Tag: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

  • ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ: پاکستان میں ترقیاتی منصوبے بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے خطرات سے دوچار

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ: پاکستان میں ترقیاتی منصوبے بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے خطرات سے دوچار

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے پروجیکٹس کی منصوبہ بندی، منظوری، ٹھیکوں کی تقسیم اور عمل درآمد کے مراحل مختلف انتظامی کمزوریوں اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث بدعنوانی کے خطرات سے دوچار ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ملک میں قوانین اور ضابطے تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے عوامی سرمایہ کاری کے نتائج متاثر ہو رہے ہیں۔

    ’انفراسٹرکچر کرپشن رسک اسیسمنٹ‘کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان کو انفراسٹرکچر گورننس کے حوالے سے 10 میں سے 6.34 کا رسک اسکور دیا گیا ہے، جسے ’زیادہ خطرے‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس درجہ بندی کا مطلب ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی، منظوری، خریداری اور ٹھیکوں کے مراحل میں انتظامی کمزوریاں موجود ہیں جو بدعنوانی یا غیر ضروری اثر و رسوخ کے امکانات کو بڑھا سکتی ہیں۔

    مطالعے کے مطابق پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کمزور مالی گنجائش ہے۔ بار بار پیش آنے والے مالیاتی بحران، قرضوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ نے ترقیاتی اخراجات کے لیے دستیاب وسائل کو محدود کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) جو ماضی میں حکومتی سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ تھا، اب مالی دباؤ کی وجہ سے سکڑ چکا ہے۔

    مجموعی عوامی سرمایہ کاری جو مالی سال 2018-17 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 4.9 فیصد کے برابر تھی، حالیہ برسوں میں کم ہو کر تقریباً 2.6 فیصد رہ گئی ہے۔ دوسری جانب قرضوں کی ادائیگی وفاقی اخراجات کا تقریباً نصف حصہ کھا جاتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوامی مالیاتی انتظام کے لیے آئینی اور قانونی ڈھانچہ موجود ہے، تاہم عملی صورت حال مختلف ہے۔ مالی ذمہ داری اور قرضوں کی حد سے متعلق قانون کے تحت عوامی قرضوں کی ایک حد مقرر کی گئی تھی، لیکن ملک کا قرضہ کئی برسوں سے اس قانونی حد سے تجاوز کر رہا ہے۔

    اسی طرح آڈٹ ادارے بے ضابطگیوں کی نشاندہی تو کرتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کارروائی میں تاخیر اور کمزور احتساب کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور جانچ پڑتال کے نظام میں بھی خامیاں موجود ہیں۔ اصولی طور پر ہر منصوبے کو ابتدائی تصوراتی نوٹ، فنی و مالیاتی جانچ اور مختلف منظوری کے مراحل سے گزرنا چاہیے، مگر عملی طور پر کئی وزارتیں اور محکمے ابتدائی مراحل کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست منصوبے منظوری کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔

    اس عمل سے منصوبوں کی معروضی جانچ کمزور پڑ جاتی ہے اور غیر ضروری یا کم ترجیحی منصوبوں کے شامل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خریداری اور ٹھیکوں کی تقسیم کے قوانین بین الاقوامی معیار کے مطابق شفافیت اور مسابقت کے اصولوں پر مبنی ہیں، تاہم وقت کے ساتھ بعض قانونی تبدیلیوں نے ان اصولوں کو کمزور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض حالات میں سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کی گنجائش موجود ہے، جس سے کھلے مقابلے کے اصول متاثر ہوتے ہیں۔

    رپورٹ میں الیکٹرانک پروکیورمنٹ سسٹم (ای پی اے ڈی ایس) کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد سرکاری خریداری کے عمل کو زیادہ شفاف بنانا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس نظام کا نفاذ تمام اداروں میں یکساں نہیں ہے اور بعض سرکاری ادارے اب بھی اپنے الگ نظام استعمال کر رہے ہیں، جس سے معلومات کے یکجا ہونے اور مؤثر نگرانی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق انفراسٹرکچر گورننس کا بنیادی مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد میں موجود خلا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبوں کی ترجیحات کے تعین، وسائل کی تقسیم، نگرانی اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے): ایک کیس اسٹڈی

    رپورٹ میں خاص طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو بطور نمونہ ادارہ منتخب کرکے ہائی ویز پروجیکٹس کی منصوبہ بندی اور انتظامی نظام کا تجزیہ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں میں سڑکوں، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم اس کے باوجود یہ سرمایہ کاری عوام کی زندگیوں میں مطلوبہ معاشی اور سماجی بہتری لانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس صورت حال نے ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، کارکردگی اور مؤثریت کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔

