لندن :برطانیہ میں پہلی بار ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی ہے جس کی ماں کو ایک انتقال کرنے جانے والی ڈونر کی بچہ دانی ٹرانسپلانٹ کی گئی تھی۔
بچے کی پیدائش کو طبی دنیا میں ایک تاریخی پیش رفت اور والدین کے لیے “معجزہ” قرار دیا جا رہا ہے۔
ہیوگوپائول دسمبر میں ایک آپتیشن کے زریعے پیدا ہوا، پیدائش کے وقت ہیوگو کا وزن چھ پائونڈ سے زیادہ تھا۔
اسکائی نیوز کی رپورٹ کہتی ہے یہ برطانیہ کی تاریخ کا پہلا موقع ہے جب ایک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ذریعے کسی خاتون نے بچے کو جنم دیا ہے۔
اس سے پہلے یورپ میں اس نوعیت کے صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ برطانیہ میں گزشتہ سال پہلی بار زندہ ڈونر کی بچہ دانی سے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔
منفرد بیماری کے باوجود ماں بننے کا خواب پورا
ہیوگو کی والدہ 30 سالہ گریس بیل جو ایک آئی ٹی پروگرام منیجر ہیں،ان پانچ ہزار برطانوی خواتین میں سے ایک ہیں جو ایم آر کے ایچ نامی سنڈروم کا شکار ہوتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ پیدائشی طور پر ہی ان میں رحم نہیں ہوتا، انھیں ماہواری نہیں آتی لیکن ان کی بیضہ دانی بالکل معمول کے مطابق ہوتی ہے۔
معجزہ کیوں ؟
گریس بیل نے جذباتی انداز میں کہا کہ ‘میں نے“یہ واقعی ایک معجزہ ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ممکن ہوگا’۔ میں اپنی زندگی میں پہلے سے کہیں ہیں زیادہ خوش ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ 16 سال کی تھیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکیں گی، جس پر وہ شدید صدمے سے دوچار ہوئیں اور اسپتال کے واش روم میں جا کر بے قابو ہو کر رونے لگیں۔
طویل سفراور انتظار کے بعد کامیاب
گریس بیل اور ان کے شوہر اسٹیوپائول جنوبی انگلینڈ میں رہتے ہیں ، دونوں نے ابتدا میں سروگیسی پر غور کیا، لیکن بعد میں بچہ دانی ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لئے آمادہ ہوگئے۔
گریس بیل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن 2024 میں کیا گیا، جو تقریباً سات گھنٹے جاری رہا۔ اس کے بعد چند ماہ بعد IVF کے ذریعے حمل قائم کیا گیا۔
بچے کی پیدائش کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے اسٹیو پاول نے کہا: ‘جب ہیوگو کو پردے کے اوپر سے ہماری طرف لایا گیا تو جذبات قابو سے باہر تھے۔ مجھے لگا میں رو پڑوں گا۔ یہ ہمارے طویل سفر کا ناقابل یقین اختتام تھا۔’
عالمی سطح پر محدود مگر اہم کامیابی
ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں اب تک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ذریعے سے 30 بچے پیدا ہو چکے ہیں۔
اسکائی نیوز کی رپورٹ کہتی ہے ڈاکٹروں کے مطابق، گریس بیل مستقبل میں ایک اور بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔
اس کے بعد ٹرانسپلانٹ شدہ بچہ دانی کو نکال دیا جائے گا تاکہ انہیں طویل عرصے تک امیونوسپریسنٹ ادویات لینے کی ضرورت نہ پڑے۔
یہ طبی کامیابی دنیا بھر میں ان ہزاروں خواتین کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو MRKH syndrome یا دیگر وجوہات کی بنا پر بچہ دانی سے محروم ہوتی ہیں اور ماں بننے کا خواب رکھتی ہیں۔
ڈونر کیسے بنتے ہیں؟
زندہ ڈونر: بچہ دانی عطیہ کرنے کی خواہش رکھنے والی زندہ خواتین کو پہلے تفصیلی مشاورت (کاؤنسلنگ) سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے ۔
فوت شدہ ڈونر: فوت شدہ افراد کی صورت میں بچہ دانی عام اعضا کی طرح خودکار طور پر عطیہ نہیں کی جاتی۔
اس کے لیے ٹرانسپلانٹ ریسرچ پروگرام کی ٹیم ڈونر کے اہلِ خانہ سے خصوصی اجازت حاصل کرتی ہے۔ صرف خاندان کی رضامندی کے بعد ہی بچہ دانی عطیہ کی جا سکتی ہے۔
فوت شدہ ڈونر کی صورت میں پیوندکاری صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اہلِ خانہ خصوصی طور پر بچہ دانی عطیہ کرنے کی اجازت

