سندھ کے ضلع خرپور کے صحرائے نارا کے اہم شہر چونڈکو کے قریب نارا کینال کے اطراف کا علاقہ ایک منفرد دیہاتی دستکاری یعنی سرکنڈے سے کچھے مکانات کے چھپرے بنانے کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
نارا کینال کے کنارے بسنے والے مزدور اور کاریگر ایک مخصوص قسم کے سرکنڈا (جسے مقامی طور پر کانا کہا جاتا ہے) کا استعمال کرتے ہیں، جو کینال کے قریب کے کھیتوں اور ندیوں میں خود بخود اگتا ہے۔ اسے کاٹ کر خشک کیا جاتا ہے اور پھر تجربہ کار کاریگروں کی ٹیم ان کانوں کو لچکدار بناتے ہوئے ہاتھ سے چھپرے یا پنکھے کی شکل میں ڈھالتے ہیں۔
مقامی کاریگر محمد اکرم نوناری نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا، ‘ہم اپنے بزرگوں سے یہ فن ورثے میں سیکھے ہیں۔ اب ہم یہی پنکے تیار کر کے شہر اور دیہاتوں میں بیچتے ہیں اور یہ باہر ممالک بھی لوگ منگواتے ہیں۔ بجلی نہ ہونے والے علاقوں میں یہ سب سے سستا اور مؤثر ٹھنڈا ذریعہ ہے۔’
یہ پنکے نہ صرف گرم موسم میں گھروں اور مساجد میں ہوا دینے کے کام آتے ہیں بلکہ ان کی مضبوطی، ہلکا وزن اور دیرپا مزاج کی وجہ سے سب کی پسند بن گئے ہیں۔ ایک کاریگر زینب بیگم کہتی ہیں، ‘یہ ہماری مستقل روزی کا ذریعہ ہے۔ بچے سکول جاتے ہیں تو ہم یہاں پنکے بناتے ہیں اور بیچ کر اپنا خرچ نکالتے ہیں۔’
نارا کینال کے قریب کام کرنے والے کاریگروں کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں ان کی مانگ میں بتدریج اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں۔ سوشل میڈیا اور موبائل کے ذریعے بھی لوگ آرڈرز بھیجنے لگے ہیں جس نے ان کے کاروبار کو فروغ دیا ہے۔
یہ روایتی دستکاری نہ صرف ایک ثقافتی ورثہ ہے بلکہ مقامی کمیونٹی کے لیے معاشی استحکام کا ذریعہ بھی بن چکی ہے۔ مقامی سرکاری اہلکار بھی اس کو ایک چھوٹے پیمانے پر صنعت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ کاریگروں کو بہتر تربیت، منڈی رسائی اور فروغ دینے کی سہولتیں فراہم کی جائیں، تاکہ یہ ہنر نسل در نسل زندہ رہے۔

