Tag: پری زاد

  • پری زاد کی شوٹنگ کیلئے کرپشن سے بنایا گیا محل استعمال کیا گیا

    پری زاد کی شوٹنگ کیلئے کرپشن سے بنایا گیا محل استعمال کیا گیا

    نیب حکام نے منگل کو اپنی بریفنگ میں بتایا ہے کہ  ڈرامہ پری زاد کی اسلام آباد میں واقع ایک ایسے محل میں شُوٹنگ کی گئی جو کرپشن سے بنائی گئی ایک جائیداد ہے۔

    نیب کی بریفنگ کے مطابق مشہور ڈرامہ پری زاد کا بڑا حصہ اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی گلبرگ گرین میں واقع ایک بڑے مکان میں شُوٹ کیا گیا تھا جسے نہایت وسیع اور پُرتعیش انداز میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    کچھ عرصہ قبل ڈرامہ پریزاد دکھایا گیا تھا جس میں طبقاتی نظام کو اجاگر کیا گیا تھا اور یہ ڈرامہ اپنی منفرد کہانی کی وجہ سے بے پنا مقبول ہوگیا تھا۔ ڈرامے کر مرکزی کرداروں نے اپنے اپنے رول کو خوب نبھایا اور ناظرین کو ڈرامے کے ساتھ جوڑے رکھا،یہ ڈرامہ اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی سمیت پہاڑی علاقوں میں شوٹ ہوا تھا۔

    ڈرامہ پری زاد میں دکھائے گئے  محل ک بارے میں یہ سن کر ناظرین حیران رہ گئے ہیں کہ مرکزی کردار کی ملکیت کے طور پر دکھایا گیا محل کرپشن سے تیار کردہ جائیداد ہے۔

    نیب حکام کی جانب سے منگل کو دی جانے والی بریفنگ بتایا کہ کوہستان اسکینڈل کا آغاز ایک کلرک سے ہوا، جس پر اربوں روپے کی خُوردبرد کا الزام ہے اور جس کے خلاف نیب کی تحقیقات جاری ہیں۔

    تحقیقات کے دوران اس کے بعض اثاثے اسلام آباد میں بھی سامنے آئے، جن میں گلبرگ گرین میں واقع ایک عالی شان رہائش گاہ بھی شامل تھی۔

    نیب کے مطابق یہ گھر اور دیگر متعلقہ اثاثے ریکور کر کے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

    حکام نے مزید بتایا کہ کوہستان اسکینڈل بظاہر ایک چھوٹے پیمانے سے شروع ہوا، تاہم وقت کے ساتھ اس کی مالیت بڑھتے بڑھتے قریباً 40 ارب روپے تک جا پہنچی۔

    انہوں نے اس سکینڈل کے بارے میں مزید انکشافات کیا کہ ’ریکوری کے دوران فلمی انداز میں چھپائی گئی رقم برآمد کی گئی۔‘

    ڈپٹی چیئرمین نیب کے مطابق دیواروں کے اندر سے، آٹے کے ڈبوں، گھی کے ڈبوں اور پینٹ کے ڈبوں سے بھی کروڑوں روپے کی ریکوری کی گئی ہے ۔

    میڈیا بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیب نے اسی سکینڈل میں  کرپشن سے حاصل کی گئی درجنوں لگژری گاڑیاں بھی برآمد کیں، جنہیں خفیہ طور پر مختلف مقامات پر چُھپا کر رکھا گیا تھا۔

    اس کے علاوہ ٹرک ڈرائیوروں، بینک ڈرائیوروں اور دیگر غیر متعلقہ افراد کے اکاؤنٹس میں خفیہ طور پر کروڑوں روپے رکھے گئے تھے۔

    اس بریفنگ کے دوران یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ حیدرآباد میں اکاونٹس ڈپارٹمنٹ کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کے انتقال کے بعد بیوہ سے 2 ارب 67 کروڑ روپے ریکور کیے گئے۔ ملزم کی بیوہ نے پلی بارگین کرکے مساوی اثاثے، کمرشل پراپرٹی کا بڑا نیٹ ورک، سونا، زرعی زمینیں، معروف برانڈز کو رینٹ پر دی گئی دکانیں، لگژری گاڑیاں سب کچھ واپس کردیا۔ گریڈ 18 کے افسر مشتاق کے انتقال کے بعد بیوہ نے 2025ء میں پلی بارگین کی درخواست کی تھی، نیب نے اثاثے سندھ حکومت کو لوٹا دیے ہیں۔