پیراگرین فالکن دنیا کا تیز ترین جاندار سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام ‘Falco peregrinus’ ہے۔ اردو میں اسے عام طور پر ‘شاہین’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان میں کئی علاقوں میں لوگ ہر بڑے شکاری پرندے کو شاہین کہہ دیتے ہیں، اس لیے مقامی نام مختلف ہوسکتے ہیں۔
اس پرندے کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی رفتار ہے۔ شکار پر حملہ کرتے وقت یہ آسمان کی بلندی سے سیدھا نیچے غوطہ لگاتا ہے، جسے ‘stoop’ کہا جاتا ہے، اور اس دوران اس کی رفتار 320 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ رفتار صرف طاقت سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے جسم کی ساخت بھی غیرمعمولی ہے۔ اس کے نوکیلے پر، سخت عضلات، لمبی دم اور خاص ناک کے سوراخ ہوا کے شدید دباؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق اس کی ناک کے اندر چھوٹے ہڈی نما ابھار موجود ہوتے ہیں جو تیز غوطے کے دوران ہوا کے دباؤ کو کم کرتے ہیں تاکہ سانس لینے میں دشواری نہ ہو۔
اس کی آنکھیں بھی حیرت انگیز ہیں۔ پیراگرین فالکن کے پاس ایک اضافی شفاف پلک ہوتی ہے جسے ‘third eyelid’ کہا جاتا ہے۔ یہ پرواز کے دوران آنکھوں کو گرد، ہوا اور ٹکراؤ سے بچاتی ہے جبکہ بینائی برقرار رہتی ہے۔ اس کی بینائی انسان سے کئی گنا زیادہ تیز سمجھی جاتی ہے۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ پرندہ صرف تیز نہیں بلکہ انتہائی ذہین شکاری بھی ہے۔ یہ اپنے شکار کو ہمیشہ پیچھے یا اوپر سے نشانہ بناتا ہے تاکہ شکار اسے دیکھ نہ سکے۔ اکثر یہ پرواز کے دوران دوسرے پرندوں کو ہوا میں ہی ٹکر مار کر بے ہوش کردیتا ہے۔ بعض اوقات شکار اتنی شدت سے ٹکراتا ہے کہ فوراً مرجاتا ہے۔
اس کی خوراک زیادہ تر دوسرے پرندے ہوتے ہیں، جن میں کبوتر، فاختہ، بطخ، چھوٹے آبی پرندے اور کبھی کبھی چمگادڑیں بھی شامل ہیں۔ شہروں میں رہنے والے پیراگرین فالکن اکثر کبوتروں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں یہ فلک بوس عمارتوں پر بھی گھونسلے بنانے لگے ہیں۔
پاکستان میں بھی یہ پرندہ پایا جاتا ہے۔ سردیوں میں وسط ایشیا اور شمالی علاقوں سے آنے والے کئی پیراگرین فالکن پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ یہ سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف حصوں میں دیکھے گئے ہیں۔ سندھ کے ساحلی علاقے، ٹھٹھہ، کیٹی بندر، حب ڈیم، منچھر جھیل کے اطراف، دریائی علاقے اور کھلے میدان ان کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
بلوچستان کے پہاڑی سلسلے، مکران کا ساحل اور شمالی چٹانی علاقے بھی اس کی رہائش گاہوں میں شامل ہیں۔ شمالی پاکستان میں بعض مقامات پر یہ افزائش نسل بھی کرتے ہیں، خاص طور پر بلند چٹانوں والے علاقوں میں۔
پیراگرین فالکن دنیا کے تقریباً ہر خطے میں پایا جاتا ہے، صرف انٹارکٹکا اس سے خالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا کے سب سے زیادہ پھیلے ہوئے شکاری پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس کی عمر جنگل میں تقریباً 19 سال تک ریکارڈ کی گئی ہے، اگرچہ زیادہ تر پرندے اس عمر تک نہیں پہنچ پاتے۔ پہلے سال میں ان کی اموات کی شرح کافی زیادہ ہوتی ہے۔

نر اور مادہ میں واضح فرق ہوتا ہے۔ دونوں کی رنگت تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن مادہ نر سے کافی بڑی اور وزنی ہوتی ہے۔ بعض اوقات مادہ تقریباً 30 سے 50 فیصد تک بڑی ہوسکتی ہے۔ یہی فرق شکاری پرندوں میں عام پایا جاتا ہے۔ نر نسبتاً ہلکا اور تیز رفتار ہوتا ہے جبکہ مادہ زیادہ طاقتور سمجھی جاتی ہے۔
افزائش نسل کے دوران ان کی ذمہ داریاں تقسیم ہوتی ہیں۔ گھونسلے کی جگہ زیادہ تر مادہ منتخب کرتی ہے۔ یہ عام طور پر کسی بلند چٹان، پہاڑی کنارے یا عمارت کے محفوظ حصے میں ہلکا سا گڑھا بناتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ باقاعدہ گھونسلا نہیں بناتے بلکہ صرف ایک سطح کو صاف کرکے انڈے دیتے ہیں۔
مادہ عموماً تین سے چار انڈے دیتی ہے، اگرچہ تعداد ایک سے پانچ تک ہوسکتی ہے۔ انڈوں پر زیادہ تر مادہ بیٹھتی ہے جبکہ نر دن کے وقت کچھ مدد کرتا ہے۔ رات کو تقریباً ہمیشہ مادہ ہی انڈوں کو سیتی ہے۔ انڈوں سے بچے تقریباً 29 سے 33 دن میں نکلتے ہیں۔
بچوں کے نکلنے کے بعد دونوں والدین شکار کرتے ہیں، لیکن ابتدائی دنوں میں مادہ زیادہ وقت بچوں کے ساتھ گزارتی ہے جبکہ نر خوراک لاتا ہے۔ بعد میں دونوں شکار کرکے بچوں کو کھلاتے ہیں۔ بچے تقریباً 42 سے 46 دن بعد اڑنا شروع کرتے ہیں، لیکن کئی ہفتے والدین پر انحصار کرتے رہتے ہیں۔
ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ پیراگرین فالکن عمر بھر ایک ہی ساتھی کے ساتھ رہ سکتا ہے اور ہر سال اسی گھونسلے یا علاقے میں واپس آتا ہے۔ اس کی فضائی محبت بھری پروازیں انتہائی پیچیدہ اور خوبصورت سمجھی جاتی ہیں، جن میں نر اور مادہ دونوں ہوا میں کرتب دکھاتے ہیں۔ بعض اوقات نر شکار ہوا میں مادہ کے پنجوں میں منتقل کرتا ہے، اور مادہ الٹی پرواز کرکے شکار وصول کرتی ہے۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں زرعی زہروں خصوصاً DDT نے اس پرندے کی آبادی کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ ان زہروں سے انڈوں کے چھلکے کمزور ہوجاتے تھے اور بچے پیدا ہونے سے پہلے مرجاتے تھے۔ بعد میں کئی ممالک میں ان زہروں پر پابندی کے بعد اس کی آبادی دوبارہ بہتر ہوئی۔

