Tag: پھانسی

  • وہ جُھوٹا مقدمہ جس کو بنیاد بناکر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی

    وہ جُھوٹا مقدمہ جس کو بنیاد بناکر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی

    یہ قصہ 10 اور 11 نومبر 1974 کی رات ملتان سے شروع ہوتا ہے، جب وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو عوامی مصروفیات سے فارغ ہو کر ملتان میں گورنر پنجاب نواب صادق حسین قریشی کے محل نما بنگلے میں کیوبا کے سگار کے کش لے رہے تھے کہ اسی لمحے اُن کے ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل امتیاز نے رازداری سے اُن کے کان میں بتایا کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب راؤ رشید ٹیلی فون پر فوری بات کرنا چاہتے ہیں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کی اجازت کے بعد لائن پر موجود آئی جی پنجاب راؤ رشید نے بتایا کہ لاہور میں رکنِ قومی اسمبلی احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے، جس میں اُن کے والد نواب محمد احمد خان قصوری جاں بحق ہو گئے ہیں، اور احمد رضا قصوری اس قتل کا مقدمہ خود وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج کروانا چاہتے ہیں۔

    یہ سنتے ہی بھٹو نے سگار ایش ٹرے میں بجھاتے ہوئے کہا: ‘Oh! No, very sad’

    اور پھر آئی جی پنجاب کو ہدایت دی کہ احمد رضا قصوری جو چاہتے ہیں، ویسا ہی کیا جائے۔

    اس معاملے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ احمد رضا قصوری، جو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قصور سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، بعد ازاں قومی اسمبلی میں اپنی ہی جماعت کے سربراہ اور وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرنے لگے۔

    اسی دوران ایک رات احمد رضا قصوری اپنے والد نواب محمد احمد خان قصوری، والدہ اور خالہ کے ہمراہ اپنی ٹویوٹا کرولا مارک ٹو گاڑی میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں تحریکِ استقلال گجرات کے صدر بشیر حسین شاہ کے گھر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، جہاں انہوں نے قربان حسین قوال اور اُن کے ساتھیوں کی قوالیاں سنی تھیں۔

    گاڑی احمد رضا قصوری چلا رہے تھے، اگلی نشست پر اُن کے والد بیٹھے تھے جبکہ پچھلی نشست پر اُن کی والدہ اور خالہ موجود تھیں۔ جب گاڑی شاہ جمال چوک لاہور کے قریب پہنچی تو اچانک تین مسلح افراد نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نواب محمد احمد خان قصوری شدید زخمی ہو گئے۔

    احمد رضا قصوری اپنے والد کو گلبرگ لاہور کے یونائیٹڈ کرسچن اسپتال لے گئے، مگر وہ رات تین بجے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

    اس کے بعد احمد رضا قصوری اچھرہ تھانے پہنچے اور ایس ایچ او عبدالحئی نیازی سے کہا کہ اُن کے والد کے قتل کی ایف آئی آر وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج کی جائے۔

    اتنے میں ڈی آئی جی لاہور سردار عبدالوکیل اور ایس ایس پی لاہور اصغر خان بھی تھانے پہنچ گئے۔ جب پولیس افسران کو معلوم ہوا کہ احمد رضا قصوری وزیرِاعظم کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں تو وہ سخت پریشان ہو گئے۔

    انہوں نے فوراً آئی جی پنجاب راؤ رشید کو صورتحال سے آگاہ کیا، جنہوں نے وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں محمد حنیف رامے کو اطلاع دی۔ حنیف رامے کی ہدایت پر راؤ رشید نے ملتان میں وزیرِاعظم کے ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل امتیاز سے رابطہ کیا، جنہوں نے بھٹو کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

    بھٹو نے فوراً حکم دیا کہ مدعی احمد رضا قصوری کی خواہش کے مطابق ایف آئی آر درج کی جائے۔

    یوں 11 نومبر 1974 کو اچھرہ تھانہ لاہور میں ایف آئی آر نمبر 402 ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف درج ہوئی۔ بھٹو کو اُس وقت شاید اندازہ بھی نہ تھا کہ جس مقدمے کے اندراج کا حکم وہ خود دے رہے ہیں، وہی مقدمہ بعد میں اُن کی پھانسی کا سبب بنے گا۔

    حکومت نے اس قتل کی تحقیقات کے لیے پولیس ٹیم کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں ایک کمیشن بھی قائم کیا، مگر اکتوبر 1975 میں یہ کیس ‘بلائنڈ مرڈر’ قرار دے کر بند کر دیا گیا۔

