سکاٹش مصنف پیٹر مے 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
سکاٹ لینڈ کے معروف ناول نگار، صحافی اور ٹیلی ویژن اسکرین رائٹر پیٹر مے 74 برس کی عمر میں جنوبی فرانس میں انتقال کر گئے۔ ان کی اہلیہ اور مصنفہ جینس ہیلی نے پیر کو ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ پیٹر مے جمعے کی شب جنوبی فرانس میں واقع اپنے تعطیلاتی گھر میں انتقال کر گئے۔
پیٹر مے کو دنیا بھر میں جرائم پر مبنی ناولوں کے لیے شہرت حاصل ہوئی، تاہم ان کی ادبی شناخت صرف کرائم فکشن تک محدود نہیں تھی۔ وہ صحافت، ٹیلی ویژن اور ادب، تینوں شعبوں میں طویل اور کامیاب کیریئر رکھتے تھے۔ ان کی 31 کتابیں شائع ہوئیں، جو 40 سے زائد ممالک میں 15 ملین سے زیادہ کی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ انہیں برطانیہ، فرانس، ڈنمارک اور امریکہ میں ادبی اعزازات بھی ملے۔
پیٹر مے 20 دسمبر 1951 کو گلاسگو، اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری میں صحافت کا آغاز کیا اور 21 برس کی عمر میں اسکاٹش ینگ جرنلسٹ آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا۔ 26 برس کی عمر میں ان کا پہلا ناول ‘The Reporter’ شائع ہوا۔ اس ناول کو بعد میں بی بی سی نے ڈرامائی سیریز میں ڈھالا، جس کے بعد مے نے صحافت چھوڑ کر ٹیلی ویژن کے شعبے میں قدم رکھا۔
ٹیلی ویژن میں اگلے تقریباً 15 برس کے دوران وہ اسکاٹ لینڈ کے نمایاں ڈرامہ رائٹرز میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے اسکرپٹ رائٹر اور اسکرپٹ ایڈیٹر کے طور پر ایک ہزار سے زیادہ ٹی وی اقساط پر کام کیا اور کئی معروف ڈرامہ سیریز تخلیق کیں۔ ان میں ‘Take the High Road’ اور گیلک زبان میں بنائی گئی ‘Machair’ خاص طور پر نمایاں تھیں۔
‘Machair’ پر کام کے دوران پیٹر مے کو اسکاٹ لینڈ کے جزائر پر مشتمل علاقے ہیبرڈیز اور خاص طور پر آئل آف لیوس سے گہری وابستگی پیدا ہوئی۔ بعد میں یہی علاقہ ان کی سب سے مشہور ادبی تخلیقات کا پس منظر بنا۔
پیٹر مے نے 1996 میں ٹیلی ویژن چھوڑ کر دوبارہ ناول نگاری پر توجہ مرکوز کی۔ ان کے ابتدائی معروف ناولوں میں چین کے پس منظر میں لکھی گئی ‘China Thrillers’ سیریز شامل تھی، جبکہ بعد میں ‘Enzo Files’ سیریز نے بھی انہیں عالمی قارئین تک پہنچایا۔
تاہم عالمی سطح پر ان کی سب سے بڑی شناخت ‘The Blackhouse’ سے بنی، جو 2011 میں انگریزی میں شائع ہوا اور بعد میں ‘Lewis Trilogy’ کا پہلا ناول بنا۔ اس کے بعد ‘The Lewis Man’ اور ‘The Chessmen’ شائع ہوئے۔ یہ تینوں ناول اسکاٹ لینڈ کے دور افتادہ آئل آف لیوس کے ماحول، معاشرے، تاریخ اور انسانی رشتوں کے پس منظر میں جرائم کی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔
‘The Blackhouse’ کی کامیابی کی کہانی بھی غیر معمولی ہے۔ بڑے برطانوی پبلشرز کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد یہ ناول پہلے فرانس میں شائع ہوا، جہاں اسے غیر معمولی پذیرائی ملی اور اسے فرانسیسی ادبی ایوارڈ ‘Prix Cezam’ سے نوازا گیا۔ بعد میں انگریزی ایڈیشن ایک بین الاقوامی بیسٹ سیلر بنا اور امریکہ میں بیری ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
فرانس میں پیٹر مے کو خاص طور پر مضبوط ادبی پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک فرانس میں مقیم رہے اور فرانسیسی و برطانوی شہریت رکھتے تھے۔ 2025 میں انہیں فرانس کے معروف کرائم فکشن اعزاز ‘Grand Prix de Littérature Policière’ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل 2021 میں انہیں برطانیہ کے کرائم رائٹرز ایسوسی ایشن کا ‘Dagger in the Library’ ایوارڈ بھی ملا تھا۔
ان کی تحریروں میں اسکاٹ لینڈ کے مناظر، جزیرے کی زندگی، انسانی رشتے، تنہائی اور ماحول نمایاں موضوعات رہے۔ ان کے ناول ‘Coffin Road’ میں ماحول اور کرۂ ارض کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی نمایاں ہوئے۔
پیٹر مے ادب کے ساتھ موسیقی سے بھی وابستہ رہے۔ 2025 میں انہوں نے ‘Towards the Light’ کے نام سے ایک البم جاری کیا، جس میں ان کے ناولوں اور ذاتی دلچسپیوں سے متاثر گیت شامل تھے۔
ان کی آخری کتاب بھی ان کی وفات کے بعد قارئین تک پہنچے گی۔ ‘Island of the Dead’ جنوری 2027 میں شائع ہونے والی ہے۔ پیٹر مے نے اسے اپنا آخری ناول قرار دیا تھا اور اس کی اشاعت کے موقع پر اسکاٹ لینڈ اور آئل آف لیوس کا ایک الوداعی دورہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
ان کے ناشر اور دیرینہ دوست جون رائلی نے انہیں ‘ناقابلِ تلافی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹر مے نہ صرف اپنی نسل کے مقبول اور پسندیدہ کرائم رائٹرز میں شامل تھے بلکہ ان کی شخصیت نے قارئین اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں میں بھی گہری محبت اور وابستگی پیدا کی۔ اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی نے بھی ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر ہیبرڈیز کے بارے میں ان کی تحریروں کو سراہا۔
پیٹر مے کی ادبی میراث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جرائم کی کہانی کو صرف قتل، تفتیش اور مجرم کی تلاش تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں جگہ، تاریخ، موسم، تنہائی، معاشرہ اور انسانی نفسیات کو بھی کہانی کا حصہ بنایا۔ خاص طور پر آئل آف لیوس اور ہیبرڈیز ان کی تحریروں میں محض پس منظر نہیں بلکہ کہانی کی شناخت بن گئے۔
پیٹر مے کے انتقال کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کے ایک ایسے مصنف کا سفر اختتام پذیر ہوا جس نے صحافت سے آغاز کیا، ٹیلی ویژن میں ایک ہزار سے زیادہ اقساط پر کام کیا، پھر ناول نگاری میں عالمی کامیابی حاصل کی اور اپنی کہانیوں کے ذریعے اسکاٹ لینڈ کے دور افتادہ جزائر اور ان کے لوگوں کو دنیا بھر کے قارئین تک پہنچایا۔ ان کی آخری کتاب ‘Island of the Dead’ اب ان کی ادبی زندگی کا آخری باب بن کر جنوری 2027 میں سامنے آئے گی۔

