محمد علی جناح نہ صرف ایک نامور وکیل، مدبر سیاست دان اور شاندار مقرر تھے بلکہ پارلیمانی آداب و روایات کے ایک اعلیٰ نمونے کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز کم عمری میں ہوا، جب وہ بمبئی میونسپلٹی کے کونسلر منتخب ہوئے۔ محض 33 برس کی عمر میں وہ امپیریل کونسل آف انڈیا، جسے انڈین لیجسلیٹو کونسل بھی کہا جاتا ہے، کے رکن منتخب ہو گئے۔
حلف برداری کے بعد وائسرائے کے ساتھ گروپ فوٹو، جس میں جناح دائیں جانب دوسری نشست پر بیٹھے ہوئے ہیں
اس دور میں مرکزی قانون ساز کونسل کے ارکان کا انتخاب صوبائی لیجسلیٹو کونسلوں کے ارکان کرتے تھے۔ چنانچہ بمبئی لیجسلیٹو کونسل نے 3 جنوری کو محمد علی جناح کو انڈین لیجسلیٹو کونسل کا رکن منتخب کیا۔ اس انتخاب میں محمد علی جناح نے پانچ ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدِمقابل مولوی رفیع الدین احمد کو تین ووٹ مل سکے۔
محمد علی جناح کی بطور رکن انڈین لیجسلیٹو کونسل کامیابی سے متعلق اخبار میں شائع ہونے والی خبرمحمد علی جناح کے بطور رکن انڈین لیجسلیٹو کائونسل حلف اٹھانے کے اسیمبلی کاروائی کا عکس
محمد علی جناح 1919 تک انڈین لیجسلیٹو کونسل کے رکن رہے اور رولٹ ایکٹ سے اختلاف کی بنیاد پر اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے مارچ 1919ء میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دیا۔ یہ استعفیٰ انہوں نے جابرانہ رولٹ ایکٹ کی منظوری کے خلاف بطورِ شدید احتجاج پیش کیا، کیونکہ اس قانون نے شہری آزادیوں کو بری طرح محدود کر دیا تھا اور جیوری کے بغیر مقدمات چلانے کی اجازت دی تھی۔ جناح کے نزدیک یہ قانون بنیادی انصاف اور آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ برطانوی حکومت نے امن کے زمانے میں ایسا جبری قانون نافذ کر کے ناانصافی کی اور اس طرح خود کو ایک مہذب حکومت کہلانے کے حق سے محروم کر لیا۔
استعفیٰ پیش کرتے وقت محمد علی جناح نے امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں ایک تاریخی اور یادگار تقریر بھی کی۔
بعد ازاں وہ دوسری مرتبہ 1924ء میں انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اور پھر 1927ء، 1935ء اور 1946ء میں بھی اسی اسمبلی کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے رکن اور صدر بھی رہے۔ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے رکن کے طور پر ان کا انتخاب پنجاب اسمبلی نے کیا تھا، جبکہ لیاقت علی خان کا انتخاب بنگال اسمبلی نے کیا
جب انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے اجلاس کے اندر بھگت سنگھ نے بم پھینکے.
بھگت سنگھ برصغیر کا وہ انقلابی کردار ہے جس نے نہایت کم عمری میں ہی برصغیر کی سیاست اور انگریز سامراج سے آزادی کی جدوجہد پر اَن مِٹ نقوش چھوڑے۔
27 ستمبر 1907 کو لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے تعلقہ جڑانوالہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بنگا (جس کا نام بعد میں بھگت پور رکھا گیا) میں پیدا ہونے والے بھگت سنگھ کو محض 23 برس کی عمر میں 23 مارچ 1931 کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔
بھگت سنگھ برطانوی سامراج کے بربریت سے سخت نالاں تھے۔ جب وہ صرف 12 برس کے تھے تو امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں قتلِ عام کا واقعہ پیش آیا، جس نے اُن کی سوچ اور شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ کم عمری ہی میں وہ ہندوستاں سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کے رکن اور رہنما کے طور پر ابھرے۔
اُس دور میں انگریز حکومت نے ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے ۔سائمن کمیشن قائم کیا، جس میں ایک بھی مقامی ہندوستانی شامل نہ تھا۔ اس پر برصغیر کی تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
جب سائمن کمیشن بمبئی پہنچنے والا تھا تو لاہور میں معروف سیاسی، سماجی، فلاحی اور قوم پرست رہنما لالا لجپت رائے کی قیادت میں لاہور ریلوے اسٹیشن پر احتجاج ہوا۔ اس احتجاج پر پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمس اسکاٹ کی قیادت میں شدید تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن اور کانگریس کے مرکزی رہنما لالا لجپت رائے زخمی ہوئے اور بعد ازاں وفات پا گئے۔
