پاکستان کے شمال میں ایک ایسی دنیا آباد ہے جہاں زمین واقعی آسمان کو چھوتی محسوس ہوتی ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک، جسے دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع میدانوں میں شمار کیا جاتا ہے، سطح سمندر سے تقریباً چار ہزار میٹر سے زائد بلندی پر واقع ہے۔ سال کے بیشتر حصے میں برف سے ڈھکا رہنے والا یہ خطہ جب گرمیوں میں زندگی کی طرف لوٹتا ہے تو اپنے ساتھ کئی انوکھی کہانیاں بھی لے آتا ہے۔ انہی میں سے ایک کہانی ہے گولڈن مارمٹ کی، ایک ایسا جانور جس کے بارے میں صدیوں سے یہ روایت موجود ہے کہ یہ زمین سے سونا نکالتا ہے۔
گولڈن مارمٹ، جسے سائنسی طور پر Marmota caudata کہا جاتا ہے، دراصل گلہری کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے، مگر جسامت میں یہ عام گلہری سے کہیں بڑی ہوتی ہے اور بلی کے برابر سائز تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کی لمبی دم اور سنہری بھورا رنگ اسے دیگر مارمٹس سے منفرد بناتا ہے۔ یہ جانور دیوسائی کے علاوہ قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں تین ہزار سے پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر پایا جاتا ہے، جہاں سخت موسم اور محدود وسائل کے باوجود یہ اپنی بقا کو یقینی بناتا ہے۔
یہ ایک انتہائی معاشرتی جانور ہے جو خاندانوں کی صورت میں رہتا ہے۔ ایک خاندان میں عموماً پانچ سے سات بالغ افراد شامل ہوتے ہیں، اور یہ زمین کے اندر پیچیدہ سرنگوں کا نظام بناتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بل صرف رہائش کے لیے نہیں بلکہ درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، شکاریوں سے بچاؤ اور بچوں کی پرورش کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ایک خاندان کا علاقہ تقریباً تین ایکڑ تک پھیل سکتا ہے، جو ان کی سماجی ساخت اور علاقائی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔
سردیوں میں، جب دیوسائی مکمل طور پر برف میں دفن ہو جاتا ہے، یہ جانور ستمبر سے اپریل تک ہائبرنیشن میں چلا جاتا ہے۔ اس دوران اس کی دل کی دھڑکن اور جسمانی سرگرمیاں انتہائی کم ہو جاتی ہیں۔ ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ ہائبرنیشن کے دوران مارمٹ کا جسمانی درجہ حرارت تقریباً منفی کے قریب تک گر سکتا ہے، جبکہ اس کی توانائی کا انحصار مکمل طور پر اس چربی پر ہوتا ہے جو اس نے گرمیوں میں جمع کی ہوتی ہے۔
اب آتی ہے اس کہانی کی سب سے حیران کن کڑی، جو تاریخ اور سائنس کو جوڑتی ہے۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں یونانی مورخ ہیروڈوٹس نے اپنی تحریروں میں ذکر کیا کہ ہندوستان کے ایک علاقے میں لومڑی کے برابر بڑی چیونٹیاں رہتی ہیں جو زمین کھود کر سونے کے ذرات باہر نکالتی ہیں۔ یہ بیان صدیوں تک ایک افسانہ سمجھا جاتا رہا۔ تاہم 1980 کی دہائی میں فرانسیسی محقق مشیل پیسل نے دیوسائی کا دورہ کیا اور مقامی کمیونٹیز، خصوصاً مینارو لوگوں سے گفتگو کے بعد یہ دریافت کیا کہ یہ کہانی دراصل گولڈن مارمٹ سے جڑی ہوئی تھی۔
جب یہ مارمٹ اپنے بل کھودتی ہے تو وہ مٹی کے ساتھ ساتھ زیر زمین موجود معدنی ذرات، بشمول سونے کے باریک ذرات، سطح پر لے آتی ہے۔ مقامی لوگ صدیوں سے ان بلوں کے قریب سے یہ ذرات جمع کرتے رہے ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ قدیم فارسی زبان میں مارمٹ اور چیونٹی کے الفاظ میں مماثلت کی وجہ سے ہیروڈوٹس کے بیان میں غلط فہمی پیدا ہوئی، اور یوں ایک حقیقی مشاہدہ ایک دیومالائی کہانی میں تبدیل ہو گیا۔
دیوسائی نیشنل پارک کو 1993 میں قائم کیا گیا تھا، بنیادی طور پر ہمالیائی براؤن بیئر کے تحفظ کے لیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ گولڈن مارمٹ بھی اس محفوظ ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔ یہ دن کے وقت سرگرم رہتی ہے اور اپنی خوراک، جس میں گھاس، جڑی بوٹیاں اور پودوں کے نرم حصے شامل ہیں، تلاش کرنے میں خاصا وقت صرف کرتی ہے۔
اس جانور کی ایک اور دلچسپ خصوصیت اس کا مواصلاتی نظام ہے۔ گولڈن مارمٹ مختلف آوازوں کے ذریعے اپنے خاندان کو خبردار کرتی ہے۔ اگر خطرہ فضا سے ہو، جیسے عقاب، تو اس کی آواز مختلف ہوتی ہے، جبکہ زمینی شکاری جیسے لومڑی یا بھیڑیا کے لیے الگ اشارہ دیا جاتا ہے۔ یہ پیچیدہ آوازیں ان کی بقا کے لیے نہایت اہم ہیں۔
گولڈن مارمٹ صرف ایک جانور نہیں بلکہ ایک ایسی زندہ کڑی ہے جو قدیم تاریخ، مقامی روایات اور جدید سائنسی تحقیق کو آپس میں جوڑتی ہے۔ دیوسائی کی خاموش وادیوں میں آج بھی یہ سنہری مخلوق اپنی دنیا آباد کیے ہوئے ہے، اور شاید اس کے پنجوں کے نیچے وہی راز پوشیدہ ہیں جن کی تلاش انسان صدیوں سے کرتا آیا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل آپ تک ایسی ہی حیران کن اور تحقیق پر مبنی کہانیاں لاتا ہے، جہاں فطرت، تاریخ اور حقیقت ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔

