Tag: وائلڈ لائف میوزیم

  • سندھ وائلڈ لائف میوزیم: سندھ کی جنگلی حیات کی دنیا ایک تاریخی عمارت میں محفوظ

    سندھ وائلڈ لائف میوزیم: سندھ کی جنگلی حیات کی دنیا ایک تاریخی عمارت میں محفوظ

    کراچی کی ایک تاریخی عمارت میں سندھ کے جنگلات، پہاڑوں، دریاؤں، صحراؤں اور ساحلی علاقوں کی جنگلی حیات سے متعلق ایک منفرد مجموعہ محفوظ ہے۔ مولانا دین محمد وفائی روڈ پر قائم سندھ وائلڈ لائف میوزیم نہ صرف مختلف جانوروں اور پرندوں کے محفوظ نمونوں کی نمائش کرتا ہے بلکہ سندھ کے قدرتی ماحول اور حیاتیاتی تنوع کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔

    یہ میوزیم اولڈ فری میسنز ہوپ لاج نامی تاریخی عمارت میں قائم ہے۔ عمارت 1914 میں تعمیر ہوئی تھی اور برطانوی دور میں فری میسنز کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ بعد میں یہ عمارت سرکاری تحویل میں آگئی اور سندھ کے محکمہ جنگلی حیات کے استعمال میں رہی۔

    کئی برس تک عمارت بند اور خستہ حال رہی، تاہم سندھ حکومت کے محکمہ جنگلی حیات نے اسے بحال کرکے جنگلی حیات سے متعلق ایک میوزیم میں تبدیل کیا۔ 26 فروری 2020 کو بلاول بھٹو زرداری نے سندھ وائلڈ لائف میوزیم کا افتتاح کیا۔

    افتتاح کے موقع پر میوزیم کو مستقبل میں سندھ میوزیم آف نیچرل ہسٹری میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا گیا، جبکہ جنگلی حیات سے متعلق نایاب کتابوں اور مواد کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

    میوزیم میں سندھ کی جنگلی حیات سے تعلق رکھنے والے پرندوں، ممالیہ جانوروں اور رینگنے والے جانوروں کے محفوظ نمونے رکھے گئے ہیں۔ یہاں تصاویر، پینٹنگز اور جنگلی حیات سے متعلق معلومات بھی موجود ہیں، جو مختلف انواع اور ان کے قدرتی مساکن کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہیں۔

    میوزیم میں موجود نمونوں میں سندھ آئی بیکس، بلیک بَک، لومڑی، گیدڑ، فالکن اور ہوبارہ بسٹرڈ سمیت مختلف جانور اور پرندے شامل ہیں۔ مختلف دستیاب ریکارڈز میں یہاں سندھ میں پائی جانے والی پرندوں کی 240 سے زیادہ انواع کی نمائندگی کا ذکر ملتا ہے، جبکہ بعض دیگر ریکارڈز میں 300 سے زیادہ پرندوں، 100 سے زیادہ رینگنے والے جانوروں اور 80 سے زیادہ ممالیہ جانوروں کے نمونے یا نمائندگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

    میوزیم میں موجود نمونوں میں ایک چیتے کی ہنود بھی شامل ہے جو بھارت کی سرحد عبور کرکے تھرپارکر پہنچا تھا۔ مقامی افراد نے اسے ہلاک کردیا تھا، جس کے بعد اس کے جسم کو محفوظ کرکے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔

    اس میوزیم کی ایک نمایاں خصوصیت ٹیکسی ڈرمی ہے، جس کے ذریعے مردہ جانوروں کے جسم کو محفوظ کرکے انہیں طویل عرصے تک نمائش اور تعلیمی مقاصد کے لیے برقرار رکھا جاتا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق نمونے تیار کرنے کے لیے شکار کے بجائے قدرتی طور پر مرنے والے جانوروں سے استفادہ کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی۔

    یہاں مختلف اقسام کے پرندوں کے علاوہ ہرن، سمندری کچھوے، سانپ اور دیگر جنگلی جانوروں کے محفوظ نمونے بھی موجود ہیں۔

    میوزیم کی اہمیت صرف ان نمونوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک تعلیمی مرکز کے طور پر بھی کام کرتا ہے جہاں طلبہ اور عام شہری سندھ کی جنگلی حیات کو قریب سے سمجھ سکتے ہیں۔

    کسی کتاب میں کسی جانور کا نام اور اس کی تصویر دیکھنے کے بجائے محفوظ نمونے کو سامنے دیکھنے سے اس کے جسمانی خدوخال، جسامت اور خصوصیات کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ جاننے کا موقع بھی ملتا ہے کہ کوئی جانور یا پرندہ سندھ کے کس علاقے میں پایا جاتا ہے، اس کا قدرتی مسکن کیا ہے اور ماحولیاتی نظام میں اس کی کیا اہمیت ہے۔

    سندھ میں صحراؤں سے لے کر دریائی علاقوں، پہاڑی خطوں اور ساحلی پٹی تک مختلف قدرتی مساکن موجود ہیں، اور ہر مسکن اپنی مخصوص جنگلی حیات رکھتا ہے۔ میوزیم ان مختلف ماحول اور ان سے وابستہ انواع کو ایک ہی جگہ پر متعارف کرانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

    اس اعتبار سے سندھ وائلڈ لائف میوزیم ایک ایسی جگہ ہے جہاں محفوظ کیے گئے جانوروں اور پرندوں کے ذریعے سندھ کی قدرتی دولت کی ایک جھلک دیکھی جاسکتی ہے اور ساتھ ہی جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

    میوزیم کی بحالی کے بعد اسے تحقیق، تعلیم اور عوامی آگاہی کے مرکز کے طور پر مزید ترقی دینے کی تجاویز بھی سامنے آتی رہی ہیں، جن میں ڈیجیٹل فہرست سازی، ریکارڈ اور دستاویزات کو جدید بنانا اور میوزیم کی توسیع جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    ایک تاریخی عمارت کے اندر قائم یہ میوزیم یوں سندھ کی ایک ایسی دنیا کو محفوظ کیے ہوئے ہے جو عام طور پر جنگلات، صحراؤں، پہاڑوں، دریاؤں اور ساحلی علاقوں میں بکھری نظر آتی ہے۔ یہاں محفوظ ہر نمونہ سندھ کے قدرتی ماحول، اس میں موجود انواع اور انہیں آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی ضرورت کی ایک الگ کہانی بیان کرتا ہے۔