Tag: پریا کماری

  • پریا کماری کے ساتھ معتدد بچوں کی گمشدگی، آخر یہ بچے کب بازیاب ہوں گے؟

    پریا کماری کے ساتھ معتدد بچوں کی گمشدگی، آخر یہ بچے کب بازیاب ہوں گے؟

    ضلع سکھر کے شہر سنگرار سے اغوا ہونے والی پریا کماری کو اس سال محرم الحرام میں لاپتا ہوئے پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ محرم الحرام 2021 میں پریا کماری کو اغوا کیا گیا تھا، مگر پانچ برس گزرنے کے باوجود آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    سندھ کی تاریخ میں ایسے کئی سانحات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کو غمزدہ کیا۔ پریا کماری کا معاملہ بھی سندھ میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی بحث کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔

    پریا کماری کی بازیابی کے لیے گزشتہ پانچ برس کے دوران سندھ حکومت نے متعدد بار تحقیقات کا اعلان کیا۔ اعلیٰ سطح پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، مختلف اضلاع میں چھاپے مارے گئے، متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور مختلف شواہد کا جائزہ لیا گیا، تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود کیس کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔

    تاحال نہ اغوا کی وجوہات سامنے آسکیں اور نہ ہی پریا کماری کی موجودگی کے بارے میں کوئی مستند معلومات سامنے آئیں۔

    پریا کماری کا معاملہ وقت گزرنے کے ساتھ صرف ایک بچی کی گمشدگی تک محدود نہیں رہا بلکہ سندھ میں لاپتا بچوں کے وسیع تر مسئلے کی علامت بن گیا۔ مختلف سماجی تنظیموں کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران سندھ کے مختلف اضلاع سے متعدد بچے اور بچیاں لاپتا ہوئے، جن میں سے کئی اب تک بازیاب نہیں ہو سکے۔ ان میں فضیلہ سرکی، اجالا سولنگی، صبا کلہوڑو، نوید لاشاری، آصفہ مغل، ماجد لاشاری اور دیگر بچے شامل ہیں، جن کے اہلِ خانہ بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

    پولیس کی جانب سے مؤثر پیش رفت نہ ہونے پر 26 جون 2026 کو خیرپور کے قریب ببرلو بائی پاس پر پریا ایکشن کمیٹی نے سہنی پارس اور لیاقت جلبانی کی قیادت میں قومی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ ابتدا میں یہ احتجاج صرف پریا کماری کی بازیابی کے لیے تھا، مگر آہستہ آہستہ دیگر لاپتا بچوں کے اہلِ خانہ بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔ تقریباً سترہ خاندانوں کی شمولیت کے بعد یہ احتجاج سندھ میں لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے ایک مشترکہ عوامی تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔

    مظاہرین کا مؤقف تھا کہ حکومت ہر بار مذاکرات اور یقین دہانیوں کے ذریعے احتجاج ختم کروا دیتی ہے، مگر عملی طور پر نہ بچوں کی بازیابی میں پیش رفت ہوتی ہے اور نہ ہی تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تمام لاپتا بچوں کے مقدمات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے اور خاندانوں کو باقاعدگی سے تحقیقات سے آگاہ رکھا جائے۔

    22 جولائی 2026 کو پریا کماری ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر ببرلو بائی پاس پر قومی شاہراہ بند کر دی۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان کئی دور کے مذاکرات ہوئے، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں 24 جولائی کی علی الصبح ببرلو پولیس نے، ایس ایس پی خیرپور مسعود مگسی کی قیادت میں، دھرنا ختم کرانے کے لیے کارروائی کی۔ مظاہرین کے مطابق پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جبکہ پولیس کا مؤقف تھا کہ قومی شاہراہ کو کھلوانے کے لیے قانونی کارروائی کی گئی۔

    اس کارروائی کے دوران سول سوسائٹی کے کارکنوں، پریا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں، خواتین مظاہرین اور احتجاج کی کوریج کرنے والے بعض صحافیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سہنی پارس، لیاقت جلبانی، صحافی ساحل جوگی اور دیگر افراد شامل تھے۔

    بعد ازاں پولیس نے تقریباً 150 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت مختلف فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ ان مقدمات پر انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا اور صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پرامن احتجاج میں شریک افراد اور صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق قابلِ اعتراض ہے۔ دوسری جانب پولیس کا مؤقف تھا کہ مقدمات قانون کے مطابق درج کیے گئے۔

    گرفتاریوں اور مقدمات کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد، کندھکوٹ، میرپورخاص، عمرکوٹ اور دیگر شہروں میں ریلیاں، مظاہرے اور دھرنے دیے گئے، جن میں لاپتا بچوں کی بازیابی، گرفتار مظاہرین کی رہائی اور مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

    پریا کماری کے والدین گزشتہ پانچ برس سے مسلسل ایک ہی سوال دہرا رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کہاں ہے۔ اسی طرح دیگر لاپتا بچوں کے خاندان بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ریاست ان کے بچوں کی بازیابی کو ترجیح دے، تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ سندھ میں کسی بھی خاندان کو برسوں تک اپنے لاپتا بچوں کی واپسی کا انتظار نہ کرنا پڑے۔