Tag: ورلڈ پریس

  • ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس رپورٹ: دنیا بھر میں صحافت خطرے میں، پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں آزادی محدود

    ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس رپورٹ: دنیا بھر میں صحافت خطرے میں، پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں آزادی محدود

    عالمی سطح پر صحافت کو درپیش خطرات اور دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم Reporters Without Borders کی تازہ رپورٹ 2026 نے اس صورتحال کو مزید تشویشناک قرار دیا ہے۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق پاکستان میں حالات خاص طور پر پریشان کن ہیں، جہاں ملک کو آزادیٔ صحافت میں 153ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

    پاکستان میں صحافت کو مسلسل پابندیوں اور دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر ایسے سیاسی ماحول میں جہاں ریاستی ادارے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز پر غیر اعلانیہ دباؤ، صحافیوں کے خلاف مقدمات، اور میڈیا کے اندر خود سنسرشپ کا بڑھتا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آزادیٔ اظہار عملی طور پر محدود ہوتی جا رہی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ کئی صحافیوں کو دھمکیوں، گرفتاریوں اور جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جس سے پیشہ ورانہ ماحول مزید غیر محفوظ ہو جاتا ہے اور آزادانہ رپورٹنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

    یہ سال گزشتہ 25 برسوں میں صحافتی آزادی کے لیے بدترین ثابت ہوا ہے۔ دنیا کے نصف سے زائد ممالک اب ‘مشکل’ یا ‘انتہائی سنگین’ کی درجہ بندی میں آ چکے ہیں، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ آزاد صحافت کا دائرہ تیزی سے سکڑ رہا ہے اور میڈیا کے لیے کام کرنے کی جگہ مسلسل محدود ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2026 سے اب تک دنیا بھر میں 13 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 471 صحافی جیلوں میں قید ہیں۔ اس کے علاوہ کم از کم 21 صحافی یرغمال ہیں اور 135 لاپتہ ہیں۔

    یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ صحافت اب محض ایک پیشہ نہیں رہا بلکہ کئی ممالک میں جان جوکھوں کا کام بن چکا ہے، جہاں سچ کی تلاش اور اس کی اشاعت خود ایک خطرہ بن چکی ہے۔

    آر ایس ایف کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں انڈیکس میں شامل 180 ممالک اور خطوں کا اوسط اسکور کبھی بھی اتنا کم نہیں رہا جتنا اب ہے۔ 2001 سے اب تک سخت اور پابندیوں والے قوانین میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر وہ قوانین جو قومی سلامتی کی پالیسیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان قوانین کے باعث معلومات تک رسائی کا حق بتدریج کمزور پڑتا جا رہا ہے، حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی جہاں جمہوری نظام موجود ہے اور جہاں آزادیٔ اظہار کو بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران انڈیکس کے قانونی اشاریے میں سب سے زیادہ کمی آئی ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ دنیا بھر میں صحافت کو بڑھتے ہوئے پیمانے پر جرم بنایا جا رہا ہے۔ حکومتیں نہ صرف سخت قوانین متعارف کرا رہی ہیں بلکہ موجودہ قوانین کا استعمال بھی اس انداز میں کیا جا رہا ہے جس سے صحافیوں اور میڈیا اداروں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    نارتھ امریکہ کے خطے میں بھی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جہاں خود امریکہ سات درجے نیچے آ گیا ہے۔ یہ تنزلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صحافتی آزادی کے چیلنجز صرف ترقی پذیر یا آمرانہ ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ ترقی یافتہ جمہوریتیں بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں ہیں۔

    اسی طرح لاطینی امریکہ کے کئی ممالک تشدد اور جبر کے بڑھتے ہوئے چکر میں مزید گہرائی تک جا چکے ہیں، جہاں صحافیوں کے لیے کام کرنا مسلسل خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

