Tag: وہیکل بم

  • وہیکل بم کیا ہے؟ پاکستان میں گاڑی بم کی تاریخ

    وہیکل بم کیا ہے؟ پاکستان میں گاڑی بم کی تاریخ

    کراچی میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی برآمد کرلی۔
    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کے مطابق گاڑی میں 3400 کلوگرام بارود بھرا ہوا تھا، دہشتگرد گروہ نے کراچی اسٹاک ایکسچینج کو بارودی مواد سے اُڑانے کی تیاری کررکھی تھی۔ دھماکے کے لیے اس طرح کی گاڑی کو
    وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسِو ڈیوائس جسے عام زبان میں وہیکل بم یا گاڑی بم کہا جاتا ہے،

    وہیکل بورن امپرووائزڈ ایکسپلوسِو ڈیوائس جسے عام زبان میں وہیکل بم کہا جاتا ہے، ایسا دھماکہ خیز آلہ ہوتا ہے جو کسی گاڑی کے اندر یا اس پر نصب کیا جاتا ہے۔ گاڑی کار ہو سکتی ہے، وین، پک اپ، بس یا بڑا ٹرک بھی۔ گاڑی کی مدد سے بارودی مواد ہدف تک پہنچایا جاتا ہے، اسی لیے اس طریقے میں تباہی کی شدت زیادہ ہوتی ہے اور نفسیاتی اثر بھی گہرا پڑتا ہے۔

    یہ ہتھیار کیوں خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ گاڑی عام ٹریفک میں غیر نمایاں رہتی ہے اور اس میں بھاری مقدار میں بارود منتقل کیا جا سکتا ہے۔ شہری علاقوں میں ایسی گاڑیاں ہجوم تک آسانی سے پہنچ جاتی ہیں۔ ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ بہت سے حملوں میں دھماکے کا وقت اس طرح چنا جاتا ہے کہ زیادہ لوگ موجود ہوں، تاکہ خوف کا اثر طویل ہو۔

    کن گاڑیوں کا زیادہ استعمال ہوا۔ پاکستان میں زیادہ تر حملوں میں عام کاریں اور چھوٹی وینز استعمال ہوئیں کیونکہ یہ آسانی سے دستیاب رہیں۔ پک اپ اور لوڈر گاڑیاں زیادہ وزن اٹھانے کے لیے استعمال ہوئیں۔ سب سے تباہ کن حملوں میں بڑے ٹرک اور ڈمپر استعمال کیے گئے جن میں سینکڑوں کلو بارودی مواد بھرا گیا۔ بعض علاقوں میں موٹر سائیکلیں بھی استعمال ہوئیں تاکہ تنگ گلیوں سے گزر ممکن ہو۔ ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ کچھ حملوں میں ایمبولینس یا سروس گاڑیوں کا بیرونی ڈھانچا استعمال کیا گیا تاکہ جانچ سے بچا جا سکے۔

    پاکستان میں وہیکل بم حملوں کی ابتدا اور پھیلاؤ۔ دو ہزار سات کے بعد یہ رجحان نمایاں ہوا اور بڑے شہری مراکز اس کی زد میں آئے۔ اکتوبر 2007 میں کراچی کے علاقے کارساز میں سیاسی قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک سو اسی سے زائد افراد جان سے گئے اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال بنا کہ ہجوم میں ہونے والا وہیکل بم کس قدر تباہی لا سکتا ہے۔

    ستمبر 2008 میں اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل کے باہر ڈمپر ٹرک میں نصب وہیکل بم پھٹا۔ پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ دھماکے کے بعد آگ نے عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس واقعے نے سیکیورٹی منصوبہ بندی میں فاصلے اور مضبوط رکاوٹوں کی اہمیت کو نمایاں کیا۔

    کراچی میں مارچ 2013 کو عباس ٹاؤن کے قریب کار بم دھماکا ہوا۔ چالیس سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی خاص بات یہ تھی کہ پہلے دھماکے کے بعد دوسرا دھماکا بھی ہوا، جس نے امدادی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ یہ حکمت عملی کم استعمال ہوتی ہے مگر انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔

    بلوچستان میں وہیکل بم حملوں نے خاص طور پر شدید اثرات چھوڑے۔ جنوری 2013 میں کوئٹہ کے علمدار روڈ کے قریب کار بم دھماکے میں نوے سے زائد افراد جان سے گئے اور ایک سو بیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ بلوچستان کی تاریخ کے مہلک ترین شہری حملوں میں شمار ہوتا ہے۔ کوئٹہ اور مستونگ کے واقعات نے یہ واضح کیا کہ مذہبی اجتماعات اور زیارات بھی نشانے پر رہے۔

    پشاور میں چیک پوسٹوں، بازاروں اور پولیس تنصیبات کے قریب وہیکل بم حملے ہوئے۔ ان حملوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی متاثر ہوئے۔ ایک کم معلوم پہلو یہ ہے کہ کچھ حملوں میں گاڑی کو اس طرح پارک کیا گیا کہ دھماکے کی سمت عمارتوں کے اندر کی طرف ہو، تاکہ نقصان زیادہ ہو۔

    دنیا کے بڑے وہیکل بم اور ان کا سبق۔ جدید دور کا سب سے ہلا دینے والا وہیکل بم حملہ 2017 میں صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ہوا۔ ایک بڑے ٹرک میں بھرے گئے بارودی مواد نے پورے علاقے کو تباہ کر دیا۔ سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال بنا کہ ٹرک بم ایک پورے شہر کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے 1995 میں امریکا کے شہر اوکلاہوما میں ٹرک بم حملے نے یہ ثابت کیا کہ یہ خطرہ صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں۔

    وہیکل بم میں کیا بھرا جاتا ہے۔ عام طور پر کھاد پر مبنی بارودی مرکبات، فوجی گولہ بارود، ایندھن اور دھات کے ٹکڑے شامل ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں آگ اور دباؤ بڑھانے کے لیے مخصوص مرکبات ملائے جاتے ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ دھماکے کے بعد بچ جانے والے پرزے اکثر تفتیشی اداروں کو حملہ آور نیٹ ورک تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔

    کم معلوم مگر اہم حقیقتیں۔ بڑے وہیکل بم کبھی اکیلے افراد تیار نہیں کرتے۔ اس کے لیے مالی وسائل، محفوظ مقامات، نقل و حمل اور تربیت یافتہ افراد کا جال درکار ہوتا ہے۔ بعض حملوں میں پہلا دھماکا ہجوم اکٹھا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور دوسرا دھماکا امدادی ٹیموں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ طریقہ خوف اور نقصان دونوں کو بڑھاتا ہے۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ بعض حملہ آور عام سروس روٹین اور اوقات کا مطالعہ کر کے حملے کا وقت طے کرتے ہیں۔

    نفسیاتی اور سماجی اثرات۔ وہیکل بم کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں ہوتا بلکہ عدم تحفظ کا احساس پھیلانا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حملے علامتی مقامات یا مصروف علاقوں میں کیے جاتے ہیں۔ طویل مدت میں یہ معاشرے پر خوف اور بے یقینی کے اثرات چھوڑتے ہیں۔