Tag: وفاقی بجٹ 2026-27

  • بجٹ 2026-27: آئندہ مالی سال کے دوران صوبے وفاق کو 8,848 ارب روپے فراہم کریں گے

    بجٹ 2026-27: آئندہ مالی سال کے دوران صوبے وفاق کو 8,848 ارب روپے فراہم کریں گے

    وفاقی وزیر خزانہ نے انکشاف کیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران صوبے وفاقی آمدن میں 8,848 ارب روپے کا حصہ ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بعض قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر اتفاق ہوا ہے۔

    گزشتہ ہفتے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان صوبائی حصے میں ممکنہ کمی کے معاملے پر طویل مذاکرات جاری تھے، جس کے باعث بجٹ اجلاس کو دو مرتبہ مؤخر کرنا پڑا۔

    ذرائع کے مطابق تمام صوبے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت اپنے حصے میں کسی بھی قسم کی کمی پر آمادہ نہیں تھے، جبکہ وفاقی حکومت قومی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صوبوں کے ساتھ قابلِ قبول اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

    وزیر خزانہ کے مطابق اس طریقہ کار کے مثبت اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون کی بنیاد پر طے پایا ہے اور اس سے صوبوں کے آئینی حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس طریقہ کار کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے مطابق برقرار رہے گا۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس آمدن کا تخمینہ 15,264 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو رواں مالی سال کے 12,983 ارب روپے کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ متوقع ٹیکس آمدن میں سے 13,250 ارب روپے وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق صوبے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت قومی اسٹریٹجک ضروریات پوری کرنے کے لیے گرانٹس فراہم کریں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ طریقہ کار مالی سال 2026-27 تک نافذ رہے گا، جبکہ مالی سال 2027-28 اور 2028-29 کے لیے بھی صوبوں سے مشاورت کے بعد اسی طرز پر اس کی تجدید کی جائے گی۔

    انہوں نے قومی مفاد کے لیے تعاون کرنے پر صوبائی حکومتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  • 18 ہزار ارب روپے سے زائد وفاقی بجٹ 2026-27 قومی اسیمبلی میں پیش کردیا گیا

    18 ہزار ارب روپے سے زائد وفاقی بجٹ 2026-27 قومی اسیمبلی میں پیش کردیا گیا

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمع کو قومی اسیمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27 کا18کھرب 80 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

    قومی اسمبلی کے اسپیکر ایازصادق کی زیرصدارت بجٹ اجلاس اپوزیشن اراکین کی جانب سے شور شرابے سے شروع ہوا جو وزیر خزانہ کی تقریر کے اختتام تک جاری رہا۔ حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جبکہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے اضافہ ہوگا۔

    اگلے مالی سال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، بی آئی ایس پی کے لیے یہ رقم پچھلے سال کےمقابلے میں17فیصد زیادہ ہے۔

    بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے ہوگا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے ہوگی۔

    وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18ہزار 771 ارب روپے ہے، 8 ہزار 54 ارب روپے سود کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے، پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کا تخمینہ 17ہزار 495 ارب روپے ہے۔

    بجٹ کے مطابق پینشن پر مجموعی طور پر ایک ہزار 169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پینشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔

    دفاع کے لیے 3ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سبسڈی کی مد میں ایک ہزار 91ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

    بجٹ دستاویز کے مطابق سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار 71ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر جاری اخراجات 17ہزار 495ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔

    وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک ہزار 50ارب ہوگا جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15ہزار264ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال میں وفاقی حکومت نے صحت عامہ کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم کے شعبے کے لیے 26.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں

    انکم ٹیکس شرح میں بڑی تبدیلی

    وزیر خزانہ نے آمدنی کے 4 سلیب کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف دینے کا اعلان کیا۔ جس کے مطابق تمام سلیبس پر ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے۔ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح25 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے، جبکہ 32 سے 41 لاکھ تک آمدنی پرٹیکس کی شرح30 فیصد کے بجائے 25 فیصد ہوگی۔

    اسی طرح41 سے56 لاکھ روپےسالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد کے بدلے 29 فیصد جبکہ 56 سے70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد کے بجائے 32 فیصد کیا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دارطبقے پرعائد 9 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیر خزانہ نے سپر ٹیکس کو بھی کم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ 15سے50 کروڑروپےتک آمدنی کی 6 سلیبس پرعائد سپر ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے، 50کروڑسےزیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 سےکم کرکے8فیصد کیا جارہے ہے تاہم بینکوں، تیل وگیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزرز پر سرچارج برقرار ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت مزید3 سال تک جاری رکھنےکی تجویز ہے۔

    جائیدادمنتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی جارہی ہے، فائلرز کےلیےجائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سےکم کرکے1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کےلیے جائیداد کی فروخت پرودہولڈنگ ٹیکس 5.5 سےکم کرکے2.75 فیصد کیا جارہا ہے۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایکسپورٹ پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم سےکم ٹیکس کی مدد میں مجموعی طورپر2 فیصدٹیکس ہے جسے کم کرکے 1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جوکہ کم سےکم ٹیکس کی مد میں ہے۔

    وزیر خزانہ کے مطابق کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈکےبیرون ملک استعمال پرودہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد کرنے، غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے۔ یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنےکی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ چھوٹےدکانداروں کےلیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کیا جارہا ہے، اس سسٹم سے وہ دکاندار فائدہ اٹھا سکتےہیں جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے۔ چھوٹے دکارندار اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے، اس ٹیکس میں دکاندار اپنا ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کراسکیں گے، چھوٹےدکاندار کوگوشوارے جمع کراتے وقت کم ازکم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوگا، ان کا روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا اور انہیں خریداری پر ودہولڈنگ کی ذمےداری نہیں ہوگی اور پی او ایس مشین رکھنےسے استثنیٰ ہوگا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت مزید3 سال تک جاری رکھنےکی تجویز ہے۔

    فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی میں اضافہ

    وفاقی حکومت نے امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پربھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی۔ 3 ہزارسی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ 2کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیرغور ہے، الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا، درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلزٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ بیرون ملک بزنس کلاس میں سفرپر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی گئی۔ان کے مطابق کی اقدام مراعات یافتہ طبقے کو نوازنا نہیں مگر فارن انویسٹرز کی حوصلہ افزائی میں اضافہ ہوگا۔

    غیر معیاری اور جعلی پٹرولیم مصنوعات کی حوصلہ شکنی کے لیے وائٹ اسپرٹ اور منرل ٹرپینٹائن پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے۔