Tag: ورک فرام ہوم

  • کیا ورک فرام ہوم پاکستان کے دفتری کلچر میں مؤثر ثابت ہوگا؟

    کیا ورک فرام ہوم پاکستان کے دفتری کلچر میں مؤثر ثابت ہوگا؟

    پاکستان میں سرکاری دفاتر کے روایتی دفتری کلچر پر ایک سوال ہمیشہ زیرِ بحث رہتا ہے کہ کیا گھر سے کام کرنے کی پالیسی ایسے نظام میں واقعی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اب جب حکومت توانائی کے ممکنہ بحران کے پیش نظر بڑے شہروں میں جزوی طور پر ورک فرام ہوم، یعنی گھر سے دفتری کام کرنے کی پالیسی متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے تو یہ بحث دوبارہ زور پکڑتی نظر آ رہی ہے۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اس تناظر میں اسلام آباد میں پالیسی سازوں نے وزیر اعظم کو ایک تجویز پیش کی ہے جس کے مطابق سرکاری ملازمین کو ہفتے میں دو سے تین دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اسکولوں اور جامعات میں جزوی آن لائن تعلیم کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔

    اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایندھن کی بچت بتایا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا اصل امتحان پاکستان کے دفتری نظام میں ہی ہوگا۔

    وہ دفتر جہاں نہ آنے کا وقت مقرر ہے نہ جانے کا

    پاکستانی سرکاری دفاتر میں ایک غیر تحریری روایت بڑی مضبوط ہے کہ ملازمین نہ وقت پر آتے ہیں اور نہ وقت پر جاتے ہیں۔ صبح دس بجے کی حاضری اکثر گیارہ بجے تک کھنچتی ہے اور شام پانچ بجے کی چھٹی چار بجے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ لنچ بریک باضابطہ طور پر ایک سے دو بجے تک ہوتا ہے، لیکن عملاً یہ ایک سے ڈھائی اور بعض اوقات تین بجے تک جاری رہتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب دفتر میں بیٹھ کر بھی وقت کا حساب نہیں رکھا جاتا تو گھر سے کام کرتے ہوئے نگرانی کیسے ممکن ہوگی۔

    تنخواہ والے اور ‘چائے پانی’ والے: دو الگ دنیائیں

    سرکاری دفاتر میں ملازمین کی دو غیر رسمی اقسام عرصے سے موجود ہیں۔ ایک وہ جو صرف تنخواہ پر گزارا کرتے ہیں۔ یہ لوگ کم یا زیادہ مگر اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ دوسری قسم ان افراد کی ہے جن کے لیے تنخواہ بنیادی آمدن ہے جبکہ اصل کمائی ‘اوپر کی آمدن’ سے ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں فائل آگے بڑھانے، دستخط کرنے یا میز سے اٹھنے تک کے لیے بھی معاوضہ طلب کیا جاتا ہے۔ ورک فرام ہوم کے نظام میں پہلی قسم شاید کچھ کام جاری رکھ سکے، لیکن دوسری قسم کا پورا نظام ہی دفتر کی جسمانی موجودگی پر قائم ہے۔

    سائلین کو عقابی نظر سے دیکھنا، کیا یہ گھر سے ممکن ہے؟

    پاکستانی سرکاری دفتر میں سائل کا استقبال بھی ایک خاص انداز میں ہوتا ہے۔ پہلے سائل کو سر سے پاؤں تک دیکھا جاتا ہے، پھر فوری اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ کس نوعیت کے کام کے لیے آیا ہے۔ یہ پورا عمل دفتر کے ماحول، میز اور آمنے سامنے ملاقات پر منحصر ہوتا ہے۔ ویڈیو کال یا آن لائن رابطے میں نہ وہ ماحول ہوتا ہے اور نہ وہ دباؤ جو روایتی دفتری فضا میں دیکھا جاتا ہے۔

    ٹال مٹول: ایک ‘قومی فن’

    ‘کل آنا’، ‘فائل اوپر گئی ہے’، ‘صاحب میٹنگ میں ہیں’ جیسے جملے پاکستانی دفتری ثقافت کا حصہ بن چکے ہیں۔ ورک فرام ہوم میں یہ طرزِ عمل نئی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اب بہانے کچھ یوں سنائی دے سکتے ہیں: ‘انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا’، ‘پیغام ملا ہی نہیں’، یا ‘کل ای میل کر دوں گا’۔ یعنی ٹال مٹول ختم نہیں ہوگی، صرف اس کے طریقے بدل جائیں گے۔

