی سی نے بتایا تھا کہ مختلف مقامات پر اضافی نشستیں معائنے کے بعد منظور ہو چکی ہیں، جن میں پنجاب، سابق فاٹا اور بلوچستان شامل تھے۔ سندھ کی صورتحال بھی خاص طور پر زیرِ بحث آئی اور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ نمائندوں کے ساتھ الگ اجلاس کر کے سندھ میں سرکاری میڈیکل نشستوں میں اضافے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    لیکن اس کے بعد 30 ستمبر کو جب 1,400 اضافی نشستوں کا اعلان ہوا تو سندھ اس اعلان میں شامل نہیں تھا۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کی جاری کردہ وضاحت میں بھی ان نشستوں کو پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سے منسوب کیا گیا۔

    ایسی صورتحال میں سندھ کے طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کو محض جذباتی ردعمل قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ خاص طور پر اس لیے کہ سندھ میں بھی سرکاری میڈیکل تعلیم کا وسیع ڈھانچہ موجود ہے۔ چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ، غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر، خیرپور میڈیکل کالج، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز اور دیگر ادارے سندھ کی طبی تعلیم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے موجود ہیں۔

    لہٰذا اضافی سرکاری نشستوں کے قومی منصوبے میں سندھ کا مکمل طور پر غیر موجود ہونا، خاص طور پر اس وقت جب ملک میں میڈیکل تعلیم کے مواقع بڑھانے کی بات کی جا رہی ہو، پالیسی کی شفافیت اور صوبائی برابری کے حوالے سے سنجیدہ غور کا متقاضی ہے۔

    اسی کے ساتھ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ 1,400 میڈیکل نشستوں کو وفاقی ملازمتوں کے صوبائی کوٹے کے ساتھ براہِ راست ایک جیسا نہ سمجھا جائے۔ وفاقی سرکاری ملازمتوں کے لیے صوبائی اور علاقائی کوٹہ ایک الگ قانونی اور انتظامی نظام کے تحت چلتا ہے، جبکہ میڈیکل کالجز کی نشستیں اداروں کی گنجائش، پی ایم اینڈ ڈی سی کے معائنے، انفراسٹرکچر، تدریسی عملے، ہسپتالوں کی سہولیات اور دیگر ریگولیٹری معیار سے بھی وابستہ ہوتی ہیں۔

    لیکن یہ فرق سندھ کے بنیادی حق کے سوال کو ختم نہیں کرتا۔ اگر قومی سطح پر طبی تعلیم کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں تو ان کی تقسیم کے معیار واضح، قابلِ جانچ اور تمام صوبوں کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ اگر کسی صوبے کو اضافی نشستوں سے باہر رکھا جاتا ہے تو اس کی وجہ بھی واضح پالیسی اور دستاویزی معیار کے ذریعے بیان کرنا ضروری ہے۔

    وفاقی ملازمتوں میں سندھ کی شکایت: محض تاثر نہیں

    وفاقی ملازمتوں میں سندھ کی نمائندگی سے متعلق شکایت کو تاریخی پس منظر سے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں۔ وفاقی حکومت کی سروسز کے لیے صوبائی اور علاقائی کوٹے کا موجودہ بنیادی ڈھانچہ سندھ کو مجموعی طور پر 19 فیصد حصہ دیتا ہے۔ اس 19 فیصد میں سے 7.6 فیصد سندھ کے شہری علاقوں اور 11.4 فیصد سندھ کے دیہی علاقوں کے لیے مختص ہے۔

    وفاقی کوٹے کی سرکاری دستاویز میں پنجاب کے لیے 50 فیصد، خیبرپختونخوا کے لیے 11.5 فیصد، بلوچستان کے لیے 6 فیصد، نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے تین فیصد، گلگت بلتستان کے لیے 1 فیصد اور آزاد کشمیر کے لیے 2 فیصد حصے بھی درج ہیں۔

    اس سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے: وفاق خود ایک انتظامی اصول کے طور پر صوبائی اور علاقائی نمائندگی کے تصور کو تسلیم کر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی ملازمت میں صوبائی حصہ کسی صوبے پر احسان نہیں بلکہ مقررہ انتظامی حق اور نمائندگی کا حصہ ہے۔

