28 جنوری 2026 کی ایک سرد صبح، لاہور کے تاریخی بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اپنی نو ماہ کی بچی کے ساتھ سڑک پر چل رہی تھیں کہ اچانک زمین ان کے قدموں تلے سے غائب ہو گئی۔
وہ دونوں ایک کھلے مین ہول میں جا گریں، اور ان کی لاشیں ایک ساتھ نہ مل سکیں۔
خاتون کی لاش تین کلومیٹر دور سے ملی، جبکہ بچی کی لاش ایک دن بعد پانچ کلومیٹر دور سے برآمد ہوئی۔
پنجاب حکومت نے اس واقعے کو فیک نیوز قرار دیا اور شکایت کرنے والے والد کو جیل بھیج دیا گیا، جہاں وہ رات بھر رہے۔
لیکن جب خاندان کی خواتین میڈیا پر سامنے آئیں تو وزیرِ اعلیٰ مریم نواز حرکت میں آئیں، جس کے بعد واسا کے پراجیکٹ مینیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
لاہور کا یہ واقعہ شہریوں کے لیے صدمے کا باعث بنا، مگر افسوسناک طور پر یہ کوئی نیا یا پہلا واقعہ نہیں تھا۔
پورے پنجاب میں کھلے اور بغیر ڈھکن کے مین ہول ایک مستقل مسئلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جنہوں نے کئی قیمتی جانیں لیں اور ہزاروں افراد کو زخمی کیا ہے۔
اس صورتِ حال نے حکمرانی، قانون کے نفاذ اور شہری ڈھانچے میں سنگین ناکامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔
بار بار ہونے والے حادثات اور سرکاری دعوؤں کے باوجود یہ خطرہ اب بھی پنجاب میں وسیع پیمانے پر موجود ہے۔
مین ہول میں گرنے سے ہونے والی اموات یا زخمیوں کا کوئی الگ ریکارڈ موجود نہیں۔
ایسے واقعات اکثر “پیدل چلنے والوں کے حادثات” یا “ڈوبنے” جیسے الفاظ کے لبادے میں چھپا دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مسئلے کی اصل شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
تاہم میڈیا رپورٹس، ریسکیو 1122 اور واسا کے اعداد و شمار انفرادی واقعات کے ایک خوفناک تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دسمبر 2025 میں ضلع لودھراں کے قصبے دھنوٹ میں سات سالہ ریحان اسکول جاتے ہوئے ایک کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔
لاہور میں بھی اسی نوعیت کے واقعات میں کئی کم عمر بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے جو رہائشی علاقے میں کھلے گٹر میں گر گیا۔
یہ واقعات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ پتوکی، کروڑ پکا اور دیگر شہری علاقوں میں بھی بغیر ڈھکن نالوں والی گلیوں میں ایسے حادثات بار بار رپورٹ ہو رہے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ دستیاب اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں۔
اگرچہ مین ہول سے متعلق اموات کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں، لیکن ایمرجنسی ریسپانس ڈیٹا مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
ریسکیو 1122 نے 2025 میں پنجاب بھر میں پانچ لاکھ ستر ہزار سے زائد زخمیوں کو امداد فراہم کی، جن میں گیارہ فیصد حادثات پیدل چلنے والوں سے متعلق تھے۔
یہ وہ طبقہ ہے جو کھلے مین ہولز سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، اور حکام خود تسلیم کرتے ہیں کہ نالوں یا گٹروں میں گرنے کے کئی واقعات انہی زمروں میں شامل ہو جاتے ہیں۔
ایک اور خطرناک حقیقت مین ہولز کی گہرائی ہے۔ مرکزی سیور لائنوں کے مین ہولز چالیس فٹ تک گہرے ہوتے ہیں؛ ایک بار کوئی شخص اس میں گر جائے تو زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔
صفائی کے عملے کے لیے بھی یہ جگہیں جان لیوا ہیں۔ فیصل آباد میں کئی واقعات رپورٹ ہوئے جن میں صفائی کے کارکن زہریلی گیسوں یا حفاظتی سامان کے بغیر مین ہول صاف کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
ایسے دو واقعات 2024 کے آغاز میں سرکاری طور پر درج کیے گئے، جبکہ 2025 میں بھی ایسے کیسز سامنے آتے رہے۔
مین ہول کھلے کیوں رہتے ہیں؟
پنجاب کی صورتِ حال کراچی سے ہرگز مختلف نہیں؛ یہاں بھی مین ہول کے ڈھکن غائب ہونے کی سب سے بڑی وجہ چوری ہے۔
لوہے کے روایتی مین ہول ڈھکن تیس کلوگرام تک وزنی ہوتے ہیں، جنہیں چوری کر کے اسکریپ مارکیٹ میں 500 سے 1,000 روپے میں فروخت کر دیا جاتا ہے، جبکہ حکومت کو ایک نیا ڈھکن لگانے پر 8,000 سے 12,000 روپے تک خرچ آتا ہے۔
پنجاب حکومت اب مان رہی ہے کہ یہ صرف چھوٹی موٹی چوری نہیں بلکہ منظم گروہ اس میں ملوث ہیں، جو چوری شدہ لوہا اسکریپ ڈیلرز، فیکٹریوں اور ہارڈویئر کی دکانوں کو فروخت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود خریداروں کے خلاف کارروائی ماضی میں نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے اسکریپ ڈیلرز اور فیکٹریوں پر دس کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کے ذریعے اے آئی پر مبنی نگرانی کا نظام اور لوہے کے ڈھکنوں کی جگہ فائبر گلاس ڈھکن لگانے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جن کی کوئی اسکریپ ویلیو نہیں ہوتی۔
کراچی کی طرح لاہور میں بھی مون سون کے دوران ایک اور مسئلہ سامنے آتا ہے۔ بارش کا پانی جلدی نکالنے کے لیے مین ہول کے ڈھکن جان بوجھ کر ہٹا دیے جاتے ہیں یا صفائی کے دوران کھلے چھوڑ دیے جاتے ہیں، مگر بعد میں نہ تو وارننگ سائن لگائے جاتے ہیں اور نہ ہی ڈھکن بروقت واپس رکھے جاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگر کسی علاقے میں کھلے مین ہول کے باعث موت واقع ہو تو متعلقہ واسا یا میونسپل افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب مسئلے کی وجوہات برسوں سے معلوم تھیں تو یہ اقدامات پہلے کیوں نہیں کیے گئے؟

