Tag: ورجینیا بیچ

  • ورجینیا بیچ: سمندر پار رشتہ جوڑتی نارویجن لیڈی کا مسجمہ، ایک خاموش مگر لازوال نشانی

    ورجینیا بیچ: سمندر پار رشتہ جوڑتی نارویجن لیڈی کا مسجمہ، ایک خاموش مگر لازوال نشانی

    امریکہ کے مشرقی ساحل پر واقع شہر ورجینیا بیچ میں سمندر کے کنارے نصب نارویجن لیڈی کا مجسمہ ایک صدی پرانی کہانی کی علامت ہے۔ یہ یادگار آج بھی امریکہ اور ناروے کے درمیان سمندری رشتے کو زندہ رکھتی ہے۔

    یہ کانسی کا مجسمہ سنہ 1962 میں اسی مقام پر نصب کیا گیا۔ یہاں کبھی ناروے کے تباہ شدہ جہاز ڈکٹیٹر کے فگرہیڈ کے باقیات ساحل پر آ لگے تھے۔

    یہ جہاز 28 مارچ 1891 کو شدید سمندری طوفان میں ورجینیا بیچ کے قریب تباہ ہوا۔ ڈکٹیٹر فلوریڈا سے مرمت کے لیے نورفوک جا رہا تھا، جہاں سے اسے واپس موس، ناروے جانا تھا۔ مگر یہ سفر ادھورا رہ گیا اور حادثے میں متعدد جانیں ضائع ہوئیں۔

    حادثے کے بعد جہاز کا لکڑی کا فگرہیڈ ساحل پر آ لگا۔ مقامی لوگوں نے اسے نارویجن لیڈی کا نام دیا۔ یہ یادگار تقریباً پچاس برس تک ساحل پر کھڑی رہی اور طوفانوں اور سمندری ہواؤں کا سامنا کرتی رہی۔

    سنہ 1953 کے ایک اور شدید طوفان نے اس پرانی یادگار کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اس کے بعد ورجینیا بیچ کے شہریوں اور ناروے کی حکومت کے درمیان رابطے شروع ہوئے۔

    ناروے نے اس سانحے کو مشترکہ تاریخ کے طور پر یاد رکھنے کے لیے ایک نیا کانسی کا مجسمہ تیار کیا۔ سنہ 1962 میں نارویجن شپنگ ایسوسی ایشن نے یہ مجسمہ امریکہ کو تحفے میں پیش کیا۔

    اسی سال ناروے کے شہر موس میں اس کا ایک جڑواں مجسمہ نصب کیا گیا۔ دونوں مجسمے آج بھی سمندر کے پار ایک دوسرے کی سمت رخ کیے کھڑے ہیں۔

    یہ یادگار صرف ایک سمندری حادثے کی کہانی نہیں۔ یہ ان تمام مسافروں کی یاد ہے جو سمندری راستوں پر زندگی ہار گئے۔

    ورجینیا بیچ میں نصب تختی پر لکھا جملہ اس احساس کو گہرا کرتا ہے۔
    ‘میں نارویجن لیڈی ہوں۔ میں یہاں اپنی پہلی بہن کی طرح کھڑی ہوں، تاکہ سمندر کے تمام مسافروں کے محفوظ لوٹنے کی دعا کر سکوں۔’

    ورجینیا بیچ کے ساحل پر کھڑا یہ مجسمہ آج بھی سمندروں کو عبور کرنے والوں کے لیے امید، یاد اور خاموش دعا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