انسانی عزم کی نشانی ‘اورین’ (Orion) کیپسول میں چار خلاباز زمین سے لاکھوں کلومیٹر دور، 28,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہیبت ناک رفتار سے چاند کی جانب گامزن ہیں۔ یہ محض ایک سفر نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
یقیناً نیل آرم اسٹرانگ آج زندہ ہوتے تو انہیں یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی کہ جس چاند پر انہوں نے پہلا قدم رکھا تھا، اب وہاں انسانوں کی چہل قدمی ایک معمول بننے والی ہے۔ جب سے انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کی، خلا کی وسعتوں کو تسخیر کرنا اس کی اولین ترجیح رہی ہے۔
اپالو سے آرٹیمس تک: جڑواں بہن بھائیوں کی داستان
ستر کی دہائی میں ‘اپالو’ مشن کے ذریعے انسان نے چاند کو سر تو کر لیا تھا، لیکن اب ‘آرٹیمس’ کے ذریعے وہاں مستقل قیام کی آرزو جاگی ہے۔ یونانی اساطیر (Mythology) کے مطابق ‘آرٹیمس’ چاند کی دیوی اور طاقتور ترین ہستی مانی جاتی ہے، جو ‘اپالو’ کی جڑواں بہن تھی۔ اسی مناسبت سے ناسا نے اپنے پہلے مشن کا نام اپالو اور اب اس نئے عہد کے مشن کا نام آرٹیمس رکھا ہے، جو اس بار ‘پہلی خاتون’ اور ‘پہلے غیر سفید فام’ انسان کو چاند کی سطح پر اتارنے کا عزم لیے ہوئے ہے۔
آرٹیمس ٹو: تجربہ اور تیاری
امریکی خلائی ادارے ناسا کا ‘آرٹیمس II’ مشن دراصل اس عظیم سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔ اگرچہ ترقی یافتہ معاشروں میں ایسے مشن معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، تاہم پاکستان جیسے ممالک میں یہ تجسس اور حیرانی کا باعث ہیں۔ یہ مشن محض چاند کے گرد چکر لگانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس ‘اسپیس لانچ سسٹم’ (SLS) کی جانچ ہے جو دنیا کا طاقتور ترین راکٹ ہے۔
آرٹیمس II کے چار جری خلاباز—کمانڈر ریڈ وائیزمین، پائلٹ وکٹر گلاور، مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ اور جیرمی ہینسن—چاند کے گرد ‘فری ریٹرن ٹریجیکٹری’ (Free Return Trajectory) پر سفر کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ خلائی جہاز چاند کی کششِ ثقل کو ایک غلیل (Slingshot) کی طرح استعمال کرتے ہوئے قدرتی طور پر زمین کی طرف واپس مڑے گا۔ اس 10 روزہ سفر کے دوران یہ خلاباز چاند کی سطح سے محض 7,400 کلومیٹر اوپر سے گزریں گے تاکہ وہاں کے ماحول، تابکاری (Radiation) اور اورین کیپسول کے لائف سپورٹ سسٹم کا باریک بینی سے معائنہ کر سکیں۔
چاند کا قطب جنوبی اور ‘برفانی پانی’ کی تلاش
ناسا کا اصل ہدف چاند کا وہ قطب جنوبی (South Pole) ہے جہاں آج تک کوئی انسان نہیں پہنچا۔ سائنسی تحقیق کے مطابق یہاں کے تاریک گڑھوں میں ‘برف’ کی صورت میں پانی موجود ہے۔ یہ پانی مستقبل کے خلابازوں کے لیے پینے، آکسیجن بنانے اور سب سے بڑھ کر راکٹ فیول (ہائیڈروجن اور آکسیجن)
کی تیاری میں کام آئے گا۔ یہی وہ ایندھن ہے جو چاند کو ایک ‘اسپیس اسٹیشن’ یا پیٹرول پمپ میں بدل دے گا، جہاں سے انسان مریخ (Mars) کی طویل مسافت طے کر سکے گا۔
مستقبل کے مراحل: آرٹیمس III اور گیٹ وے
آرٹیمس II کی کامیابی دراصل آرٹیمس III کی راہ ہموار کرے گی، جو 2026 کے آخر تک انسان کو چاند کی سطح پر اتارے گا۔ ناسا کا منصوبہ صرف چاند پر اترنا نہیں بلکہ چاند کے مدار میں ایک چھوٹا خلائی اسٹیشن بنانا ہے جسے ‘گیٹ وے’ (Gateway) کہا جائے گا۔ یہ اسٹیشن چاند کی سطح پر جانے اور وہاں سے مریخ کی طرف روانہ ہونے کے لیے ایک مستقل بیس کے طور پر کام کرے گا۔
خلائی سیاست اور معیشت
تقریباً 93 ارب ڈالر کی خطیر لاگت سے تیار ہونے والا یہ پروجیکٹ محض سائنسی نہیں بلکہ تزویراتی (Strategic) بھی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں شروع ہونے والی خصوصی فنڈنگ اور موجودہ انتظامیہ کی سپورٹ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ خلائی دوڑ میں چین (China) سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ چین کا ہدف بھی 2030 تک اپنے خلاباز چاند پر اتارنا ہے، جس نے اس ‘نیو اسپیس ریس’ کو مزید تیز کر دیا ہے۔

