یورپی ملک ہنگری کے عام انتخابات کے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حمایتی وکٹر اوربان کی انتخابی مہم کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ بھی کام نہ آیا، عام انتخابات میں وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا
وکٹر اوربان کو روس کی حمایت بھی حآسل ہے۔
ہنگری کے ووٹرز نے ریکارڈ تعداد میں پولنگ سٹیشنوں پر پہنچ کر ووٹ ڈالے تو یورپ کی سیاست میں ایک تاریخی زلزلہ آیا۔
16 سال سے مسلسل اقتدار میں رہنے والے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی قومیت پسندانہ اور یورپی یونین مخالف حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
ان کی جگہ پیٹر مَجار (Péter Magyar) کی قیادت میں تیسزا پارٹی نے واضح اکثریت کے ساتھ فتح حاصل کر لی۔یہ نتیجہ نہ صرف ہنگری بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن دونوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔
ریکارڈ 79 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ کے ساتھ ہنگری کی 199 رکنی پارلیمنٹ میں تیسزا پارٹی نے تقریباً 53 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے 138 نشستیں جیت لیں، جو دو تہائی سپر میجرٹی کے برابر ہے۔
دوسری جانب اوربان کی فیدیز کے ڈی این پی صرف 37 فیصد ووٹوں کے ساتھ 55 نشستیں ہی حاصل کر سکی۔
اوربان نے رات گئے شکست تسلیم کرتے ہوئے میگر کو مبارکباد پیش کی اور ان کی کامیابی کو ‘دردناک نتیجہ’ قرار دیا۔
یہ انتخابات ہنگری کی پوسٹ کمیونسٹ تاریخ میں سب سے اہم ثابت ہوئے۔
پیٹر میگر، جو خود ایک وقت میں اوربان کے وفادار تھے، نے کرپشن، معاشی بدحالی، صحت اور تعلیم کے مسائل پر زور دے کر مہم چلائی۔ ان کی پارٹی نے یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ قریبی تعاون، جمہوری اصلاحات اور روس سے فاصلہ اختیار کرنے کا وعدہ کیا۔
اب دو تہائی اکثریت کی بدولت نئی حکومت آئین میں ترمیم، عدالتی اصلاحات اور یورپی یونین کی روکی گئی اربوں ڈالر کی فنڈنگ بحال کرنے میں آسانی سے کامیاب ہو سکے گی۔
عالمی سطح پر اس نتیجے کی اہمیت انتہائی گہری ہے۔
وکٹر اوربان پوپولسٹ دائیں بازو کی تحریکوں کے لیے ایک آئیکن بن چکے تھے۔ وہ یوکرین جنگ میں روس کے قریب رہے، یورپی یونین کو کھلی تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور ‘غیر لبرل جمہوریت’ کا ماڈل پیش کرتے رہے۔
صدر ٹرمپ نے انہیں ‘فینٹاسٹک مین’ قرار دیا تھا اور الیکشن سے صرف چند روز قبل نائب صدر جے ڈی وینس نے بوداپیسٹ جا کر اوربان کی حمایت میں ریلی میں شرکت کی تھی۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اوربان کی ‘مسلسل قیادت’ کی تعریف بھی کی تھی۔ لیکن ہنگری کے ووٹرز نے اس ‘ماڈل’ کو مسترد کر دیا۔
یہ نتیجہ واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ یورپ میں پوپولسٹ اتحاد اتنا مضبوط نہیں جتنا لگتا تھا۔ڈیموکریٹس نے فوری طور پر اسے ‘ٹرمپ کے سائکوفنٹس’ کے لیے وارننگ قرار دیا۔
اسی طرح ماسکو میں بھی مایوسی کا عالم ہے، کیونکہ اوربان یوکرین کی مدد روکنے والے اہم یورپی رہنما تھے۔
پیٹر مَجار نے فتح کے بعد کہا کہ ‘ہم نے ملک واپس حاصل کر لیا ہے’۔ان کی حکومت اب یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بحال کرے گی، جمہوری اصولوں کو مضبوط کرے گی اور روزمرہ مسائل پر توجہ دے گی۔
یہ تبدیلی ہنگری کے لیے ایک نئی صبح ثابت ہو سکتی ہے، جہاں عوام نے کرپشن اور معاشی پسماندگی کے خلاف آواز اٹھائی۔
ہنگری کے ان انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جمہوریت میں عوام کی مرضی سب سے بالا ہوتی ہے۔ وکٹر اوربان جیسے طویل اقتدار والے رہنماؤں کے لیے بھی ووٹرز کی طاقت ناقابل تسخیر ہوتی ہے۔صدر ٹرمپ اور پوٹن دونوں کے لیے یہ دھچکا یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی اتحاد ہمیشہ نہیں چلتا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی ہنگری کی حکومت یورپ اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو کیسے متاثر کرتی ہے۔یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو نہ صرف ہنگری بلکہ پوری یورپ کی سیاست کی سمت بدل سکتا ہے۔تبدیلی کا یہ زور اب صرف ہنگری تک محدود نہیں رہے گا۔

