Tag: نریڑی جھیل

  • نریڑی جھیل: دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں سکڑتا ہوا ایک اہم آبی مسکن

    نریڑی جھیل: دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں سکڑتا ہوا ایک اہم آبی مسکن

    بدین میں پاکستان اور بھارت کی سرحد کے قریب نریڑی جھیل کے وسیع و عریض پھیلے ہوئے خشک حصے پر کھڑے ہو کر یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ یہ علاقہ کبھی بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے آبی پرندوں کے لیے ایک اہم مسکن ہوا کرتا تھا۔

    نریڑی، جسے نریڑی لگون بھی کہا جاتا ہے، زیریں دریائے سندھ کے ڈیلٹا کا حصہ ہے اور اسے عالمی سطح پر اہم آبی علاقے کی حیثیت سے رامسر کنونشن کے تحت تسلیم کیا گیا ہے۔ اسے 2001 میں رامسر سائٹ کا درجہ دیا گیا۔

    نریڑی بدین کے ساحلی علاقے میں واقع ہے اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے ان وسیع آبی اور ساحلی نظاموں کا حصہ ہے جہاں جھیلوں، لگونز، کھاڑیاں، کیچڑ زدہ میدانوں اور دیگر دلدلی علاقوں کا ایک پیچیدہ سلسلہ پایا جاتا ہے۔ یہ پورا خطہ دریائے سندھ سے آنے والے میٹھے پانی، سمندری مدوجزر، موسمی بارشوں اور بحیرہ عرب کے اثرات سے تشکیل پاتا ہے۔

    نریڑی کی اہمیت کا ایک بڑا سبب یہاں آنے والے نقل مکانی کرنے والے پرندے ہیں۔ سندھ انڈس فلائی وے سے منسلک ہے، جو پرندوں کی ہجرت کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ ہر سال شمالی یوریشیا کے مختلف علاقوں سے پرندے سردیوں کے موسم میں جنوب کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں اور سندھ کی جھیلوں، دلدلی علاقوں اور ساحلی آبی مساکن میں قیام کرتے ہیں۔

    سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے آبی پرندوں کے سالانہ سروے نریڑی کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2025-26 کے موسم سرما کے سروے کے دوران نریڑی جھیل میں ایک لاکھ 71 ہزار 171 نقل مکانی کرنے والے پرندے ریکارڈ کیے گئے، جو سروے میں شامل سندھ کے 30 مقامات میں سب سے زیادہ تعداد تھی۔

    ان سرویز کے دوران مختلف اقسام کے پرندے ریکارڈ کیے جاتے رہے ہیں، جن میں شمالی شاولر، کامن پوچارڈ، ٹفٹڈ ڈک، یوریشین ویجن، کاٹن پگمی گوز، گارگنی، نادرن پن ٹیل، فیریجینس پوچارڈ، کامن کوٹ، ریڈ کرسٹڈ پوچارڈ، گیڈوال، ماربلڈ ٹیل، گری لیگ گوز اور بار ہیڈڈ گوز شامل ہیں۔

    تاہم نریڑی میں پرندوں کی تعداد اور آبی رقبہ ہر سال یکساں نہیں رہا۔ 2022-23 کے موسم سرما کے سروے میں یہاں 100,766 پرندے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ مختلف ادوار میں نریڑی اور سندھ کے دیگر آبی علاقوں میں پانی کی کمی اور ماحولیاتی بگاڑ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

    سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی ایک حالیہ تحقیق نے بھی نریڑی میں ہونے والی طویل مدتی تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیق کے مطابق 2000 میں نریڑی کا نقشہ شدہ آبی رقبہ تقریباً 88.12 مربع کلومیٹر تھا، جو 2023 تک کم ہو کر تقریباً 19.12 مربع کلومیٹر رہ گیا۔ اس تحقیق میں جھیل کے پانی سے متعلق دیگر اشاریوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو آبی مسکن میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

    نریڑی کی موجودہ صورتحال کو کسی ایک وجہ سے منسلک کرنا درست نہیں ہوگا۔ تحقیق اور مختلف ماحولیاتی جائزوں کے مطابق زیریں دریائے سندھ اور ڈیلٹا کے آبی علاقوں کو میٹھے پانی کی کمی، دریائی بہاؤ میں تبدیلی، خشک سالی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، نمکیات میں اضافے، سمندری پانی کے اندر آنے، آلودگی اور نکاسی آب کے نظام میں تبدیلی جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔

    اس پورے بحران کا ایک بنیادی پہلو دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں طویل مدتی تبدیلی ہے۔ زیریں سندھ کا ڈیلٹا دریائے سندھ سے آنے والے میٹھے پانی پر انحصار کرتا ہے، خصوصاً کوٹری بیراج سے نیچے کے علاقے میں۔ سائنسی مطالعات کے مطابق کوٹری بیراج کے نیچے ماحولیاتی بہاؤ کی کمی اور اس میں بے قاعدگی نے ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کیا ہے۔

