سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں واقع انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم نیا اسٹیڈیم میں پاکستان آج تک کوئی میچ نہیں ہارا مگر 18 سالوں میں ایک بھی بین القوامی میچ منعقد نہیں ہوا۔
نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد سندھ پاکستان کے اہم کرکٹ مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ اسٹیڈیم 1960 کی دہائی کے شروع میں قائم کیا گیا اور جلد ہی مقامی اور قومی سطح پر مقبول ہو گیا۔ اسٹیڈیم کا نام اُس وقت کے حیدرآباد کے کمشنر نیاز احمد کے نام پر رکھا گیا، جنہوں نے اس میدان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔
افتتاح کے بعد یہاں ابتدا میں مقامی اور ریجنل میچوں کا انعقاد ہوتا رہا، پھر اسے آہستہ آہستہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا۔
نیاز اسٹیڈیم میں پہلا ٹیسٹ میچ انیس سو تہتر میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا۔ مجموعی طور پر اس میدان میں پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے گئے۔
ان ٹیسٹ میچوں میں پاکستان نے کبھی شکست نہیں کھائی، یا تو میچ جیتا یا برابر رہا۔ یہ بات اس اسٹیڈیم کی خاص پہچان بن گئی کہ یہاں پاکستان کا ریکارڈ ہمیشہ مضبوط رہا۔
اس میدان میں کئی یادگار لمحات بھی ہوئے جن میں بڑے بیٹنگ کارنامے، نمایاں باؤلنگ اسپیلز اور شاندار ٹیم پرفارمنس شامل ہیں۔
نیاز اسٹیڈیم میں ایک روزہ بین الاقوامی میچ یا او ڈی آئی سات بار منعقد ہوئے۔ ان میچوں میں بھی پاکستان کا ریکارڈ خاصا مثبت رہا اور قومی ٹیم نے اکثریت مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔
پاکستان نے یہاں ہونے والے ایک روزہ میچوں میں بھی کبھی شکست کا سامنا نہیں کیا۔ اسی میدان میں پاکستان کے فاسٹ باؤلر جلال الدین نے دنیا کی ون ڈے کرکٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک بھی بنائی، جس نے اس اسٹیڈیم کو عالمی سطح پر تاریخی بنا دیا۔
نیاز اسٹیڈیم میں مختلف ممالک کی ٹیموں نے دورہ کیا۔ ان میں انگلینڈ، بھارت، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور زمبابوے کی ٹیمیں شامل ہیں۔
ہر دورے نے اس میدان کی شہرت میں اضافہ کیا اور حیدرآباد سندھ کو پاکستان کرکٹ کے نقشے پر مزید نمایاں کیا۔ یہاں ہونے والے میچ ہمیشہ تماشائیوں سے بھرپور رہے اور مقامی شائقین کے لیے یہ میدان خاص کشش رکھتا ہے۔
اسٹیڈیم کی ایک اور تاریخی بات یہ ہے کہ یہاں ٹیسٹ کرکٹ کا ہزارواں میچ بھی کھیلا گیا، جو کرکٹ کی تاریخ کا ایک بڑا سنگِ میل ہے۔ اگرچہ گزشتہ 17 برسوں میں یہاں بین الاقوامی میچ نہیں ہوئے، مگر اسٹیڈیم اب بھی پاکستان کرکٹ میں خاص مقام رکھتا ہے۔
مختلف ادوار میں اس کی مرمت اور بحالی کے منصوبے بنتے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں یہاں دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ بحال ہو سکے۔
نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد ایک ایسا کرکٹ میدان ہے جس کی تاریخ شاندار، ریکارڈ مضبوط اور یادگار لمحات سے بھرپور ہے۔ یہاں پاکستان نے ہمیشہ اچھا کھیل پیش کیا، مختلف عالمی ٹیموں نے یہاں دورے کیے، اور اسٹیڈیم نے کرکٹ کے کئی تاریخی لمحوں کی میزبانی کی۔
یہ میدان آج بھی شائقین کرکٹ کے دلوں میں زندہ ہے اور اپنی آئندہ بحالی کا منتظر ہے۔
اس وقت یہ اسٹیڈیم حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام ہے۔
حال ہیمیں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) و وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد کو آئندہ مہینوں میں بین الاقوامی معیار کے مطابق اپگریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا کہنا ہے اگر یہ اسٹیڈیم پی سی بی کے حوالے کیا جائے تو جلد ہی بین القوامی میچز منعقد کیے جائیں گے، جب کہ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ پی سی بی بین القوامی میچ منعقد کرائے تو اسٹیڈیم کا انتظام پی سی بی حوالے کیا جاسکتا ہے۔
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) و وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد امید ہوئی ہے کہ جلد ہی بین القوامی میچ اس اسٹیڈیم میں منعقد کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ نیا ز اسٹیڈیم حیدرآباد نے آخری بار 2008 میں پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ایک روزہ میچ کی میزبانی کی تھی۔ اس کے بعد سے یہ اسٹیڈیم فرسٹ کلاس ڈومیسٹک میچز کے انعقاد کے لیے بھی جدوجہد کرتا رہا ہے۔