Tag: نیپاہ وائرس

  • حال ہی میں پاکستان حکومت کا نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ روکنے کے لیے مسافروں کی اسکریننگ کا فیصلہ، مگر یہ وائرس ہے کیا؟

    حال ہی میں پاکستان حکومت کا نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ روکنے کے لیے مسافروں کی اسکریننگ کا فیصلہ، مگر یہ وائرس ہے کیا؟

    انڈین ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد حال ہی میں پاکستان میں احتیاطی اقدامات سخت کر دیے گئے تھے، وفاقی حکام نے ہوائی اڈوں اور دیگر داخلی راستوں پر مسافروں کی اسکریننگ جاری رکھنے کی ہدایت دی، تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    نیپاہ وائرس کیا ہے؟
    نیپاہ وائرس ایک خطرناک اور متعدی وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا۔ اس کے بعد انڈیا، بنگلہ دیش اور دیگر قریبی علاقوں میں وقفے وقفے سے اس کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔

    یہ وائرس کہاں سے پھیلتا ہے؟


    ماہرین کے مطابق نیپاہ وائرس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں۔ وائرس چمگادڑ کے لعاب یا فضلے سے آلودہ پھلوں کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ متاثرہ جانوروں، خصوصاً سور، سے انسان میں منتقلی بھی ممکن ہے۔ بعض کیسز میں انسان سے انسان قریبی رابطے، کھانسی، تھوک یا جسمانی رطوبت کے ذریعے وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

    علامات کیا ہوتی ہیں؟


    نیپاہ وائرس کی علامات عموماً پانچ سے 14 دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور متلی شامل ہو سکتی ہیں۔ سنگین صورت میں سانس لینے میں دشواری، ذہنی الجھن، بے ہوشی اور دماغ کی سوجن بھی سامنے آ سکتی ہے۔ بعض مریض کومہ میں جا سکتے ہیں یا موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس میں اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک بتائی گئی ہے۔

    علاج اور ویکسین کی صورتحال
    فی الحال نیپاہ وائرس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا علاج دستیاب نہیں۔ مریضوں کا علاج علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر ہی اس بیماری سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

    پاکستان میں احتیاطی اقدامات
    حکام کے مطابق پڑوسی ممالک میں کیسز کی موجودگی، بین الاقوامی آمد و رفت اور ملک میں چمگادڑوں کی موجودگی ممکنہ خطرات میں شامل ہیں۔ اسی لیے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ، ہسپتالوں کو الرٹ رکھنے اور مشتبہ مریضوں کو فوری طور پر الگ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    شہریوں کے لیے ہدایات
    عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ گرے ہوئے یا کٹے ہوئے پھل استعمال نہ کریں۔ چمگادڑوں اور جنگلی جانوروں سے فاصلہ رکھیں۔ بیمار افراد سے غیر ضروری قریبی رابطے سے گریز کریں اور ہاتھ باقاعدگی سے صابن سے دھوئیں۔ بخار کے ساتھ ذہنی الجھن یا غیر معمولی علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا قریبی ہسپتال سے رجوع کیا جائے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور عوام کو خوفزدہ ہونے کے بجائے احتیاط اور آگاہی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