نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے معاہدوں کی شرائط میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام ختم کر کے نیا نیٹ بلنگ نظام نافذ کر دیا ہے۔
اس فیصلے کا اطلاق موجودہ اور نئے دونوں قسم کے سولر صارفین, جن کو پروسومرز کہا جاتا ہے، پر ہوگا، جس سے گھریلو اور تجارتی صارفین کی بجلی کے حساب کتاب کے طریقے میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔
نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس سے پہلے حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ موجودہ صارفین کے معاہدے سات سال کی مدت پوری ہونے تک تبدیل نہیں کیے جائیں گے، تاہم نئے فیصلے کے تحت رجسٹرڈ سولر صارفین کو فوری طور پر نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقل کر دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ سولر صارفین کی جانب سے بجلی کمپنیوں کو فراہم کی جانے والی اضافی بجلی کے یونٹس کا کریڈٹ تین ماہ کے بجائے صرف ایک ماہ کے لیے دیا جائے گا، جبکہ باقی شرائط سات سالہ معاہدے کی مدت ختم ہونے تک برقرار رہیں گی۔
نئے قواعد کے مطابق آئندہ سولر صارفین کو صرف پانچ سال کے معاہدے دیے جائیں گے اور ان کی جانب سے فراہم کی جانے والی اضافی بجلی تقریباً 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی، جب کہ پہلے یہ قیمت تقریباً 26 روپے فی یونٹ تھی۔
دوسری طرف بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) سے صارفین جو بجلی حاصل کریں گے، اس کا بل الگ سے 37 سے 55 روپے فی یونٹ کے حساب سے وصول کیا جائے گا، جس میں ٹیکس اور دیگر سرچارجز شامل نہیں ہوں گے۔
نئے نظام کے تحت اب بجلی کی درآمد اور برآمد کا حساب یونٹ کے بدلے یونٹ کے اصول پر نہیں ہوگا بلکہ دونوں کا حساب الگ الگ کیا جائے گا۔
موجودہ صارفین کی اضافی بجلی تقریباً 26 روپے فی یونٹ کے حساب سے جبکہ نئے صارفین کی بجلی تقریباً 10 سے 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے شمار ہوگی اور دونوں کے درمیان فرق صارفین کے بل میں شامل کیا جائے گا۔
نیپرا نے حال ہی میں اس معاملے پر طویل عوامی سماعت بھی کی، تاہم متعدد صارفین، کاروباری نمائندوں اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں کو متبادل تجاویز دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔
بعد ازاں ریگولیٹر نے بغیر کسی تبدیلی کے پہلے سے تیار کردہ مسودہ قواعد کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ پہلے ہی طے تھا۔
ماضی میں بھی پاور ڈویژن اسی نوعیت کی تجاویز پیش کر چکا تھا، لیکن عوامی تنقید کے بعد انہیں واپس لے لیا گیا تھا کیوں کہ صارفین کا موقف تھا کہ انہوں نے حکومت کی قابلِ تجدید توانائی پالیسی 2015 کے تحت سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے یکطرفہ طور پر معاہدوں کی شرائط تبدیل کرنا مناسب نہیں۔
حکومتی حکام اور ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سولر سسٹمز، خاص طور پر منظور شدہ صلاحیت سے زیادہ لگائے گئے نظام اور بغیر میٹر کے نصب ہائبرڈ سولر سسٹمز، قومی گرڈ کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور اس سے بجلی کے مہنگے صلاحیتی چارجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تاہم نئے قواعد میں غیر میٹر شدہ سولر سسٹمز کے حوالے سے کوئی واضح اقدامات شامل نہیں کیے گئے، جس پر صارفین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق آن گرڈ سولر صلاحیت تقریباً 7 ہزار میگاواٹ جبکہ آف گرڈ سولر صلاحیت 13 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، اور مجموعی طور پر 19 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی میٹرنگ نظام سے باہر پیدا ہو رہی ہے۔
نئی پالیسی بنیادی طور پر صرف میٹرڈ سولر صارفین کو متاثر کرے گی۔
نئے قواعد کے تحت صارفین اپنے منظور شدہ بجلی کے لوڈ سے زیادہ صلاحیت کا سولر سسٹم نیٹ میٹرنگ کے لیے نصب نہیں کر سکیں گے، جس سے عملی طور پر سولر سسٹم کی حد تقریباً 50 فیصد تک کم ہو جائے گی۔
مزید یہ کہ کسی ٹرانسفارمر کے ساتھ منسلک سولر صلاحیت اگر اس کی کل استعداد کے 80 فیصد تک پہنچ جائے تو متعلقہ بجلی کمپنی مزید درخواستیں قبول نہیں کرے گی تاکہ مقامی نیٹ ورک پر اضافی بوجھ سے بچا جا سکے۔
نیپرا کا کہنا ہے کہ نئے قواعد کا مقصد چھوٹے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے والے صارفین کو قومی گرڈ کے ساتھ بہتر انداز میں مربوط کرنا اور بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنا ہے۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام سے سولر توانائی میں سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے کیوں کہ نئے نرخوں کے باعث صارفین کے لیے سولر سسٹم لگانے کا مالی فائدہ کم ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ خود نیپرا بھی ماضی میں مہنگی بجلی، ٹیکسوں اور سرچارجز کو صارفین کے سولر توانائی کی طرف رجحان کی بڑی وجہ قرار دیتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی قیمتیں کم نہ کی گئیں تو صارفین مستقبل میں مزید آف گرڈ یا ہائبرڈ سسٹمز کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے قومی گرڈ کی طلب مزید کم ہو سکتی ہے۔

