Tag: ورک ویزے

  • اٹلی ساڑھے 10 ہزار ہنرمند پاکستانیوں کو ورک ویزے دے گا؟ مگر کیوں؟

    اٹلی ساڑھے 10 ہزار ہنرمند پاکستانیوں کو ورک ویزے دے گا؟ مگر کیوں؟

    پاکستان اور اطالوی حکام کے درمیان روم میں ہونے والی ملاقات میں ساڑھے دس ہزار پاکستانیوں کو اٹلی کے ورک ویزے دینے کا اہم فیصلہ ہوا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے اطالوی ہم منصب میٹیو پینٹے ڈوسی کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں سکیورٹی، منشیات کی روک تھام اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق اس ملاقات میں  اطالوی وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ان کا ملک قانونی نقل مکانی کے عمل کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساڑھے دس ہزار ہنرمند ورکرز کو ویزے فراہم کرے گا،

    جس سے دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت کے تبادلے میں تیزی آئے گی۔

    ملاقات کے دوران ایک اور اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ پاکستانی سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو اب اٹلی کے ویزے سے استثنا حاصل ہوگا، یعنی وہ بغیر ویزا اٹلی کا سفر کر سکیں گے۔

    اطالوی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے کچھ عرصہ قبل کی گئی تجویز کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔

    دونوں وزرائے داخلہ نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں ان جرائم کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

    محسن نقوی نے اطالوی حکام کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے اپنے ہوائی اڈوں اور سمندری سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو انتہائی سخت کر دیا ہے، جس کی وجہ سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    اطالوی وزیرداخلہ نے کہا کہ اٹلی پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے اور قانونی طریقے سے اٹلی آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

    پاکستانی حکام نے بتایا کہ پاکستان نے 2023 میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں،

    جب یونان کے ایک قصبے کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے سینکڑوں تارکینِ وطن، جن میں متعدد پاکستانی بھی شامل تھے، جان سے گئے۔ یہ سانحہ بحیرۂ روم کے خوفناک ترین حادثات میں شمار ہوتا ہے۔

    حکام مسلسل ان سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں جو شہریوں کو خطرناک راستوں سے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، جبکہ ہوائی اڈوں پر نگرانی سخت کی گئی ہے اور جعلی دستاویزات میں ملوث افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

    ملاقات کے دوران محسن نقوی نے اٹلی کی جیلوں میں قید 146 پاکستانی شہریوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور ان میں سے 42 قیدیوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

    انہوں نے اطالوی وزیر داخلہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون سے انسانی اسمگلنگ، انسداد منشیات اور سرحدی سیکیورٹی کے مسائل پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ غیرقانونی طریقں سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں سینکڑوں پاکستانی جان سے جا چکے ہیں۔ صرف گزشتہ تین سالوں میں سمندر کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں تین سو سے ذائد پاکستانیوں کی اموات ہوئی ہے۔