    ادارہ جاتی سطح پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں 2024 کے دوران متعارف کرائی گئی اصلاحات بہتر طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہیں۔

    ایک خودمختار نیشنل ہائی وے کونسل کے قیام، پیشہ ور بورڈ کو جوابدہ چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کی تقرری اور اصلاحاتی عمل کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹرانسفارمیشن یونٹ کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارے میں اصلاحات لانے کی کوشش ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان اصلاحات پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے تو انفراسٹرکچر کے شعبے میں حکمرانی کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

    تاہم جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان اصلاحات پر عمل درآمد ابھی مکمل نہیں ہو سکا اور یہ عمل سیاسی مداخلت اور اختلافات سے بھی متاثر ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے کونسل میں ابتدائی تقرریاں سرکاری اداروں کے قانون (ایس او ای ایکٹ) میں مقرر کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق نہیں تھیں۔ اسی طرح بورڈ آف ڈائریکٹرز اب بھی زیادہ تر رسمی منظوری دینے والے ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ منصوبوں کی لاگت میں مسلسل اضافے کے حوالے سے جوابدہی کا نظام بھی واضح نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر این ایچ اے میں فیصلے اب بھی قواعد و ضوابط اور کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت اور اثر و رسوخ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف مفاداتی گروہوں کا اثر بہت زیادہ ہے، عوامی مشاورت زیادہ تر رسمی کارروائی تک محدود ہے، جبکہ منصوبوں کی ترجیحات کے تعین اور ٹھیکوں کی تقسیم کے عمل پر بیرونی سیاسی اثر و رسوخ بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس جائزے کا مقصد کسی مخصوص منصوبے میں بدعنوانی ثابت کرنا نہیں بلکہ ایسے انتظامی اور پالیسی عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جو بدعنوانی یا ناقص حکمرانی کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔ مطالعے کے لیے دستاویزی تحقیق کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر گورننس سے وابستہ 14 ماہرین اور متعلقہ افراد کے انٹرویوز بھی کیے گئے۔

    سرکاری اداروں کے لیے تجاویز

    رپورٹ کے اختتام پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پارلیمانی اداروں اور متعلقہ محکموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب، جانچ، خریداری اور نگرانی کے مراحل میں شفافیت، مسابقت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ عوامی سرمایہ ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور ترقیاتی منصوبے واقعی عوامی فلاح اور معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکیں۔

    رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل پانچ سالہ سرمایہ کاری حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں ترجیحات، مالی وسائل اور متوقع نتائج واضح طور پر بیان کیے جائیں۔ جاری منصوبوں کے لیے کئی سالہ مالی وعدوں کو تحفظ دیا جائے تاکہ فنڈز کی کمی کے باعث تاخیر اور لاگت میں اضافے سے بچا جا سکے۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ہر منصوبہ مرحلہ وار جانچ کے عمل سے گزرے۔ منصوبے کے ابتدائی تصور، فنی و مالیاتی جانچ اور حتمی منظوری کے تمام مراحل پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ بڑے منصوبوں کی آزادانہ جانچ پڑتال کی جائے اور ان کی فزیبلٹی رپورٹس عوام کے لیے دستیاب ہوں۔ منصوبوں کی تکمیل کے بعد مکمل رپورٹ شائع کرنا بھی لازمی قرار دیا جائے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کے انتخاب کے لیے واضح اور عوامی معیار مقرر کیے جائیں تاکہ سیاسی اثر و رسوخ کے بجائے قومی ضرورت، معاشی فائدے اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔ اسی طرح سرکاری خریداری کے نظام میں مسابقت اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کے عمل کو محدود کیا جائے اور تمام اداروں کو یکساں خریداری قوانین کا پابند بنایا جائے۔

    رپورٹ میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت دیگر سرکاری اداروں کی مالی اور انتظامی معلومات عوام کے سامنے لانے، منصوبوں کے اخراجات اور معاہدوں کی تفصیلات شائع کرنے اور پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کے تحفظ کے لیے وسل بلوئر قانون نافذ کرنے اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد کو سخت بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تیاری کے مرحلے میں مقامی آبادی، خواتین اور کمزور طبقات کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبے عوامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان پر اعتماد میں اضافہ ہو۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے انفراسٹرکچر منصوبوں میں بدعنوانی کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