اس واقعے کے بعد نوجوان بھگت سنگھ نے لالا لجپت رائے کے خون کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ 17 دسمبر 1928 کو بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی راج گرو کے ہمراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ جیمس اسکاٹ کے بجائے غلطی سے ایک اور نوجوان پولیس افسر جان سانڈرز کو قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد وہ روپوش ہو کر لکھنؤ چلے گئے۔
بھگت سنگھ کی جانب سے اسمبلی میں بم پھینکنے والے واقعے کی شایع خبر
اس کے بعد بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں نے انگریز سرکار کے سامنے ایک بڑا دھماکا کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 8 اپریل 1929 کو دہلی میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران بھگت سنگھ نے اپنے ساتھی بتوکیشور دت کے ساتھ دو کم شدت والے بم پھینکے، جن سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے اسمبلی میں پمفلٹ اچھالے، آزادی کے نعرے لگائے اور خود کو گرفتار کرا دیا۔
بروز پیر، 8 اپریل 1929
مرکزی قانون ساز اسمبلی، دہلی
ہندوستان کی تیسری مرکزی اسمبلی کا چوتھا اجلاس معمول کے مطابق اسپیکر وِٹھل بھائی پٹیل (سردار ولبھ بھائی پٹیل کے بڑے بھائی) کی صدارت میں جاری تھا۔ اس اجلاس میں سندھ کے دو اراکین، سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون اور وڈیرہ محمد پناہ خان ڈکھن سمیت کُل 94 اراکین موجود تھے۔
سوال و جواب کے وقفے میں دو سوالات کے بعد اسپیکر نے اعلان کیا کہ اب ایوان میں ‘دی ٹریڈ ڈسپیوٹس بل‘ پر دوبارہ بحث کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے بعد میاں محمد شاہنواز (مغربی وسطی پنجاب — مسلم)، کرنل جی ڈی کرافورڈ (بنگال — یورپی)، ایم کے اچاریہ، سی ایس رنگا ایئر، فضل ابراہیم رحمت اللہ (بمبئی سینٹرل ڈویژن، مسلم دیہی) اور سر بھوپیندر ناتھ مترا نے بل پر تقاریر کیں۔
آخر میں اسپیکر نے قرارداد پیش کی کہ یہ بل جیسا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی سے منظور ہو کر آیا ہے، ویسے ہی اس ایوان سے بھی منظور کیا جائے۔ ووٹنگ کے نتیجے میں بل کے حق میں 56 اور مخالفت میں 38 ووٹ پڑے۔ اسپیکر ابھی بل کی منظوری کا اعلان ہی کر رہے تھے کہ وزیٹرز گیلری سے چند بم ایوان میں اچھال دیے گئے۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہ ہوا، تاہم چند اراکین زخمی ہو گئے۔
اسی دوران بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھی ‘انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں پمفلٹ پھینکتے رہے۔ دھماکوں کے بعد ایوان میں افراتفری پھیل گئی، مگر بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھی فرار ہونے کے بجائے نعرے لگاتے ہوئے خود گرفتاری کے لیے پیش ہو گئے۔ اسپیکر بھی اپنی نشست چھوڑ کر چلے گئے، لیکن کچھ دیر بعد واپس آئے اور کارروائی ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اجلاس بروز جمعرات، 11 اپریل 1929، صبح 11 بجے دوبارہ ہوگا۔
اسمبلی میں بم دھماکے کے باوجود 11 اپریل 1929 کو اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اسپیکر نے ایک قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا: ‘یہ ایوان اس ماہ کی آٹھ تاریخ کی صبح ہونے والے وحشیانہ اور غیر انسانی حملے پر اپنے دکھ اور غصے کا اظہار کرتا ہے اور سردار سر بومانجی دلال اور دیگر زخمی ہونے والوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔
‘یہ ایوان خدائے مہربان کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس حملے کے سنگین نتائج برآمد نہ ہوئے۔ یہ ایوان اس حملے کی مکمل مذمت کرتا ہے اور اعلیٰ حکام کو یقین دلاتا ہے کہ ایسے جرائم کے اعادے کو روکنے کے لیے جو بھی مناسب اقدامات ضروری ہوں، اُن میں اس ایوان کا مکمل تعاون حاصل ہوگا۔‘
اس واقعے کے بعد بھگت سنگھ اور اُن کے ساتھیوں پر مقدمات چلائے گئے۔ ٹرائل کے بعد بھگت سنگھ کو اسمبلی میں بم پھینکنے کے جرم میں عمر قید، جب کہ پولیس سارجنٹ جان سانڈرز کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔
23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اُن کے جسدِ خاکی ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے رات کی تاریکی میں گنڈا سنگھ والا گاؤں میں آخری رسومات ادا کر کے راکھ دریائے ستلج میں بہا دی گئی۔