سندھ ایک ایسا خطہ ہے جہاں زمین، پانی اور موسم مل کر پرندوں کے لیے ایک مکمل دنیا تشکیل دیتے ہیں۔ اگر پاکستان کو پرندوں کی سرزمین کہا جائے تو سندھ اس کا سب سے بھرپور اور متنوع حصہ ہے۔
مستند سائنسی ریکارڈ کے مطابق سندھ میں تقریباً 450 سے 500 کے درمیان پرندوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جو پورے پاکستان میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 790 سے 800 اقسام کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی عکاسی ہے، جہاں ہر خطہ اپنے اندر مختلف پرندوں کو جگہ دیتا ہے۔
سندھ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے مختلف ماحولیاتی خطوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر خطہ مخصوص پرندوں کا گھر ہے۔
سب سے پہلے انڈس ڈیلٹا کی بات کی جائے تو یہ دنیا کے بڑے ڈیلٹاز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مینگرووز، کیچڑ والے میدان، نمکین پانی اور سمندری اثرات ایک منفرد ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اس علاقے میں فلیمنگو جسے اردو میں گلابی بگلا بھی کہا جاتا ہے، بڑی تعداد میں نظر آتا ہے۔
اس کے علاوہ سمندری بگلوں کی مختلف اقسام، ٹرن، سینڈ پائپر، پلور اور اویسٹر کیچر جیسے ساحلی پرندے یہاں عام ہیں۔ یہ وہ پرندے ہیں جو ساحل، کیچڑ اور اتھلے پانی میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی پرندوں کے لیے بھی ایک محفوظ ٹھکانہ ہے۔

ساحلی سندھ، جس میں کراچی سے لے کر ٹھٹھہ اور بدین تک کا علاقہ شامل ہے، پرندوں کے لیے ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔ یہاں سمندر کے کنارے، کھارے پانی کی جھیلیں اور مینگرووز مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں سی گل، ٹرن، کارمورینٹ اور دیگر سمندری پرندے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے زیادہ تر مچھلیوں اور سمندری حیات پر انحصار کرتے ہیں۔
اس کے بعد سندھ کے ویٹ لینڈز یعنی جھیلوں اور دلدلی علاقوں کی بات آتی ہے، جو اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
ماہرین کے مطابق سندھ صوبہ صحرا، پہاڑ، سمندر، دریا کے ساتھ آب گاہوں کی بہتات کے باعث ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت جنگلی حیات کے حیاتی تنوع کے لحاظ سے ایک امیر خطہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رامسر کنونشن کے تحت پاکستان میں عالمی اہمیت رکھنے والی 19 آب گاہوں کو ’رامسر سائٹ‘ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو صرف سندھ صوبے میں ہیں۔
ان میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا، انڈس ڈولفن ریزرو، دیہہ اکڑو، ڈرگ جھیل، جبو لگون، نرڑی لگون اور رن آف کچھ شامل ہیں جبکہ رامسر سائیٹ حب ڈیم کا آدھا حصہ سندھ اور آدھا بلوچستان میں ہے۔
یہ وہ مقامات ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں ہزاروں میل دور سے آنے والے پرندے قیام کرتے ہیں۔ یہاں بطخیں، ہنس، کونج، مختلف اقسام کے بگلے، ایگریٹ، ہیرون، پیلیکن اور واڈر پرندے بڑی تعداد میں دیکھے جاتے ہیں۔ سفید بگلا، خاکی بگلا، نیلا بگلا اور رات کو شکار کرنے والا نائٹ ہیرون بھی انہی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

پنجاب میں صرف تین، بلوچستان میں پانچ اور خیبر پختونخوا میں دو آب گاہوں کو رامسر سائٹ قرار دیا گیا ہے۔ ایران کے شہر رامسر میں ’کنونشن آن ویٹ لینڈ‘ یعنیٰ آب گاہوں کے تحفظ کا یہ عالمی معاہدہ دو فروری، 1971 کو طے پانے کے بعد 1975 میں نافذ ہوا۔
