Tag: پالیسی رپورٹ

  • پاکستان میں توانائی کی اصل تصویر: توانائی کی طلب کم نہیں ہوئی بلکہ اسے غلط طور پر پڑھا جا رہا ہے، رینیوایبلز فرسٹ کی اس پالیسی رپورٹ

    پاکستان میں توانائی کی اصل تصویر: توانائی کی طلب کم نہیں ہوئی بلکہ اسے غلط طور پر پڑھا جا رہا ہے، رینیوایبلز فرسٹ کی اس پالیسی رپورٹ

    پاکستان میں معیشت، آبادی اور شہروں کے پھیلاؤ کے باوجود سرکاری اعداد و شمار میں توانائی کے استعمال میں غیر معمولی ٹھہراؤ ایک عرصے سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

    ایک نئی پالیسی دستاویز کے مطابق یہ تاثر کہ پاکستان میں معاشی سرگرمی توانائی کے استعمال سے الگ ہو چکی ہے، درست نہیں بلکہ مسئلہ توانائی ناپنے کے موجودہ طریقہ کار کا ہے۔

    اسلام آباد میں قائم تحقیقی ادارے رینیوایبلز فرسٹ کی اس پالیسی رپورٹ کے مطابق ملک میں توانائی کی ایک بڑی مقدار سرکاری حساب کتاب میں شامل ہی نہیں ہو رہی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گھروں، کھیتوں اور صنعتوں میں لگنے والا سولر نظام تیزی سے پھیل رہا ہے، مگر یہ بجلی قومی توانائی کے اعداد و شمار میں نظر نہیں آتی۔ اسی وجہ سے یہ تاثر بنتا ہے کہ توانائی کی طلب کم ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں ملک بھر میں لگے تقسیم شدہ سولر نظام تقریباً 19 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی پیدا کر سکتے تھے، مگر یہ پیداوار سرکاری ڈیٹا میں شامل نہیں۔ یہ مقدار قومی گرڈ سے فراہم کی جانے والی بجلی کے ایک نمایاں حصے کے برابر ہے۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ توانائی کی طلب کم نہیں ہوئی بلکہ اسے غلط طور پر پڑھا جا رہا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی توانائی کا موجودہ نظام اب بھی بڑی حد تک تیل، گیس اور کوئلے پر انحصار کرتا ہے۔ یہ ایندھن نہ صرف درآمدی ہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی غیر مؤثر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فوسل ایندھن سے حاصل ہونے والی توانائی کا تقریباً 60 فیصد حصہ پیداوار، ترسیل اور استعمال کے دوران ضائع ہو جاتا ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سو روپے کی توانائی میں سے ساٹھ روپے کا فائدہ عملی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مالی سال 2023-24 میں فوسل ایندھن کی درآمد پر کھربوں روپے خرچ ہوئے، جو مجموعی معیشت اور زرِ مبادلہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

    اس کے مقابلے میں تقسیم شدہ سولر نظام کو رپورٹ میں ایک مختلف معاشی منطق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق سولر پینلز درآمد ضرور ہوتے ہیں، مگر یہ ایندھن کی طرح جل کر ختم نہیں ہوتے بلکہ پچیس سے تیس سال تک بجلی پیدا کرنے والا اثاثہ بن جاتے ہیں۔

    رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اب تک درآمد کیے گئے تقریباً 48 گیگاواٹ سولر نظام اپنی پوری مدت میں 100 سے 120 ارب ڈالر کے ایندھن کی درآمد سے بچا سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی پر منتقل ہونے والے استعمال، جیسے برقی گاڑیاں یا برقی مشینری، فوسل ایندھن کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ مؤثر ہیں۔ مثال کے طور پر اندرونی دہن کے انجن توانائی کا بڑا حصہ ضائع کر دیتے ہیں، جبکہ برقی موٹر زیادہ تر توانائی کو براہِ راست کام میں بدل دیتی ہے۔

    تحقیق کے مطابق پاکستان میں یہ تبدیلی کسی واضح سرکاری پالیسی کے تحت نہیں بلکہ صارفین کے اپنے فیصلوں کے نتیجے میں ہو رہی ہے۔ مہنگی اور غیر مستحکم بجلی، بڑھتے نرخ اور نظام کی خرابیوں نے گھروں اور کاروباروں کو سولر کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس صورتحال میں ریاستی منصوبہ بندی اور سرکاری ڈیٹا اس زمینی حقیقت سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر توانائی کی منصوبہ بندی، قوانین اور اعداد و شمار کو اس نئی حقیقت کے مطابق نہ بدلا گیا تو بجلی کا نظام، تقسیم کار کمپنیاں اور قومی خزانہ دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اگر اس تبدیلی کو تسلیم کر کے مربوط منصوبہ بندی کی گئی تو توانائی کا نظام زیادہ مؤثر، سستا اور مستحکم ہو سکتا ہے۔

    پالیسی دستاویز کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کی توانائی کا مسئلہ طلب میں کمی نہیں بلکہ ادھورے حساب کتاب اور پالیسی کی غلط سمت ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک عملی طور پر ایک برقی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، سوال صرف یہ ہے کہ یہ سفر بغیر منصوبہ بندی کے ہوگا یا شعوری فیصلوں کے ساتھ۔