Tag: وزیراعلیٰ سندھ

  • سندھ کو اپنے حصے سے کم پانی کی فراہمی، وزیراعلیٰ سندھ کا ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس بنانے کا اعلان

    سندھ کو اپنے حصے سے کم پانی کی فراہمی، وزیراعلیٰ سندھ کا ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس بنانے کا اعلان

    سندھ کی صوبائی حکومت پانی کے مسائل کا جامع جائزہ لینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کررہی ہے، جو سندھ کو پانی کی فراہمی، دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم، سندھ طاس معاہدے اور 1991 کے آبی معاہدے پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لے گی۔

    کراچی میں فرسٹ آئی اے پی اور پی ایس او اے انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس 2026 کی اختتامی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو طویل عرصے سے اپنے مقررہ حصے سے کم پانی مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کے معاملے پر جارحانہ رویہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر صوبے کا پانی میں آئینی حصہ مقرر ہے، لیکن سندھ سمیت دو دیگر صوبے پانی کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ پنجاب کو اضافی پانی مل رہا ہے۔

    1991 کے واٹر اکارڈ کے تحت سندھ کو سالانہ 48.76 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی ملنےکی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ اس میں خریف کے موسم کے لیے 33.94 ملین ایکڑ فٹ اور ربیع کے موسم کے لیے 14.82 ملین ایکڑ فٹ پانی شامل ہے۔

    سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے کے باوجود صوبے کو کئی برسوں سے اپنے مقررہ حصے سے کم پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ پانی کی مسلسل کمی سے زرعی پیداوار، پینے کے پانی کی دستیابی، آبپاشی کا نظام اور سندھ ڈیلٹا شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کہا کہ ٹاسک فورس سے کہا جائے گا کہ سندھ طاس معاہدے، 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ اور ان پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لے کر صوبے کو ہونے والے ممکنہ نقصانات پر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ چولستان کینال منصوبے سے متعلق فیصلے پہلے ہی کیے جا چکے ہیں اور ان پر عمل درآمد جاری ہے۔ تاہم جلال پور کینال کے حوالے سے سندھ کے تحفظات مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں، جہاں اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کئی برسوں سے ٹیلی میٹری نظام اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے کردار پر اعتراضات اٹھاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو ہوگا، جس میں ماہرین کی ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ نے گندم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور قلت کا کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں اس سال تقریباً 49 لاکھ ٹن گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے، جبکہ پنجاب میں بھی اچھی فصل حاصل ہوئی ہے۔ سندھ کی سالانہ ضرورت تقریباً 17 لاکھ ٹن ہے، اس لیے صوبے میں گندم کی دستیابی تسلی بخش ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران دو لاکھ ٹن سے زائد گندم برآمد کی ہے۔ پنجاب حکومت بھی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ درآمدی گندم پر انحصار کرنے کے بجائے ملک میں موجود مقامی گندم کو فوری طور پر مارکیٹ میں لایا جائے تاکہ کسانوں اور صارفین دونوں کو فائدہ پہنچے۔

    مراد علی شاہ نے یاد دلایا کہ 2024 میں گندم کی درآمد کے فیصلے سے مقامی کسانوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس اقدام کے باعث نہ صرف کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل سکی بلکہ آئندہ فصل کی کاشت بھی متاثر ہوئی۔ انہوں

    نے کہا کہ سندھ حکومت ایک طرف عوام کو گندم کی مسلسل فراہمی یقینی بنا رہی ہے اور دوسری طرف کسانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت پانی، خوراک، زراعت اور عوامی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں مؤثر پالیسی سازی پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ماہرین کی ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں پانی کی تقسیم اور سندھ کے حقوق سے متعلق معاملات کو مزید مضبوط انداز میں وفاقی سطح پر اٹھایا جائے گا، جبکہ گندم کی دستیابی، ذخیرہ اندوزی کے خاتمے اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی عملی اقدامات جاری رہیں گے۔

  • ‘قومی ضروریات’ کے لیے سندھ کے ترقیاتی بجٹ سے 175 ارب روپے وفاق کو دیے: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    ‘قومی ضروریات’ کے لیے سندھ کے ترقیاتی بجٹ سے 175 ارب روپے وفاق کو دیے: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کا ترقیاتی پروگرام 575 ارب روپے سے کم کرکے 400 ارب روپے کر دیا گیا۔

    جمعرات کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت قومی سطح کی اہم ضروریات کے لیے سندھ کو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ساتھ ہونے والے اس انتظام کی بنیاد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے، جس کے تحت ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں سندھ کے آئینی حق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ کے لیے وفاقی محصولات میں 13.350 کھرب روپے کی بنیاد پر حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں کو وفاق کو گرانٹس دینے کا اختیار حاصل ہے اور قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے مفاد میں چاروں صوبائی حکومتوں نے مشترکہ طور پر وفاق کی مالی معاونت کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ 13 ہزار 350 ارب روپے تک ملنے کی توقع ہے۔

    وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس حد سے زیادہ حاصل ہونے والی آمدنی پہلے صوبوں کے ذریعے منتقل ہوگی اور بعد ازاں وفاق کو دی جائے گی۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر رواں سال اپنا ہدف حاصل کر لے گا کیونکہ محصولات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک اقدامات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت ٹیکس حکام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ مئی تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں میں 441 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی 52 ارب روپے کا خسارہ ہے، جس کے باعث مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود صوبے کے مجموعی اخراجات 850 ارب روپے سے تجاوز ہونے کی توقع ہے۔ ان اخراجات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز، کسانوں کے لیے امدادی پیکیج، ایندھن اور بجلی پر سبسڈی، اور گل پلازہ واقعے سے متعلق اضافی اخراجات شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ ماضی میں ایک ہزار ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کر چکا ہے اور رواں سال بھی ترقیاتی اخراجات کی رفتار برقرار رکھی گئی ہے۔

    زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومتی معاونت کے نتیجے میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے 35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 49 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو زرعی شعبے کی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ طے شدہ 260 ارب روپے سے زائد اگر کوئی قومی ضرورت سامنے آتی ہے تو اس کی مالی ذمہ داری وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پوری کرے گی۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے ہیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مالی احتیاط ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے فروغ کا ذریعہ بننی چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی آمدنی کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی مجموعی آمدنی 3 ہزار 83 ارب روپے ہے، جبکہ مجموعی بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے ایک ہزار 264 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں 15 فیصد اور 2025 میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا، جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کے لیے 155 ارب روپے اور جامعات کے لیے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اہم اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 26.4 ارب روپے، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے لیے 12 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے لیے 14 ارب روپے، انڈس اسپتال کے لیے 8 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (ایس آئی سی ایچ) کے لیے 1.7 ارب روپے، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے لیے 3.5 ارب روپے اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر گرانٹس حاصل کرنے والے بڑے اداروں کے لیے 686 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں کی معاونت کو بھی جاری رکھا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے بتایا کہ غیر ملکی منصوبوں کے لیے تقریباً 225 ارب روپے کی امداد متوقع ہے، جبکہ امدادی اداروں کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے صوبائی حصہ اور مساوی گرانٹس بھی اخراجات کا اہم حصہ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 400 ارب روپے غیر ملکی منصوبہ جاتی امداد سے منسلک تھے، تاہم رواں سال نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ رقم تقریباً 225 ارب روپے رہنے کی توقع ہے، جس کا انحصار منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار پر ہوگا۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وفاقی ترقیاتی معاونت، جس میں عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی امداد شامل ہے، تقریباً 64 ارب روپے متوقع ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے کیے گئے مالی وعدوں کو موصول ہونے والی حقیقی رقوم کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