    پھر پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کر دیا، اور یہ بند مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا۔

    تحقیقات ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالخالق کے سپرد کی گئیں۔ 25 جولائی 1977 کو ایف ایس ایف (فیڈرل سکیورٹی فورس) کے انسپکٹر ارشد اقبال اور سب انسپکٹر رانا افتخار کو گرفتار کیا گیا۔ اگلے روز دونوں افسران نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ انہوں نے ایف ایس ایف کے ڈائریکٹر آپریشنز میاں غلام عباس کے حکم پر احمد رضا قصوری پر حملہ کیا تھا۔

    بعد ازاں ایف ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود، میاں عباس، انسپکٹر غلام حسین، انسپکٹر ارشد اقبال، اے ایس آئی رانا افتخار اور صوفی غلام مصطفیٰ کو بھی اس کیس میں گرفتار کیا گیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو تین ستمبر 1977 کو 70 کلفٹن کراچی سے گرفتار کیا گیا، تاہم 13 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس کے ایم صمدانی نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

    لیکن 17 ستمبر 1977 کو عید کی رات بھٹو کو المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور بعد ازاں کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کر دیا گیا۔

    ضیاء حکومت نے آئینی اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں چلانے کے بجائے براہِ راست لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق کے سپرد کر دیا، جنہوں نے بھٹو کی ضمانت مسترد کر دی۔

    مولوی مشتاق کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دی گئی، جس میں جسٹس آفتاب حسین، جسٹس ذکی الدین، جسٹس گل باز خان اور جسٹس ایم ایچ قریشی شامل تھے۔

    بھٹو نے اس پورے مقدمے کو اپنے خلاف سازش اور ڈرامہ قرار دیا، مگر مبینہ طور پر مولوی مشتاق پہلے ہی جنرل ضیاء کے دباؤ میں بھٹو کو سزا دینے کا فیصلہ کر چکے تھے۔

    آخرکار 18 مارچ 1978 کو لاہور ہائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو، میاں عباس، ارشد اقبال، صوفی غلام مصطفیٰ اور رانا افتخار کو سزائے موت سنا دی، جبکہ وعدہ معاف گواہ بننے والے ایف ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل مسعود محمود اور انسپکٹر غلام حسین کو بری کر دیا گیا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ جنرل ضیاء نے اپیل کی سماعت سے قبل چیف جسٹس یعقوب علی خان کو ہٹا کر جسٹس انوار الحق کو چیف جسٹس مقرر کر دیا۔

    نو رکنی بینچ تشکیل دی گئی، مگر دورانِ سماعت جسٹس قیصر خان ریٹائر ہو گئے اور جسٹس وحید الدین احمد بیماری کے باعث الگ ہو گئے۔

    چھ فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے چار کے مقابلے میں تین ججوں کی اکثریت سے بھٹو کی سزائے موت برقرار رکھی۔ چیف جسٹس انوار الحق، جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس اکرم اور جسٹس کرم الٰہی چوہان نے سزا برقرار رکھی، جبکہ جسٹس صفدر شاہ، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس دراب پٹیل نے اختلاف کرتے ہوئے بھٹو کو بے گناہ قرار دیا۔

    آخرکار جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے چار اپریل 1979 کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی۔

    قانونی ماہرین کے مطابق اگر جسٹس قیصر خان اور جسٹس وحید الدین احمد بینچ میں شامل رہتے تو شاید فیصلہ مختلف ہوتا۔ دنیا بھر کے قانون دانوں نے اس فیصلے کو متنازع اور جانبدار قرار دیا۔

    بھٹو کو سیشن کورٹ میں دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا، جبکہ چیف جسٹس مولوی مشتاق پر ذاتی تعصب کے الزامات بھی لگتے رہے۔

    مزید یہ کہ خود سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ بعد میں اعتراف کر چکے ہیں کہ بھٹو کی پھانسی جنرل ضیاء الحق کے دباؤ کا نتیجہ تھی اور یہ عدلیہ کا غلط فیصلہ تھا۔

    آج بھٹو کے سیاسی مخالفین بھی اس مقدمے کو ‘عدالتی قتل’ قرار دیتے ہیں، مگر پاکستان کی عدالتوں اور بار کونسلوں کی قانونی کتب میں ذوالفقار علی بھٹو آج بھی دفعہ 302 کے تحت سزا یافتہ مجرم کے طور پر درج ہیں، اگرچہ اس مقدمے کو عدالتی نظیر کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