نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی کے قریب واقع ڈی ایچ اے سٹی کو بجلی سپلائی کرنے کے کے لیے قائم کی گئی ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی (ایک نئی ڈسکو) کو بجلی کی تقسیم کا 20 سالہ لائسنس جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ڈی ایچ اے سٹی کراچی پاکستان کا پہلا نجی ہاؤسنگ منصوبہ بن گیا ہے جسے اپنی حدود میں بجلی کی تقسیم کا باقاعدہ اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
نیپرا کے مطابق ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی کو صرف ڈی ایچ اے سٹی کراچی کی حدود میں بجلی تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کمپنی کو یکم اکتوبر 2026 سے 30 ستمبر 2046 تک لائسنس دیا گیا ہے، جس کے دوران وہ رہائشی، تجارتی اور دیگر صارفین کو بجلی فراہم کر سکے گی، تاہم اس کی تمام سرگرمیاں نیپرا کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں گی۔
کے الیکٹرک کے بعد ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی ملک کی دوسری نجی کمپنی بن گئی ہے جو اپنے طور پر بجلی سپلائی کرسکتی ہے۔
ڈی ایچ اے سٹی کراچی، کراچی شہر سے تقریباً 56 کلومیٹر دور ایم نائن موٹروے پر ضلع ملیر میں واقع ہے۔ یہ تقریباً 22 ہزار ایکڑ پر محیط ایک بڑا رہائشی منصوبہ ہے، جہاں مستقبل میں ہزاروں خاندانوں کی آبادکاری متوقع ہے۔

نیپرا نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی صارفین سے بجلی کے نرخ، نظام استعمال کے چارجز یا نئے کنکشن کی کوئی فیس نیپرا کی پیشگی منظوری کے بغیر وصول نہیں کر سکے گی۔ اتھارٹی نے کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 روز کے اندر بجلی کے نرخوں کے تعین کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کرائے تاکہ منظور شدہ ٹیرف کے مطابق صارفین سے وصولیاں کی جا سکیں۔
نیپرا نے یہ بھی شرط عائد کی ہے کہ کمپنی مالی، فنی اور انسانی وسائل سے متعلق تمام ریگولیٹری تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔ کمپنی کو بجلی کی فراہمی، نظام کی حفاظت، صارفین کی شکایات کے ازالے اور سروس کے معیار سے متعلق تمام قواعد کی پابندی کرنا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی نے اپنی درخواست میں بتایا تھا کہ ڈی ایچ اے سٹی کراچی اس وقت نہ تو قومی گرڈ سے براہ راست منسلک ہے اور نہ ہی کے الیکٹرک کے نیٹ ورک سے۔ کمپنی نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں اس نے لکی سیمنٹ لمیٹڈ سے چھ میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کے لیے مفاہمت کی ہے، جس کے ذریعے ڈی ایچ اے سٹی کے صارفین کو بجلی فراہم کی جائے گی۔
اس درخواست پر سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور کے الیکٹرک نے اعتراضات بھی اٹھائے تھے۔ ان اداروں نے کمپنی کی مالی استعداد، تکنیکی صلاحیت اور عملی تجربے پر سوالات اٹھائے تھے، تاہم نیپرا نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور مسابقتی نظام متعارف کرانے کے لیے قانون میں کی گئی ترامیم ایسے نئے اداروں کو کام کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
نیپرا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد پیداوار، ترسیل، تقسیم اور فراہمی کے مختلف شعبوں میں مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت تقسیم کار کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کی جا رہی ہے تاکہ نئے سرمایہ کار بھی بجلی کی فراہمی کے نظام میں حصہ لے سکیں۔
ریگولیٹر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ڈی ایچ اے انرجی سپلائی کمپنی ایک نئی کمپنی ہے اور ابھی اس کی عملی کارکردگی کا ریکارڈ موجود نہیں، تاہم اس کی بنیادی کمپنی ڈی ایچ اے کراچی مالی طور پر مضبوط ادارہ ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے ذیلی ادارے کی معاونت کر سکتی ہے۔ نیپرا کے مطابق نئی کمپنی کے لیے لائسنس کا اجرا اس کی مالی اور انتظامی صلاحیت میں مزید بہتری کا باعث بنے گا، جبکہ لائسنس ملنے کے بعد کمپنی قانونی طور پر تمام ریگولیٹری تقاضوں کی پابند ہوگی۔


