Tag: پبلک سروس

  • سندھ میں مفت میت گاڑی سروس: غم کی گھڑی میں خاندانوں کے لیے سہولت

    سندھ میں مفت میت گاڑی سروس: غم کی گھڑی میں خاندانوں کے لیے سہولت

    کسی اپنے کی وفات خاندان کے لیے زندگی کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں غم کے ساتھ میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا مسئلہ بھی کئی خاندانوں کے لیے ایک اضافی بوجھ بن جاتا ہے۔

    اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے سندھ میں مفت میت گاڑی سروس فراہم کی جا رہی ہے، جسے سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز چلا رہی ہے۔

    یہ سروس اپریل 2023 میں سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایسے خاندانوں کو مفت اور باوقار طریقے سے میت منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے جو نجی گاڑی یا میت گاڑی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

    سروس کے آغاز کے وقت 25 میت گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں۔ ان میں 8 کراچی، 5 حیدرآباد، جبکہ میرپورخاص، شہید بینظیرآباد، سکھر اور لاڑکانہ کے لیے 3، 3 گاڑیاں مختص کی گئی تھیں۔

    اس سروس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ میت کی منتقلی کے لیے عام ایمرجنسی ایمبولینس استعمال کرنے کے بجائے مخصوص گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ اس طرح ایمبولینسیں ہنگامی طبی ضرورت کے شکار مریضوں کے لیے دستیاب رہتی ہیں، جبکہ میت کی منتقلی کے لیے الگ سہولت موجود ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ سروس مالی طور پر مستحق خاندانوں کے لیے مفت رکھی گئی اور درخواستیں پہلے آنے والے کی بنیاد پر وصول کی جاتی تھیں۔ سروس کے آغاز میں میتیں ہسپتالوں سے حاصل کرکے اسی ضلع کے اندر منتقل کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔

    اس سہولت کے لیے شہری سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز کی ہیلپ لائن 1122 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    بعد میں اس سروس کو مزید بہتر کیا گیا اور ستمبر 2024 میں سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز نے ایئر کنڈیشنڈ میت گاڑیوں کے ذریعے سندھ بھر کے ہسپتالوں سے میتوں کی مفت منتقلی کی سہولت کا بھی اعلان کیا۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر سندھ ایمرجنسی اینڈ ریسکیو سروس، ریسکیو 1122 لطف منگریو کے مطابق 2023 سے اب تک تین سالوں میں 50 ہزار سے زائد میتوں کو باعزت طریقے سے سروس فراہم کی جا چکی ہے۔

    یہ سہولت صرف ایک گاڑی فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایسے خاندانوں کے لیے ایک عملی مدد ہے جو اپنے پیارے کی وفات کے بعد مالی مشکلات کا بھی سامنا کرتے ہیں۔ غم کی اس گھڑی میں میت کی منتقلی کے لیے دستیاب یہ سہولت خاندان کو ایک ایسے انتظامی مسئلے سے نجات دلاتی ہے جو پہلے ہی مشکل وقت میں ایک اضافی بوجھ بن سکتا ہے۔

  • ساگا ڈیجیٹل پبلک سروس میسیج: پولیو سے بچاؤ کے قطرے بچوں کو پلانا کیوں ضروری؟

    ساگا ڈیجیٹل پبلک سروس میسیج: پولیو سے بچاؤ کے قطرے بچوں کو پلانا کیوں ضروری؟

    پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے جو زیادہ تر بچوں کو نشانہ بناتی ہے اور ایک بار لاحق ہو جائے تو عمر بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بیماری اعصاب پر حملہ کرتی ہے اور چند ہی گھنٹوں میں بچے کے ہاتھ یا پاؤں ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں پولیو کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد کئی ممالک اس بیماری سے مکمل طور پر نجات حاصل کر چکے ہیں۔ یورپ، امریکہ، چین اور بیشتر ایشیائی ممالک میں پولیو اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ اس کامیابی کی واحد وجہ مسلسل اور مکمل ویکسینیشن ہے۔

    بدقسمتی سے پاکستان اب بھی ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس موجود ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق وائرس اب بھی ماحول میں گردش کر رہا ہے اور غیر ویکسین شدہ بچوں کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار پولیو مہم چلائی جاتی ہے، تاکہ کوئی بچہ اس حفاظتی دائرے سے باہر نہ رہ جائے۔

    پولیو کا کوئی علاج موجود نہیں، لیکن اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ پولیو کے قطرے بچے کے جسم میں قوتِ مدافعت پیدا کرتے ہیں، جو وائرس کو حملہ کرنے سے پہلے ہی روک دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بچے کو ایک بار نہیں بلکہ ہر مہم میں پولیو کے قطرے پلانا ضروری ہوتا ہے۔

    یہ قطرے مکمل طور پر محفوظ ہیں، مفت فراہم کیے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں اربوں بچوں کو دیے جا چکے ہیں۔ طبی تحقیق کے مطابق پولیو ویکسین سے سنگین مضر اثرات ثابت نہیں ہوئے، جبکہ اس کے فوائد نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتے ہیں۔

    اگر کوئی بچہ پولیو کے قطرے نہیں پیتا تو وہ صرف خود خطرے میں نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کے لیے بھی وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین صحت اجتماعی تحفظ پر زور دیتے ہیں، جس میں ہر بچے کی ویکسینیشن ضروری ہے۔

    جب پولیو ٹیمیں آپ کے دروازے پر آئیں تو انہیں روکنا نہیں بلکہ خوش آمدید کہنا چاہیے۔ اپنے پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں، چاہے وہ صحت مند ہی کیوں نہ نظر آتا ہو۔

    یاد رکھیں، پولیو سے انکار صرف ایک ویکسین سے انکار نہیں بلکہ بچے کے مستقبل، اس کی حرکت، اس کی تعلیم اور اس کی خودمختار زندگی سے انکار ہے۔

    آئیں، یہ عہد کریں کہ ہم اپنے بچوں کو وہ تحفظ دیں گے جس سے دنیا کے کئی ممالک اپنے بچوں کو محفوظ بنا چکے ہیں۔
    ہر بچہ، ہر بار، پولیو کے قطرے ضرور۔