سندھ حکومت نے شہریوں کو جدید، آرام دہ اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے جنوری 2023 میں سرکاری الیکٹرک بس سروس کا آغاز کیا، جو نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی پہلی سرکاری الیکٹرک پبلک بس سروس تھی۔
اس منصوبے کا مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی میں کمی لانا بھی ہے۔
الیکٹرک بسیں بیٹری سے چلتی ہیں، اس لیے ان سے دھواں خارج نہیں ہوتا اور یہ روایتی ڈیزل بسوں کے مقابلے میں بہت کم شور پیدا کرتی ہیں۔ پہلی بار ان بسوں میں سفر کرنے والے مسافر سب سے پہلے ان کی خاموشی اور ہموار سفر کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ انجن کی گڑگڑاہٹ تقریباً سنائی نہیں دیتی۔
اس وقت کراچی میں الیکٹرک بسوں کے پانچ اہم روٹس فعال ہیں۔ ای وی ون ملیر کینٹ کو کلفٹن کے ڈولمین مال سے ملاتی ہے، ای وی ٹو بحریہ ٹاؤن سے ملیر ہالٹ تک چلتی ہے، ای وی تھری ملیر کینٹ سے نمائش تک سفر کرتی ہے، ای وی فور بحریہ ٹاؤن کو عائشہ منزل سے جوڑتی ہے، جبکہ ای وی فائیو ڈی ایچ اے سٹی سے سہراب گوٹھ تک چلتی ہے۔ سندھ حکومت شہریوں کی سہولت کے لیے مرحلہ وار نئے روٹس بھی متعارف کرا رہی ہے تاکہ مزید علاقے اس سروس سے مستفید ہو سکیں۔
الیکٹرک بسوں میں جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جن میں مکمل ایئر کنڈیشننگ، آرام دہ نشستیں، سی سی ٹی وی کیمرے، جی پی ایس ٹریکنگ، خودکار اسٹاپ اعلان، کم فرش والا ڈیزائن اور معذور افراد کے لیے ریمپ شامل ہیں، تاکہ ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد آسانی سے سفر کر سکیں۔
ان بسوں کی بیٹری ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے کے بعد تقریباً 240 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے بعد اسے دوبارہ چارج کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کراچی میں مستقبل میں مزید الیکٹرک بسیں شامل کی جائیں تو شہر میں فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، ایندھن پر ہونے والے اخراجات کم ہوں گے اور شہریوں کو زیادہ آرام دہ، جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ میسر آئے گی۔ اسی مقصد کے تحت سندھ حکومت مرحلہ وار مزید الیکٹرک بسیں اور نئے روٹس متعارف کرا رہی ہے۔