    جمعہ: ‘نماز کے بعد واپسی نہیں’

    سرکاری دفاتر میں جمعہ کا دن ایک الگ رنگ رکھتا ہے۔ نماز جمعہ کے بعد واپسی اکثر نہیں ہوتی اور ‘پیر کو آ جائیں’ والی روایت عام ہے۔ ورک فرام ہوم کے ماحول میں یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ نگرانی کا نظام کمزور ہو جائے تو کام کی رفتار مزید سست پڑ سکتی ہے۔

    علیٰ افسران کی مدح سرائی

    سرکاری دفاتر میں ترقی کا ایک غیر رسمی نسخہ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ افسرِ بالا کی ہر بات کی تائید کی جائے۔ ‘بالکل سر’، ‘بہت عمدہ سر’ اور ‘آپ کی دور اندیشی قابلِ تعریف ہے سر’ جیسے جملے دفتری ماحول کا حصہ ہیں۔ یہ طرزِ عمل آن لائن میٹنگز میں بھی جاری رہ سکتا ہے، چاہے وہ واٹس ایپ پیغامات ہوں یا ویڈیو میٹنگز۔

    رفقا کار کی نگرانی

    پاکستانی دفاتر میں ایک اور غیر رسمی سرگرمی ساتھی ملازمین کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر نظر رکھنا بھی ہوتی ہے۔ مناسب وقت پر یہ معلومات متعلقہ افسر تک پہنچانا بھی بعض افراد اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ورک فرام ہوم میں یہ عمل مشکل ہو سکتا ہے، اگرچہ واٹس ایپ گروپس اور اسکرین شاٹس نے اس روایت کو ایک نئی شکل ضرور دے دی ہے۔

    ڈیجیٹل مہارت کا مسئلہ

    پاکستان کی سرکاری افرادی قوت میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کے لیے کمپیوٹر آج بھی ایک پیچیدہ ٹائپ رائٹر سے زیادہ نہیں۔ بومرز اور جنریشن ایکس کی اکثریت، اور بعض ملینئیلز بھی، ابھی تک فائل ای میل کرنے، آن لائن میٹنگ میں شامل ہونے یا کسی ڈیجیٹل ورک مینجمنٹ نظام کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے سے پوری طرح واقف نہیں۔ ایسے میں ورک فرام ہوم کا نظام اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک ڈیجیٹل مہارت کو بہتر نہ بنایا جائے۔

    ماہرین کیا کہتے ہیں؟

    اس کے باوجود اس تجویز کے ممکنہ مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر بڑے شہروں کے ماحول اور ٹریفک کے حوالے سے۔ کورونا وبا کے دوران جب نقل و حرکت میں نمایاں کمی آئی تو کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں فضائی آلودگی میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق اس عرصے میں کراچی میں فضائی آلودگی تقریباً 40 فیصد تک کم ہوئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری فضائی آلودگی میں گاڑیوں کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہوتا ہے، اس لیے لاکھوں ملازمین کے گھروں سے کام کرنے سے ٹریفک اور دھوئیں میں کمی آ سکتی ہے۔

    مغربی دنیا کا تجربہ

    برطانیہ کے تحقیقی نیٹ ورک Beacon Wales کی چار سالہ تحقیق کے مطابق گھر سے کام کرنے والے افراد عموماً خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرتے ہیں، تاہم جسمانی سرگرمی میں کمی اور روزمرہ معمولات میں بے ترتیبی جیسے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔

    عالمی سطح پر یورپ اور امریکہ میں 30 سے 40 فیصد ملازمین ہفتے کے کچھ دن گھر سے کام کرتے ہیں، جبکہ بھارت کی آئی ٹی صنعت میں یہ ماڈل مستقل شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں فی الحال یہ سہولت زیادہ تر فری لانسرز اور آئی ٹی شعبے تک محدود ہے۔

    بہت سے مبصرین کے نزدیک اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ورک فرام ہوم سے ایندھن کی کتنی بچت ہوگی، بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کا دفتری نظام اپنی تمام روایات، بہانوں، ٹال مٹول، مدح سرائی اور ڈیجیٹل مہارت کی کمی کے ساتھ اس طرزِ کار کے لیے کتنا تیار ہے۔

    اگر مؤثر نگرانی اور واضح ذمہ داریوں کا نظام نہ بنایا گیا تو خدشہ یہی رہے گا کہ ورک فرام ہوم محض ‘ہوم’ رہ جائے گا اور ‘ورک’ کہیں پیچھے رہ جائے گا۔