پوپ لیو چہار دہم نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے اور اس کے لیے سخت عالمی قوانین بنائے جائیں۔
پوپ لیو چہار دہم نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی کی ترقی پر مناسب نگرانی نہ کی گئی تو یہ انسانی معاشروں میں غلط معلومات، تنازعات اور مسلسل جنگ جیسے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔
پیر کے روز دنیا بھر کے کیتھولک عیسائیوں کے روحانی اور انتظامی مرکز اور طاقت کا محور سمجھے جانے والے ویٹی کن سے ’شاندار انسانیت‘ کے عنوان سے جاری دستاویز میں مطالبہ کیا گیا: ‘مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا جائے اور اس کے لیے سخت عالمی قوانین بنائے جائیں۔’
پوپ لیو چہار دہم کے دستخط سے یہ دستاویز 15 مئی کی علامتی تاریخ کو جاری کی گئی۔ 15 مئی 1891 کو پوپ لیو سیزدہم کے دستخط سے جاری ‘نئے معاملات’ یا Rerum Novarum کے عنوان سے دستاویز میں صنعتی انقلاب کے دوران مزدوروں کے حقوق اور بہتر کام کے حالات کی حمایت کی گئی تھی۔
بعد ازاں 1963 میں رومن کیتھولک چرچ کے 261 ویں پوپ جان تیئسویں نے ‘عالمی امن’ یا Pacem in Terris کے عنوان سے دستاویز جاری کی، جس میں سرد جنگ کے دور میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور عالمی امن کی اپیل کی گئی تھی۔
اسی طرح 2015 میں پوپ فرانسس نے ‘تعریف ہو آپ کی’ یا Laudato Si کے عنوان سے دستاویز میں ماحولیاتی تبدیلی اور موسمیاتی بحران کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
دنیا بھر میں کیتھولک چرچ کے پوپ گزشتہ 135 برس سے عالمی رہنماؤں کو سماجی انصاف، انسانی حقوق اور عالمی مسائل پر توجہ دینے کی اپیل کرتے آ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف ادوار میں اہم دستاویزات جاری کی جاتی رہی ہیں جنہیں چرچ کی تعلیمات میں بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اب موجودہ پوپ لیو XIV نے بھی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور ممکنہ خطرات پر ایک نئی دستاویز جاری کر دی ہے۔
ویٹی کن امور کے معروف مبصر جان تھاوس، جنہوں نے تین مختلف پوپ کے ادوار کا مشاہدہ کیا ہے، نے اس حوالے سے کہا کہ ماضی کے پوپ بھی اپنے دور کے اہم سماجی مسائل پر آواز بلند کرتے رہے ہیں اور موجودہ پوپ نے بھی اپنے وقت کے ایک بڑے مسئلے یعنی مصنوعی ذہانت کو موضوع بنایا ہے۔
ان کے مطابق پوپ لیو کی کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی پر ہونے والی عالمی بحث میں اخلاقی اور انسانی اقدار کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان کو فیصلہ سازی اور نظام کے مرکز میں رکھا جائے۔
برطانوی ماہر تعلیم اور چرچ کی مشیر اینا رولینڈز نے ویٹی کن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک صدی سے پوپ مسلسل یہ پیغام دیتے آئے ہیں کہ دنیا صرف منڈی اور معاشی نظام کے ذریعے محفوظ نہیں بن سکتی۔
انہوں نے کہا کہ آج پوپ لیو یہی بات نئے انداز میں دہرا رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ انسانیت کو صرف مصنوعی ذہانت کے سہارے نہیں چھوڑا جا سکتا۔
چرچ میں ایسی دستاویزات کو ’انسائیکلیکل‘ کہا جاتا ہے اور یہ پوپ کی اعلیٰ ترین تعلیمات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے موضوعات کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اکثر کئی برسوں کی تیاری کے بعد شائع ہوتی ہیں اور پوپ کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں پوپ لیو نے عالمی سیاسی معاملات پر نسبتاً واضح اور سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایران جنگ پر تنقید کے بعد انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
اپنی نئی دستاویز میں پوپ نے خاص طور پر خودکار ہتھیاروں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق بعض جدید ہتھیار ایسے مرحلے پر پہنچ رہے ہیں جہاں انسانی کنٹرول اور نگرانی تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے، جو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پوپ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایسی اپیلوں کے نتائج ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔ بعض مواقع پر ان کا نمایاں اثر دیکھا گیا جبکہ بعض معاملات میں عملی تبدیلی محدود رہی۔
مثال کے طور پر 1962 کے کیوبا میزائل بحران کے بعد جاری ہونے والی “Pacem in Terris” کو بعض مؤرخین امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان مذاکرات کی اخلاقی حمایت قرار دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعد میں ایٹمی تجربات محدود کرنے کا معاہدہ سامنے آیا۔
دوسری جانب پوپ فرانسس نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مسلسل آواز اٹھائی، تاہم وہ اکثر اس بات پر افسوس کرتے رہے کہ حکومتیں مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہیں۔
جان تھاوس کے مطابق ایسی دستاویزات کے اثرات فوری طور پر سامنے نہیں آتے بلکہ وقت کے ساتھ عوامی مباحث، میڈیا اور سماجی تحریکوں کے ذریعے ان کے خیالات اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت پر جاری کی گئی نئی دستاویز مستقبل کی عالمی بحث میں ایک اہم حوالہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ دستاویز اب ویٹی کن کی ویب سائٹ پر مختلف زبانوں میں دستیاب ہے اور اسے مطالعے اور بحث کے لیے کتابچے کی شکل میں بھی تقسیم کیا جائے گا۔
ویٹی کن کی تقریب میں دنیا کی معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک کے شریک بانی کرس اولاہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے پوپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کمپنیاں شدید تجارتی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں، اس لیے بیرونی نگرانی اور واضح اصولوں کی ضرورت ہے۔
اپنی دستاویز کے اختتام پر پوپ لیو نے مطالبہ کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پر مضبوط بین الاقوامی ضابطے بنائے جائیں اور اس سے متعلق ڈیٹا اور اختیار صرف نجی اداروں کے ہاتھوں میں نہ چھوڑا جائے، تاکہ مستقبل میں ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے، نہ کہ انسان اس کے تابع ہو جائے۔