    دریائے سندھ کے پانی کا بڑا حصہ آبپاشی کے لیے مختلف بیراجوں اور نہری نظاموں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تاریخی طور پر جتنا پانی دریائے سندھ کے نچلے حصے اور ڈیلٹا تک پہنچتا تھا، اس میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی کے باعث سمندری پانی کا اثر اندرونی علاقوں تک بڑھ سکتا ہے، جس سے زمین، میٹھے پانی کے ذخائر، نباتات اور آبی حیات متاثر ہوتی ہے۔

    سمندری پانی کی پیش قدمی اور نمکیات میں اضافے کا اثر صرف جھیلوں تک محدود نہیں رہتا۔ ان تبدیلیوں کا تعلق ڈیلٹا کے مینگرووز، مچھلیوں، زرعی زمینوں، میٹھے پانی کے ذرائع اور مقامی آبادی کے روزگار سے بھی ہے۔ دریائی بہاؤ میں کمی کے ساتھ دریائے سندھ کے ذریعے آنے والی تلچھٹ میں کمی بھی ڈیلٹا کے ساحلی نظام کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

    نریڑی کو نکاسی آب اور آلودگی کے مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ مختلف سرکاری اور ماحولیاتی دستاویزات میں زرعی اور صنعتی فضلے کے نکاسی آب کے راستوں کے ذریعے آبی علاقوں تک پہنچنے کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض مطالعات میں ایسے ڈرینج سسٹمز کی نشاندہی کی گئی ہے جو آلودہ پانی نریڑی کے آبی نظام کی طرف لے جاتے ہیں۔

    نریڑی کی ماحولیاتی اہمیت کا تعلق مقامی آبادی کے روزگار سے بھی رہا ہے۔ ماضی میں اس علاقے کے آبی ذخائر میں ماہی گیری اور دیگر سرگرمیاں مقامی لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ تھیں۔ پانی کی سطح اور آبی مسکن میں تبدیلی کے اثرات نے ان سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

    اس کے باوجود نریڑی کو مکمل طور پر ختم شدہ یا مردہ جھیل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے آبی رقبے میں نمایاں کمی کے شواہد موجود ہیں، لیکن 2025-26 میں 171,171 نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ اب بھی پرندوں کے لیے اہم مسکن کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    تصویر میں دکھائی دینے والا وسیع کیچڑ زدہ اور خشک منظر اس تبدیلی کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ تاہم ساحلی جھیلوں میں پانی کی سطح موسم اور مدوجزر کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے کسی ایک وقت کی تصویر کو جھیل کی مکمل سالانہ صورتحال کا نمائندہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ دوسری طرف طویل مدتی سیٹلائٹ تحقیق میں نریڑی کے آبی رقبے میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے، جو موسمی اتار چڑھاؤ سے کہیں بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    نریڑی کی کہانی بنیادی طور پر پانی کی کہانی ہے۔ اس جھیل کا مستقبل صرف مقامی بارشوں یا سمندری مدوجزر سے وابستہ نہیں بلکہ دریائے سندھ کے مجموعی بہاؤ اور زیریں ڈیلٹا تک پہنچنے والے میٹھے پانی کی مقدار اور وقت سے بھی جڑا ہوا ہے۔

    نریڑی کا مقام اسے مزید اہم بنا دیتا ہے۔ یہ زیریں دریائے سندھ کے ڈیلٹا، ساحلی آبی علاقوں اور پاکستان بھارت سرحدی خطے کے قریب واقع ایک ایسا مقام ہے جس کی اہمیت مقامی حدود سے کہیں آگے ہے۔ رامسر سائٹ کی حیثیت اس کی بین الاقوامی ماحولیاتی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، جبکہ یہاں ہر سال آنے والے ہزاروں نقل مکانی کرنے والے پرندے اس کے مسلسل حیاتیاتی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    نریڑی کا مستقبل اس بات سے گہرا تعلق رکھتا ہے کہ دریائے سندھ کا کتنا پانی ڈیلٹا تک پہنچتا ہے، آبی علاقوں کو کتنا میٹھا پانی دستیاب رہتا ہے اور ان علاقوں کو آلودگی، نمکیات اور انسانی دباؤ سے کس حد تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ نریڑی میں ماحولیاتی تبدیلی کے آثار واضح ہیں، لیکن اس کا موجودہ پرندوں کا مسکن یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ آبی علاقہ اب بھی زندہ ہے اور اس کے تحفظ کی اہمیت برقرار ہے۔