    اس نظام کا مقصد ہی یہ تھا کہ پاکستان جیسے کثیرالصوبائی وفاق میں تمام علاقوں کو وفاقی اداروں میں مناسب نمائندگی ملے اور کسی ایک علاقے کی معاشی، تعلیمی یا انتظامی برتری کے باعث دوسرے علاقے مستقل طور پر پیچھے نہ رہ جائیں۔

    سندھ کی وفاقی روزگار کے حوالے سے موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے 6 جولائی 2026 کی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی کارروائی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سینیٹ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق وفاقی حکومت میں تقریباً 275,000 خالی آسامیوں پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔

    اسی اجلاس میں کمیٹی کے سامنے یہ بھی پیش کیا گیا کہ سندھ کے حصے میں تمام پوسٹوں کو ملا کر کم از کم 83,000 آسامیوں کا شارٹ فال موجود ہے، جبکہ بلوچستان کے لیے یہ تعداد 27,000 بتائی گئی۔

    کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ صوبائی حصوں کی کمی کو دور کیا جائے اور اس سلسلے میں الگ سیل قائم کر کے عملی اقدامات کیے جائیں۔

    یہ اعداد و شمار خود بخود کسی عدالتی یا مکمل آزاد آڈٹ کا حتمی فیصلہ نہیں بن جاتے، لیکن ان کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ یہ کسی سیاسی جلسے یا اخباری الزام سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ، یعنی سینیٹ کی سرکاری کارروائی سے سامنے آئے ہیں۔

    اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ 24 جولائی 2026 کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی آن ڈیولوشن کی ذیلی کمیٹی نے دوبارہ وفاقی اداروں میں صوبائی نمائندگی اور کوٹے کا جائزہ لیا۔

    سینیٹ کی سرکاری پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو صوبائی نمائندگی میں موجودہ کمی دور کرنے، پرانے نوٹیفکیشنز میں موجود خامیوں کو درست کرنے اور صوبائی حصے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایات دیں۔

    اس سے قبل مارچ 2026 میں بھی سینیٹ کی ایک کمیٹی سندھ اور بلوچستان کی وفاقی ملازمتوں میں کم نمائندگی پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور وفاقی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ صوبائی کوٹہ بلا تاخیر پُر کیا جائے۔ سینیٹ کے سرکاری بیان میں اس حصے کو صوبوں کا ‘حق’ قرار دینے پر زور دیا گیا، نہ کہ کسی قسم کی رعایت۔

    یعنی 2026 میں سندھ کی وفاقی روزگار سے متعلق شکایت کو صرف سندھ کے سیاسی حلقوں کا روایتی دعویٰ سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ پارلیمانی سطح پر بھی صوبائی نمائندگی کی کمی کو سرکاری طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

    شکایت کی تاریخ بہت پرانی ہے

    وفاقی ملازمتوں میں سندھ کی نمائندگی سے متعلق احساسِ محرومی پاکستان کی تاریخ میں کوئی نیا موضوع نہیں۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں وفاقی سول سروس میں بعض علاقوں کی غیر معمولی بالادستی اور دوسرے علاقوں کی کم نمائندگی کے حوالے سے بحث موجود رہی۔ 1970 کی دہائی میں صوبائی اور علاقائی کوٹے کا نظام متعارف کرانے کا ایک اہم مقصد بھی نمائندگی کی اس کمی کو کم کرنا تھا۔

    پرانے سرکاری اعداد و شمار سے متعلق تحقیقی مواد میں بھی یہ ریکارڈ ملتا ہے کہ 1993 تک سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی نمائندگی یکساں نہیں تھی اور بعض شعبوں میں مقررہ کوٹے اور عملی نمائندگی کے درمیان واضح فرق موجود تھا۔ اس تاریخی پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کی نمائندگی سے متعلق شکایت اچانک پیدا ہونے والا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری بحث ہے۔

    اس کے ساتھ یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ وقت کے ساتھ صورتحال کے بعض پہلو بہتر بھی ہوئے ہیں۔ سندھ کے لیے 19 فیصد وفاقی کوٹہ موجود ہے، شہری اور دیہی علاقوں کی الگ نمائندگی رکھی گئی ہے، اور وفاقی ملازمتوں کے متعدد اشتہارات میں سندھ رورل اور سندھ اربن کے حصے عملی طور پر نظر آتے ہیں۔ وفاقی سرکاری ملازمتوں کے بعض حالیہ اشتہارات میں بھی سندھ رورل اور سندھ اربن کے لیے الگ نشستیں درج کی گئی ہیں۔

    اس لیے مکمل تصویر یہ نہیں کہ سندھ کو ہر وفاقی ملازمت سے محروم کر دیا گیا ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مقررہ حصے اور عملی نمائندگی کے درمیان جو فرق رہ جاتا ہے، اسے مسلسل ختم نہیں کیا گیا۔

    یہاں مسئلہ صرف کوٹہ مقرر کرنے کا نہیں۔ کوٹہ اس وقت نتائج دے سکتا ہے جب خالی آسامیوں کو بروقت پُر کیا جائے، صوبائی حصے درست طور پر مختص ہوں، ڈومیسائل کی تصدیق شفاف ہو، خالی رہ جانے والی کوٹہ نشستوں کو مناسب طریقے سے دوبارہ مشتہر کیا جائے اور وفاقی ادارے اپنی بھرتیوں کا صوبائی ریکارڈ باقاعدگی سے شائع کریں۔

    اسی لیے سینیٹ کی حالیہ کارروائی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کمیٹی نے صرف کوٹے کے اصول کی بات نہیں کی بلکہ خالی آسامیوں، صوبائی حصوں کے شارٹ فال اور سابقہ نوٹیفکیشنز میں موجود خامیوں کو درست کرنے پر بھی زور دیا۔

    وفاقی حکومت میں 275,000 خالی آسامیوں کا عدد بھی ایک الگ بڑا انتظامی مسئلہ ظاہر کرتا ہے۔ اگر پوسٹیں بجٹ میں موجود ہیں لیکن برسوں تک پُر نہیں ہوتیں تو اس کا اثر ان صوبوں پر زیادہ پڑتا ہے جو پہلے ہی وفاقی اداروں میں اپنی مقررہ نمائندگی سے کم ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔

    سندھ کے لیے تعلیم اور روزگار ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں

    میڈیکل کالجز کی اضافی نشستیں اور وفاقی ملازمتیں بظاہر دو الگ موضوعات ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے پیچھے ایک ہی بنیادی سوال موجود ہے: قومی وسائل اور مواقع تک تمام صوبوں کے نوجوانوں کی منصفانہ رسائی۔

    اگر سندھ کے سرکاری میڈیکل کالجز میں اضافی نشستیں پیدا کرنے کے لیے انفراسٹرکچر موجود ہے تو سندھ کو بھی قومی توسیعی پالیسی میں واضح جگہ ملنی چاہیے۔ اگر کسی مخصوص ادارے میں معیار، ہسپتال، فیکلٹی یا جگہ کی کمی ہے تو اسے بہتر بنانے کے لیے ہدف، بجٹ اور مدت مقرر کی جا سکتی ہے۔ صرف اس بنیاد پر ایک بڑے صوبے کو اضافی قومی تعلیمی مواقع کے مرحلے سے مکمل طور پر باہر رکھنا طویل مدتی صوبائی برابری کی روح سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔

    اسی طرح وفاقی ملازمتوں میں سندھ کے 19 فیصد حصے کا مطلب صرف اشتہار میں 19 فیصد لکھ دینا نہیں؛ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ عملی طور پر سندھ کے اہل نوجوانوں کو اپنے جائز حصے تک رسائی حاصل ہو۔

    سندھ کی سیاسی خاموشی بھی بحث کا حصہ ہے

    اس معاملے کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ سندھ کے تعلیمی اور روزگار کے حقوق کے حوالے سے اکثر بحث اس وقت شدت اختیار کرتی ہے جب نقصان سامنے آ چکا ہوتا ہے۔ قومی پالیسیوں کی تیاری کے دوران مسلسل نگرانی، اعداد و شمار جمع کرنا، وفاقی اداروں سے رابطہ اور پارلیمانی فورمز پر مستقل نمائندگی زیادہ مؤثر انداز میں ہونی چاہیے۔

    میڈیکل نشستوں کے معاملے میں 10 اگست کو قومی اسمبلی کی کمیٹی نے سندھ کی صورتحال پر الگ اجلاس کی ضرورت تسلیم کی تھی۔ 30 ستمبر کو 1,400 نشستوں کی منظوری کے بعد بھی سندھ اس اعلان کا حصہ نہ بن سکا۔ ایسی صورتحال میں سندھ حکومت، منتخب نمائندوں، میڈیکل یونیورسٹیوں اور تعلیمی ماہرین کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ دستاویزی بنیادوں پر سندھ کی ضرورت، موجودہ گنجائش اور اضافی نشستوں کے حق میں جامع کیس پیش کریں۔

    انصاف کا مطلب کسی دوسرے صوبے کا حصہ کم کرنا نہیں

    سندھ کے حق کی بات کرنے کا مطلب پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان یا کسی دوسرے علاقے کے طلبہ کے مواقع کم کرنا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کے ہر صوبے کے لیے مواقع کی ایسی منصفانہ اور شفاف تقسیم قائم کی جائے جس میں کسی کو محروم کر کے کسی دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

    پنجاب میں 475 نشستیں، خیبرپختونخوا میں 150 نشستیں اور بلوچستان و وفاقی علاقوں کے لیے باقی اضافی نشستوں کا انتظام اگر قومی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے تو یہی قومی ضرورت کا اصول سندھ کے لیے بھی لاگو ہونا چاہیے۔

    سندھ میں بھی ہزاروں ایسے طلبہ موجود ہیں جو سرکاری میڈیکل تعلیم کے اہل ہیں لیکن محدود نشستوں، بڑھتے ہوئے مقابلے اور نجی تعلیم کی مہنگی فیسوں کے باعث مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی خود کہتی ہے کہ مقصد محروم علاقوں کے اہل طلبہ کو ملک کے اندر طبی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں بیرونِ ملک جانے سے روکنا ہے۔ اگر یہ اصول واقعی قومی پالیسی کی بنیاد ہے تو اس کے نفاذ میں صوبائی برابری بھی لازمی حصہ ہونی چاہیے۔

    پاکستان کا وفاق صرف آئین، پارلیمنٹ یا نقشے کی سرحدوں سے مضبوط نہیں ہوتا؛ وفاق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے ہر صوبے کا نوجوان یہ محسوس کرے کہ ریاست کے مواقع اس کے لیے بھی کھلے ہیں۔

    سندھ کی وفاقی ملازمتوں سے متعلق شکایت میں تاریخی عناصر ضرور موجود ہیں، لیکن 2026 کی سینیٹ کی سرکاری کارروائی اس معاملے کو ایک موجودہ انتظامی مسئلے کے طور پر بھی سامنے لاتی ہے۔ 83,000 آسامیوں کا بتایا گیا شارٹ فال، 275,000 خالی وفاقی پوسٹیں اور صوبائی کوٹے کے عملی نفاذ سے متعلق پارلیمانی ہدایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاملہ صرف ماضی کی شکایت نہیں رہا۔

    اسی طرح پی ایم اینڈ ڈی سی کی 1,400 اضافی سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل نشستیں سندھ کے حوالے سے ایک نئی بحث کا دروازہ کھولتی ہیں۔ یہاں جذبات سے زیادہ دستاویزات، نعروں سے زیادہ اعداد و شمار اور الزامات سے زیادہ پالیسی کی شفافیت کی ضرورت ہے۔

    سندھ کو اپنے جائز حصے کے لیے کسی کی خیراتی نظر کی ضرورت نہیں۔ سندھ کو اپنے حصے کے لیے واضح معیار، شفاف اعداد و شمار، آئینی برابری اور عملی نفاذ کی ضرورت ہے۔

    وفاقی اداروں میں سندھ کی نمائندگی کا مطلب کسی صوبے کے خلاف مقابلہ نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو متوازن رکھنا ہے۔ میڈیکل تعلیم کی نشستیں ہوں یا وفاقی ملازمتیں، قومی وسائل کی تقسیم میں برابری کا احساس ہی وہ بنیاد ہے جس پر وفاقی اعتماد قائم رہ سکتا ہے۔

    اور جب سینیٹ کی اپنی کمیٹی یہ کہہ رہی ہو کہ سندھ کے حصے میں کم از کم 83,000 آسامیوں کا شارٹ فال موجود ہے، اور اسی سال طبی تعلیم کی 1,400 اضافی سرکاری نشستوں کے اعلان میں سندھ کا نام موجود نہ ہو، تو سندھ کے تعلیمی اور روزگار کے حقوق پر سنجیدہ، دستاویزی اور مستقل پالیسی بحث کو مزید دیر تک نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

    سندھ پاکستان کا حصہ ہے؛ اس لیے قومی مواقع کی تقسیم میں سندھ کا حصہ بھی قومی انصاف کے دائرے کا حصہ ہے۔