Tag: مہنگی ادویات

  • زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کئی سو گنا اضافہ: ڈریپ کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

    زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کئی سو گنا اضافہ: ڈریپ کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ‘ڈریپ’ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ڈریپ پاکستان میں ادویات کی رجسٹریشن، معیار، درآمد، فروخت اور قیمتوں کی نگرانی کرنے والا وفاقی ادارہ ہے، جو وزارتِ قومی صحت کے تحت کام کرتا ہے۔ ادارہ ادویات کی قیمتوں کے تعین اور ان میں اضافے کی منظوری کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

    بریفنگ کے مطابق نزلہ، زکام اور بخار کے لیے استعمال ہونے والی دوا ‘کولڈریکس’ کی قیمت میں 1621 فیصد اضافہ ہوا۔ حکام کے مطابق 27 روپے میں فروخت ہونے والا ایک پیکٹ بڑھ کر 475 روپے تک پہنچ گیا۔

    ہڈیوں کی صحت کے لیے استعمال ہونے والی دوا ‘کال وی’ کی قیمت میں 302 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عام استعمال کی درد کش دوا ‘بروفین’ کی قیمت میں بھی 244 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

    ڈریپ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آنکھوں کی دوا ‘پولی فیکس’ کی قیمت 34 روپے سے بڑھ کر 113 روپے ہو گئی، جبکہ معدے اور آنتوں کی تکلیف کے لیے استعمال ہونے والی دوا ‘لیبریکس’ کی قیمت میں 241 فیصد اضافہ ہوا۔

    بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ الرجی کے انجکشن ‘ایویل’ کی قیمت 432 روپے سے بڑھ کر 1500 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ قبض کشا سیرپ اور قطروں ‘لیکسوبیرون’ کی قیمت میں 200 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    متلی اور چکر کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ‘اسٹیمیٹل’ بھی 188 فیصد مہنگی ہو گئی۔
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بعض اراکین نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگی ادویات عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ ادارہ شفاف انداز میں کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کبھی کسی فارماسیوٹیکل کمپنی سے ایک پیالی چائے بھی نہیں پی۔’