Tag: پاکستانی ٹیم

  • آغا جی نے آغاز کر دیا

    آغا جی نے آغاز کر دیا

    آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ٹی ٹونٹی سیریز میں پاکستانی ٹیم کی وائٹ واش کامیابی اس بات کی نوید ہے کہ سلمان آغا کی قیادت میں قومی ٹیم ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہے۔

    آسٹریلین ٹیم کا کرکٹ معیار ہمیشہ بلند رہا ہے۔ یہ ٹیم دنیا کے کسی بھی کونے اور کسی بھی کنڈیشن میں جدوجہد کرتی نظر نہیں آتی اور عموماً معیاری اور جارحانہ کرکٹ کھیلتی ہے۔ تاہم اس مرتبہ آسٹریلین بلے باز اور بالرز دونوں ایشیائی کنڈیشن کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ پاکستانی ٹیم نے بیٹنگ اور بالنگ دونوں شعبوں میں آسٹریلیا کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔

    پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان یہ سیریز اس لیے بھی اہم تھی کہ رواں ہفتے شروع ہونے والے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں میزبان انڈیا کے بعد آسٹریلیا کو مضبوط اور فیورٹ ٹیم تصور کیا جا رہا تھا۔

    پاکستان سے شکست کے بعد ایک طرف آسٹریلین ٹیم کے اعتماد کو دھچکا لگا تو دوسری جانب بڑے ایونٹ سے پہلے ان کی کمزوریاں بھی سامنے آ گئیں۔ اس کے برعکس پاکستانی ٹیم کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب کرکٹ مبصرین پاکستان کو انڈیا کے بعد عالمی کپ کی دوسری مضبوط ٹیم قرار دے رہے ہیں۔

    پاکستانی ٹیم کی مجموعی کارکردگی اس سیریز میں توقعات سے بہتر رہی۔ خاص طور پر سلمان آغا، صائم ایوب، شاداب خان، عثمان اور بابر اعظم کی پاور ہٹنگ شائقین کو طویل عرصے تک یاد رہے گی۔

    گرین شرٹس کی جانب سے لانگ ہینڈل کا آزادانہ استعمال طویل عرصے بعد دیکھنے کو ملا، ورنہ پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے دفاعی کرکٹ کے سائے میں رہا ہے۔

    بیٹنگ کے اعتبار سے سب سے بڑا فائدہ یہ رہا کہ پاور پلے میں ٹاپ آرڈر روایتی سست روی کا شکار نہیں ہوا۔ اس بار جارحانہ اور حملہ آور کرکٹ دیکھنے کو ملی۔ برسوں بعد ایسا محسوس ہوا کہ پاکستانی بلے باز اننگز کا تسلسل اور توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ مزید یہ کہ پوری سیریز میں فنشنگ کا فقدان نظر نہیں آیا۔

    اس سیریز میں ایسا محسوس ہوا جیسے قسمت بھی پاکستان پر مہربان رہی۔ چھکے اور چوکے تو لگے ہی، ساتھ میں اسٹرائیک روٹیشن اور پلیسمنٹ بھی معیاری رہی۔ طویل عرصے سے بیٹنگ کے معاملے میں مایوسی کا شکار رہنے والی پاکستانی ٹیم صائم ایوب کی شمولیت کے بعد بدلی ہوئی نظر آئی۔ خوش آئند بات یہ رہی کہ دباؤ میں آ کر زیادہ ڈاٹ بالز نہیں کھیلی گئیں، جو ماضی میں کم اسٹرائیک ریٹ کی بڑی وجہ رہی ہیں۔

    بالنگ ڈیپارٹمنٹ میں مجموعی کارکردگی مؤثر رہی۔ فاسٹ بالرز کا ردعمل ملا جلا رہا، تاہم شاہین شاہ آفریدی نے آخری میچ میں مشکل وکٹ پر بھرپور بالنگ کر کے یہ تاثر دیا کہ اگر حالات ان کے حق میں ہوں تو وہ کسی بھی بیٹنگ لائن کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔

    ایسا لگتا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اس عالمی کپ میں فاسٹ بالرز کو محدود رکھتے ہوئے اسپن بالنگ پر زیادہ انحصار کرنا چاہتی ہے، جو سری لنکا کی کنڈیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا جہاں اسپنرز کو زیادہ مدد ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اسکواڈ میں پانچ مستند اسپنرز شامل کیے ہیں، جن میں ابرار احمد، شاداب خان، محمد نواز، عثمان طارق اور صائم ایوب شامل ہیں۔

    اس حوالے سے پاکستان اسپن بالنگ کے اعتبار سے عالمی کپ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہو سکتا ہے۔ عالمی کپ میں پاکستان کی جانب سے سب سے بڑا سرپرائز اسپن بالنگ میں دیکھنے کو مل سکتا ہے، خاص طور پر عثمان طارق سب کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔ ان کا بالنگ ایکشن اور ورائٹی سری لنکن کنڈیشن میں پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

    سلمان آغا کی کپتانی بھی اس سیریز میں مثالی رہی۔ فیلڈ میں ان کے دلیرانہ فیصلے قابل تعریف تھے۔ مسلسل جارحانہ فیلڈنگ سیٹ اپ کی وجہ سے آسٹریلین بیٹسمین رفتہ رفتہ وکٹیں گنواتے رہے۔ بالنگ چینجز، کیچنگ اسٹینڈرڈ اور کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج میں بھی نمایاں بہتری دکھائی دی۔

    پی سی بی کی جانب سے عالمی کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف مختصر سیریز کا فیصلہ بھی بروقت ثابت ہوا۔ دونوں ٹیموں کو بڑے ایونٹ سے قبل تیاری کا موقع ملا، تاہم فائدہ پاکستان نے زیادہ اٹھایا۔ یہ سیریز آنے والے وقت میں پاکستان کی کرکٹ سمت کا تعین کر سکتی ہے۔

    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے روایتی کرکٹ کو خیرباد کہہ کر جدید طرز کی کرکٹ میں قدم رکھ دیا ہے، اور اس نئے دور کا آغاز سلمان آغا کی قیادت میں ہو رہا ہے۔