اس معاہدے کے تحت ایسی آب گاہیں جہاں کثیر تعداد میں پودوں، پرندوں اور مچھلیوں کی درجنوں اقسام پرورش پاتی ہیں اور یہ آب گاہیں ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے روزگار کا بھی ذریعہ ہوں تو انہیں رامسر سائٹ قرار دیا جاتا ہے۔
انڈس فلائے وے زون، جاڑوں میں وسطی ایشیا کی جانب نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے راستے میں واقع ہے اور سرد ممالک سے پرندے دو درجن سے زائد ممالک سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جاڑوں میں پاکستان میں موجود کُل پرندوں کا 30 فیصد ان مہمان پرندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
سندھ کا ریگستانی خطہ، خاص طور پر تھر، بظاہر خاموش اور خشک نظر آتا ہے، مگر یہاں زندگی ایک مختلف انداز میں موجود ہے۔تھر میں موروں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں مور سب سے زیادہ سندھ کے تھرپارکر میں پائے جاتے ہیں۔ مستند معلومات کے مطابق تھرپارکر، خصوصاً مٹھی، نگرپارکر اور اسلام کوٹ کے علاقوں کو پاکستان میں موروں کا سب سے بڑا مسکن مانا جاتا ہے۔ بعض سرکاری اور تحقیقی اندازوں کے مطابق صرف اسی خطے میں دسیوں ہزار مور موجود ہیں۔
نگرپارکر کے قریب واقع کارونجھر کے پہاڑی سلسلے اور اس کے آس پاس کے علاقے بھی موروں کے لیے نہایت موزوں ہیں، جہاں قدرتی ماحول، جھاڑی دار زمین، کھلے میدان اور بارش کے بعد بننے والے پانی کے ذخائر انہیں رہنے اور افزائش کے لیے بہترین حالات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی مور کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اسے ایک خوبصورت اور قابل احترام پرندہ سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد یہاں برقرار رہی ہے۔
پاکستان کے دیگر حصوں جیسے جنوبی پنجاب یا بلوچستان میں بھی مور پائے جاتے ہیں، لیکن وہاں ان کی تعداد کم ہے اور وہ اس طرح بڑی آبادی میں موجود نہیں جیسے سندھ کے تھرپارکر میں دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تھرپارکر کو پاکستان میں موروں کا سب سے اہم اور قدرتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ حیاتاتی تنوع کے شاہوکار اس خطے میں نہایت اہم پرندہ تلور یا ہوبارا بسٹرڈ بھی بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چکور، لوا، ریگستانی چڑیاں، سینڈگروز اور دیگر صحرائی پرندے یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے سخت گرمی، کم پانی اور کھلے میدانوں کے ماحول میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رن آف کچھ، جو سندھ اور بھارت کے درمیان واقع ایک نمکین میدان ہے، ایک منفرد ماحولیاتی خطہ ہے۔ بارشوں کے بعد یہ علاقہ پانی سے بھر جاتا ہے اور پرندوں کے لیے جنت بن جاتا ہے۔ یہاں فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، پلور، ایوو سیٹ اور دیگر واڈر پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جو نمکین پانی اور کیچڑ والے میدانوں میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔
سندھ کے میدانی اور زرعی علاقے بھی پرندوں سے خالی نہیں ہیں۔ یہاں عام طور پر نظر آنے والے پرندوں میں چڑیا، کوا، مینا، بلبل، فاختہ، کبوتر اور مختلف شکاری پرندے شامل ہیں۔ چیل، باز اور عقاب جیسے پرندے کھلے میدانوں میں شکار کرتے ہیں۔ سبز طوطا، جسے طوطا یا توتا کہا جاتا ہے، باغات اور درختوں والے علاقوں میں عام ہے۔ ڈرونگو، جسے بعض علاقوں میں بھجنگا کہا جاتا ہے، اپنی جرات اور چالاکی کے لیے مشہور ہے۔

سندھ کے پہاڑی سلسلے، خاص طور پر کیرتھر رینج، ایک اور اہم ماحولیاتی خطہ ہیں۔ یہاں پہاڑی پرندے جیسے چکور، عقاب، باز اور دیگر شکاری پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقے ان پرندوں کے لیے موزوں ہیں جو بلند جگہوں اور چٹانی ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
پاکستان کے دیگر خطوں کی نسبت سندھ میں پرندوں کی زیادہ تعداد کیو؟
سب سے پہلی وجہ ماحولیاتی تنوع ہے۔ سندھ میں سمندر، دریا، جھیلیں، صحرا، پہاڑ، رن آف کچھ اور زرعی زمین سب ایک ہی خطے میں موجود ہیں۔ یہ تنوع مختلف اقسام کے پرندوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
دوسری وجہ پانی کی فراوانی ہے۔ سندھ میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مستقل ویٹ لینڈز موجود ہیں، جو پرندوں کے لیے خوراک اور آرام کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔
تیسری وجہ پاکستان میں رام سر سائٹس کی اکثریت کا سندھ میں ہونا ہے۔ یہ وہ بین الاقوامی اہمیت کے حامل علاقے ہیں جہاں پرندوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔
چوتھی وجہ موسم ہے۔ سندھ کا موسم سردیوں میں نسبتاً معتدل ہوتا ہے، جو سرد علاقوں سے آنے والے پرندوں کے لیے موزوں ہے۔
پانچویں وجہ پرندوں کی نقل مکانی کرنے والے راستوں پر سندھ کی موجودگی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے پرندے ان راستوں کے ذریعے سندھ پہنچتے ہیں اور یہاں قیام کرتے ہیں۔
اب اگر پورے پاکستان کی بات کی جائے تو یہ ملک بھی اپنے جغرافیے کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ شمال میں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بلند پہاڑ ہیں جہاں برفانی اور پہاڑی پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سنو کاک، مونال، لامرجیئر گدھ اور مختلف اقسام کے عقاب شامل ہیں۔
پنجاب کے میدانی علاقوں میں زرعی زمین اور دریا پرندوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں چڑیا، مینا، بلبل، فاختہ، بطخیں اور دیگر عام پرندے پائے جاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں جنگلات اور پہاڑی علاقے پرندوں کی ایک الگ دنیا رکھتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے وسیع مگر خشک علاقے مخصوص صحرائی اور نیم صحرائی پرندوں کا گھر ہیں۔
پاکستان میں پائے جانے والے چند نمایاں پرندوں میں مور، چکور، تلور، مصری گدھ، شاہین، عقاب، فلیمنگو، کونج، بطخیں اور مختلف اقسام کے بگلے شامل ہیں۔ سندھ اسپیرو اور سندھ وُڈپیکر جیسے پرندے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ خطہ عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت رکھتا ہے۔
ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے کئی علاقوں میں ایسے پرندے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو پاکستان کے دیگر حصوں میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، خاص طور پر ساحلی اور ویٹ لینڈ پرندے۔ اسی
طرح کچھ پرندے صرف مختصر وقت کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں، مگر ان کی موجودگی بھی مجموعی تنوع میں شامل ہوتی ہے۔
فلیمنگو کے بڑے جھنڈ، جو بعض اوقات ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں، سندھ کے ساحلی علاقوں میں ایک حیرت انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح جھیلوں پر اترنے والے ہزاروں بطخوں اور ہنسوں کے غول اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ خطہ پرندوں کے لیے کتنا اہم ہے۔
اگر ایک جملے میں کہا جائے تو سندھ صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ پرندوں کی ایک مکمل دنیا ہے، جہاں ہر موسم، ہر خطہ اور ہر منظر ایک نئی کہانی سناتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں آسمان صرف خالی نہیں ہوتا بلکہ پرندوں کی پرواز سے بھرا ہوتا ہے، اور یہی اسے پاکستان کا سب سے امیر خطہ بناتا ہے۔