    جنوبی ایشیا کی صورتحال بھی خاصی تشویشناک ہے۔ بھارت، جو انڈیکس میں پاکستان سے بھی نیچے 157ویں نمبر پر ہے، وہاں صحافت کو قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ہنگامی قوانین اور دیگر قانونی دفعات کا استعمال صحافیوں کے خلاف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث تنقیدی رپورٹنگ مشکل ہوتی جا رہی ہے اور میڈیا پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    حکومت اور میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صحافتی آزادی کو مزید متاثر کیا ہے۔

    بنگلہ دیش میں ڈیجیٹل سکیورٹی قوانین کے تحت صحافیوں اور بلاگرز کے خلاف کارروائیاں عام ہو چکی ہیں۔ ان قوانین کا استعمال اکثر تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے آزادیٔ اظہار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    نیپال میں اگرچہ جمہوری نظام موجود ہے، لیکن سیاسی عدم استحکام اور میڈیا پر دباؤ کے واقعات وہاں بھی دیکھنے میں آتے ہیں، جو صحافتی ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔

    سری لنکا میں معاشی بحران کے بعد میڈیا کو درپیش مشکلات میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ حکومت اور میڈیا کے تعلقات میں تناؤ، اور بعض اوقات صحافیوں کے خلاف کارروائیاں، آزادیٔ صحافت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ افغانستان میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے، جہاں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد آزاد میڈیا تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ خواتین صحافیوں پر پابندیاں، میڈیا اداروں کی بندش اور سخت سنسرشپ نے اطلاعات کے آزاد بہاؤ کو شدید حد تک محدود کر دیا ہے۔

    عالمی سطح پر بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ امریکہ، جو خود کو آزادیٔ اظہار کا علمبردار سمجھتا ہے، 64ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ Donald Trump کے دور میں میڈیا پر تنقید اور پالیسی سطح پر دباؤ نے صحافتی ماحول کو متاثر کیا، جبکہ بعد ازاں بھی میڈیا اور حکومت کے تعلقات میں کشیدگی کے اثرات برقرار رہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صحافت کو جرم بنانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 180 میں سے 110 ممالک میں قانونی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، جہاں حکومتیں ہنگامی قوانین اور دیگر قانونی حربوں کو استعمال کر کے صحافیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

    روس جیسے ممالک میں انسداد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے قوانین کو میڈیا پر پابندیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے آزاد رپورٹنگ مزید محدود ہو رہی ہے۔

    یہ صورتحال صرف آمرانہ حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ جمہوری ممالک میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جاپان میں ریاستی راز کے قوانین اور جنوبی کوریا میں ‘جھوٹی معلومات’ کے خلاف اقدامات نے صحافیوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔

    ان اقدامات کو اکثر آزادیٔ اظہار کے خلاف سمجھا جاتا ہے، جس سے عالمی سطح پر میڈیا کی آزادی کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    آر ایس ایف کے مطابق صحافت کو درپیش خطرات صرف جسمانی نہیں بلکہ معاشی بھی ہیں۔ میڈیا اداروں کی مالی حالت کمزور ہونے سے آزاد رپورٹنگ متاثر ہو رہی ہے۔ اشتہارات میں کمی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا دباؤ، اور بعض اوقات حکومتی کنٹرول کے باعث کئی ادارے اپنی خودمختاری کھو رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر صحافتی معیار اور آزادی پر پڑ رہا ہے۔

    ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر جاری ہونے والی اس رپورٹ نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ اگر صحافت کو بچانا ہے تو عالمی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

    آزاد میڈیا کسی بھی جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے، اور اس کے بغیر شفافیت، احتساب اور عوامی آگاہی ممکن نہیں۔ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومتیں، ادارے اور معاشرے مل کر ایسے اقدامات کریں جو صحافیوں کے تحفظ اور آزادیٔ اظہار کے فروغ کو یقینی بنا سکیں، تاکہ صحافت اپنا بنیادی کردار مؤثر انداز میں ادا کرتی رہے۔