امریکہ کی معشیت کو ہلانے والی 1935 کی عظیم کساد بازاری کے ےقریباً ایک صدی کے بعد پہلی بار منفی امیگریشن دیکھی جارہے، امرکی بڑی تعداد میں ملک چھوڑ کر دیگر ممالک کا رخ کرہے ہیں۔
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں سال 2025 کے دوران 1935 کے بعد پہلی بار منفی خالص نقل مکانی (نیٹ مائیگریشن) ریکارڈ کی گئی ہے۔
جس کا مطلب ہے کہ ملک میں آنے والوں کے مقابلے میں جانے والوں کی تعداد زیادہ رہی ہے۔
امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال امریکہ کی آبادی میں نقل مکانی کے نتیجے میں 150,000 افراد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔
جبکہ امریکا آنے والے افراد کی تعداد 26 لاکھ سے 27 لاکھ کے درمیان رہی، جو 2023 میں ریکارڈ کیے گئے 60 لاکھ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
اس سے قبل آخری بار یہ صورتحال 1935 میں عظیم کساد بازاری کے دوران سامنے آئی تھی، جب ایک لاکھ سے زائد امریکی شہری معاشی مشکلات کے باعث سوویت یونین نقل مکانی کر گئے تھے تاکہ وہاں کی فیکٹریوں اور صنعتی اداروں میں کام کر کے بہتر زندگی حاصل کر سکیں۔
شائع کردہ رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم امریکیوں کی تعداد 40 لاکھ سے 90 لاکھ کے درمیان ہے۔
امریکہ نے 1950 کی دہائی میں Dwight D. Eisenhower کے دور کے بعد سے بیرون ملک نقل مکانی کرنے والوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا بند کر دیا تھا۔
تاہم دستیاب معلومات جیسے رہائشی اجازت نامے، جائیداد کی خریداری اور تعلیمی اندراجات کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس وقت 40 لاکھ سے 90 لاکھ امریکی شہری بیرون ملک مقیم ہیں۔
بیرون ملک منتقل ہونے بیشتر امریکیوں نے میکسیکو اور یورپ کا انتخاب کیا ہے، رپورٹ کہتی ہے کہ 16 لاکھ امریکی نژاد افراد میکسیکیو میں رہتے ہیں اور یورپ میں بسنے والے امریکیوں کی تعداد 15 لاکھ ہے۔
برطانیہ میں سوا 3 لاکھ اور کینیڈا میں ڈھائی لاکھ امریکی بستے ہیں۔
نقل مکانی کی وجوہات صرف سیاست نہیں، بلکہ معاشی اور سماجی عوامل بھی شامل
اگرچہ بعض حلقے اس رجحان کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور بڑے پیمانے پر ملک بدری سے جوڑتے ہیں،
تاہم امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق گزشتہ سال پونے 7 لاکھ افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا جبکہ 22 لاکھ افراد رجاکارنہ طور پر ملک چھوڑ گئے۔
ماہرین اور سینئیر تجزیہ کار بڑھتی ہوئی مہنگائی اور رہائشی اخراجات میں اضافے کو نقل مکانی کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
جبکہ ریموٹ ورک (گھر بیٹھ کر کام) کے بڑھتے مواقع،بہتر معیار زندگی کی تلاش،کم خرچ طبی سہولیات اور ریٹائرمنٹ کے بہتر مواقع کی تلاش بھی وجوہات میں شامل ہیں۔
یورپ میں معیار زندگی بہتر قرار
جرمنی کے شہر برلن منتقل ہونے والے ایک امریکی شہری کرس فورڈ نے کہا: ‘امریکہ میں تنخواہیں زیادہ ہیں، لیکن یورپ میں معیار زندگی بہتر ہے۔ یہاں بچوں کو اسکول میں فائرنگ کی مشقوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔’
یورپ اور دیگر ممالک میں بھی امریکیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، رپورٹ کے مطابق گزشہ دہائی کے دوران نیدرلینڈ اور اسپین میں امریکیوں کی تعداد تقریبا دُگنی ہوگئی ہے۔
چیک ری پبلک منتقل ہونے والے امریکیوں کی تعداد دو گنا سے بھی بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈبلن اور لزبن سمیت کئی شہروں میں مقامی شہریوں نے امریکی تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے،
کیونکہ مقامی آبادی کا خیال ہے اس سے رہائش اور دیگر اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ سے بیرون ملک نقل مکانی کا یہ رجحان صرف سیاسی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی دباؤ، معیار زندگی اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے روزگار کے مواقع جیسے کئی عوامل کارفرما ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو اس کے امریکہ کی معیشت اور عالمی اثر و رسوخ پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

