صحرائے تھر کا علاقہ خاص طور پر مذہبی تنوع کی ایک زندہ مثال سمجھا جاتا تھا، جہاں ننگرپارکر اور اس کے گرد و نواح میں جین دھرم کے ماننے والوں کی بڑی تعداد رہتی تھی۔
مقامی روایت کے مطابق تقسیمِ ہند سے پہلے ننگرپارکر، ویراہ واہ، بھوڈیسر اور قریبی بستیوں میں جینی خاندان اکثریت میں تھے۔ تقسیم کے بعد زیادہ تر جینی خاندان انڈیا ہجرت کر گئے، جبکہ چند ایک نے یہیں رہنے کو ترجیح دی۔ مگر 1971 کی پاکستان انڈیا جنگ کے بعد حالات نے ایک بار پھر کروٹ لی اور بچے کھچے خاندان بھی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق آخری جینی خاندان 1972 کی ایک صبح اونٹ پر سوار ہو کر ننگرپارکر سے روانہ ہوا، اور یوں تھر میں جین دھرم کی اجتماعی موجودگی کا ایک طویل باب بند ہو گیا۔
ننگرپارکر کے بازار میں واقع جین مندر کو مقامی لوگ تقریباً پانچ سو سال پرانا قرار دیتے ہیں۔ گوڑی کے مقام پر واقع گوڑی مندر، ویراہ واہ میں ایک چھوٹا مندر، اور بھوڈیسر کا پونی مندر ان باقیات میں شامل ہیں جو وقت اور لاپروائی کے بوجھ تلے آہستہ آہستہ زوال پذیر ہیں۔
پونی مندر ایک بلند چبوترے پر قائم ہے۔ پتھروں سے بنی اس عمارت کی دیواروں میں جڑے کئی پتھر اپنی جگہ چھوڑ چکے ہیں، جنہیں گرنے سے بچانے کے لیے لوہے کی تاروں سے سہارا دیا گیا ہے۔ مندروں کی دیواروں پر جانوروں اور پرندوں کی سنگی مورتیاں، اور نگم طرز کی نقش نگاری آج بھی اس فن تعمیر کی نفاست کی گواہی دیتی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق 2001 میں انڈیا کے شہر بھُج میں آنے والے زلزلے نے ان مندروں کو مزید نقصان پہنچایا۔
ننگرپارکر اور پونی مندر کی مرمت کا آغاز 2017 میں ہوا، مگر یہ کام اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ اس تاخیر کے باعث یہ تاریخی ورثہ مزید خستہ حالی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
اس ویڈیو اسٹوری کے لیے ہم نے ننگرپارکر کے مقامی فوٹوگرافر دلیپ پرمار سے بھی بات کی، جو برسوں سے ان مندروں کی تصویری دستاویز بنا رہے ہیں۔ دلیپ پرمار کے مطابق، ‘یہ مندر صرف پتھر کی عمارتیں نہیں، یہ تھر کی مشترکہ تاریخ کی علامت ہیں۔ اگر ان کی مرمت اور دیکھ بھال نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں صرف تصویروں میں ہی اس ورثے کو دیکھ سکیں گی۔‘
تھر کے یہ خاموش مندر آج بھی اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب ننگرپارکر مذہبی ہم آہنگی اور تنوع کی ایک روشن مثال تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ یادیں محفوظ رہ پائیں گی یا وقت کی گرد میں گم ہو جائیں گی۔

