سندھ کا منفرد ہُدہُد جس کا نام سندھ وُڈپیکر ہے، یہ ایک ایسا پرندہ جس کا نام صرف ایک نسل نہیں بلکہ ایک خطے کی پہچان بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں اسے Sind Woodpecker کے نام سے جانا جاتا ہے، اور یہی وہ خاص بات ہے جو اسے دیگر پرندوں سے منفرد بناتی ہے، کیونکہ بہت کم پرندے ایسے ہیں جن کے نام براہِ راست کسی مخصوص خطے سے جڑے ہوں۔
اس پرندے کی سائنسی شناخت Dendrocopos assimilis ہے، اور ماہرینِ پرندیات نے اسے پہلی بار باقاعدہ طور پر وادی سندھ کے علاقوں، خاص طور پر سندھ کے میدانی اور خشک جنگلات میں شناخت کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے نام کے ساتھ ‘Sind’ ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔
سندھ وُڈپیکر سائز میں نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے، مگر اس کی پہچان بہت واضح ہے۔ اس کے جسم پر سیاہ اور سفید رنگ کی خوبصورت ترتیب ہوتی ہے، جبکہ کندھے کے قریب سفید دھبہ اسے دور سے بھی نمایاں کر دیتا ہے۔ نر کے سر پر سرخ رنگ کا تاج ہوتا ہے جو اسے مزید منفرد بناتا ہے، جبکہ مادہ میں یہ سرخ رنگ موجود نہیں ہوتا۔
یہ پرندہ زیادہ تر درختوں والے علاقوں میں پایا جاتا ہے، خاص طور پر ببول، کیکر اور دیگر مقامی درختوں پر۔ اس کی خوراک میں کیڑے مکوڑے شامل ہوتے ہیں، جنہیں یہ درختوں کی چھال پر ٹھونک کر نکالتا ہے۔ یہی اس کی بنیادی عادت ہے، جو تمام وُڈپیکرز کی پہچان بھی ہے۔
لیکن سندھ وُڈپیکر کی اصل کہانی صرف اس کی شکل یا عادات نہیں، بلکہ اس کا مسکن ہے۔
سندھ، خاص طور پر دریائے سندھ کے اطراف کے علاقے، ایشیا کے اہم ترین bird corridors میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں نہ صرف مقامی پرندے بستے ہیں بلکہ مختلف ممالک سے نقل مکانی کرکے آنے والے لاکھوں پرندے بھی ہر سال یہاں آتے ہیں۔ انڈس فلائی وے دنیا کے بڑے پرندوں کے راستوں میں سے ایک ہے، اور سندھ اس کا مرکزی حصہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سندھ کو پرندوں کے لیے ایک منفرد اور اہم خطہ مانا جاتا ہے۔ یہاں کے درخت، دریا، جھیلیں اور خشک جنگلات ایک مکمل ecosystem بناتے ہیں، جہاں مختلف اقسام کے پرندے زندگی گزارتے ہیں۔
جن کے نام کسی صوبے سے جڑے ہوں۔ سندھ وُڈپیکر ان چند مثالوں میں شامل ہے۔ اسی طرح کچھ پرندے Sind Sparrow جیسے نام رکھتے ہیں، مگر کسی دوسرے صوبے کے نام پر پرندوں کی تعداد نہایت محدود ہے، جو سندھ کی حیاتیاتی شناخت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
مگر یہ خوبصورتی خطرے میں ہے۔
وادی سندھ کے جنگلات تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ درختوں کی کٹائی، شہری پھیلاؤ اور موسمی تبدیلیاں ان پرندوں کے مسکن کو متاثر کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ وُڈپیکر جیسے مخصوص پرندے اب پہلے کے مقابلے میں کم دکھائی دیتے ہیں اور زیادہ تر کھیر تھر جیسے علاقوں میں محدود ہو گئے ہیں۔
یہ پرندہ صرف ایک species نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ زمین اور اس کے ناموں کے درمیان بھی ایک گہرا تعلق ہوتا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل ایسی کہانیاں سامنے لاتا ہے جہاں فطرت، تاریخ اور شناخت ایک دوسرے سے جڑتے ہیں، کیونکہ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا پرندہ بھی پورے خطے کی کہانی سنا دیتا ہے۔

