Tag: مکہ

  • مکہ پر یمن کے حوثی گروپ کے مبینہ تازہ حملے، مکہ مکرمہ پر حملوں کی تاریخ کتنی پرانی؟

    مکہ پر یمن کے حوثی گروپ کے مبینہ تازہ حملے، مکہ مکرمہ پر حملوں کی تاریخ کتنی پرانی؟

    مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مکہ مکرمہ پر یمن کے حوثی گروپ کے مبینہ حملے کی کوشش نے پورے عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

    سعودی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو حوثی گروپ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون داغا گیا جسے مارا گرایا گیا ہے۔ حوثی گروپ کے ایک سیاسی عہدیدار نے ابتدائی طور پر ایسے کسی حملے یا اقدام کی تردید کی ہے۔

    مکہ مکرمہ پر تاریخ کےکئی ادوار میں حملے کیے گئے یا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں سے سب سے مشہور تقریبا آج سے 1455سال پہلے یمن کے گورنر ابرہہ الاشرم کی جانب سے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ پر چڑھائی ہے۔ ابرہہ الاشرم یمن پر حبشہ کے بادشاہ کا گورنر تھا،کہا جاتا ہے کہ اس نے یمن میں ایک کلیسا بنایا تھا،اس کی خواہش تھی کہ عرب اس کے کلیسا میں آئیں جبکہ وہ مکہ مکرمہ میں قائم حرم کعبہ میں جاتے تھے۔

    ابرہہ نے جب کوئی اور راستہ نہ دیکھا تو حرم کعبہ کو ڈھانے کی ٹھانی اور ہاتھیوں کےلشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کےلیے نکل کھڑا ہوا۔

    اس واقعے کا قرآن پاک کی 105 ویں سورہ، سورہ فیل میں بھی باقاعدہ ذکر ہے۔ عربی میں فیل ہاتھی کو کہتے ہیں۔ سورہ فیل میں بتایا گیا ہے کہ جب ہاتھیوں والے لشکر نے حملہ کیا تو خدا نے ابابیلوں پرندوں کا لشکر بھیج کر ان پر کنکریاں گروائیں جس سے وہ پورا لشکر کسی کھائے ہوئے بھس جیسا ہوگیا۔

    قرآن پاک کے علاوہ عرب زبانی تاریخ اور شاعری میں بھی فیل والی لڑائی کا تذکرہ ملتا ہے۔ اسلام سے پہلے قریش کے کچھ شاعروں نے واقعے کو اپنے کلام کا حصہ بنایا ہے۔ عربوں کےلیے یہ سال اتنا اہم تھا کہ انہوں نے اس کا نام ہی عام الفیل یعنی ہاتھی والا سال رکھ کر اس سے اپنے کلینڈر کا آغاز کیا۔

    ابرہہ کا ذکر اس وقت کے رومی مؤرخین کےیہاں بھی ملتا ہے جنہوں نے یمن کے گورنر کا باقاعدہ نام لے کر عربوں کی طرف اس کے حملوں کا ذکر کیا ہے۔ البتہ غیر عرب تاریخ میں ابرہہ کے لشکر کی تباہی کا ذکر نہیں ملتا۔ ہاں اتنا ضرور ملتا ہے کہ یمن میں چیچک یا خسرہ جیسی کوئی بیماری پھیل گئی جس سے بڑے پیمانے پر اموات ہوئیں اور  ابرہہ کی طاقت وسطوت کا بھی خاتمہ ہوگا۔

    عرب مورخ ابن اسحاق نے بھی عام الفیل کے بعد کے زمانے میں اس خطےمیں چیچک اور خسرہ پھیلنے کا ذکر کیا ہے

    تاریخ میں مکہ مکرمہ پر دوسرے بڑے حملے کا ذکر بحرین کے قرمطی جنگجوں کی شکل میں ملتا ہے۔

     سن 930 عیسوی میں بحرین کے حاکم ابوطاہر قرمطی نے اپنے لشکر کےساتھ حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ پر حملہ کیا۔ ابوطاہر کی فوج نے طواف کرتے حاجیوں کو بھی قتل کیا ،مکہ کی گلیوں میں بھی خون کی ندیاں بہائیں۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس حملےمیں کوئی30 ہزار کے لگ بھگ عازمین حج اور مکہ کے شہریوں کو قتل کیا گیا تھا۔

     ابوطاہر قرمطی حرم کعبہ میں موجود مقدس پتھر اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد گار حجر اسود بھی اکھاڑ کر لے گیا تھا۔

     حجر اسود تقریبا 22 سال قرمطیوں کے قبضے میں رہا ۔

    مصر کی فاطمیہ سلطنت کے خلیفہ المنصور بالاللہ کی تہدید اور دھمکیوں کے بعد قرمطی، حجر اسود کوفہ کی مسجد میں چھوڑ کر چلے گئے، جس کے بعد اسے مکہ مکرمہ واپس لاکر حرم کعبہ میں دوبارہ نصب کیا گیا۔

    سعودی عرب کے موجودہ حکمران خاندان آل سعود نے 1924 میں حجاز فتح کیا۔

    شاہ عبدالعزیز کی اخوان فوج کے طائف پر قبضے کے بعد مکہ مکرمہ کا اس وقت کا حاکم، حسین بن علی،جسے شریف مکہ کہتے تھے،شہر خالی کرکے چلا گیا۔جس کے بعد سعودی افواج بغیر مزاحمت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئیں اور شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔

    اس وقت سے آج تک مکہ مکرمہ سمیت پورا  خطہ حجاز سعودی عرب کہلاتا ہے جہاں آل سعود کی حکومت ہے۔ آل سعود کے دور میں 1938  اس خطے میں تیل نکل آیا جس نے یہاں کے لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا۔

  • مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، کیا یہ مسلم دنیا کا نیٹو بن سکتا ہے؟

    مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، کیا یہ مسلم دنیا کا نیٹو بن سکتا ہے؟

    مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

    اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ دفاعی تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے، مشترکہ منصوبہ بندی اور اجتماعی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

    اگرچہ معاہدے کی تمام قانونی اور عسکری تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم ماہرین اسے گزشتہ کئی دہائیوں میں مسلم دنیا کی سب سے اہم دفاعی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت، مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی عرب معیشت اور نیٹو کی طاقتور فوج رکھنے والا ملک ایک ایسے دفاعی فریم ورک میں اکٹھے ہوئے ہیں جس کا بنیادی مقصد مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

    اس معاہدے کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟

    مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اتحاد کا تصور نیا نہیں۔ 1969 میں اسلامی تعاون تنظیم کے قیام کے بعد بھی مختلف ادوار میں مشترکہ دفاع کی تجاویز سامنے آتی رہیں، لیکن سیاسی اختلافات، علاقائی رقابتوں اور مختلف خارجہ پالیسیوں کے باعث کوئی مؤثر دفاعی نظام تشکیل نہ پا سکا۔

    1981 میں خلیجی ممالک نے گلف کوآپریشن کونسل قائم کی، لیکن اس کا دائرہ صرف خلیجی ریاستوں تک محدود رہا۔

    2015 میں سعودی عرب نے انسداد دہشت گردی کے لیے اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دیا، جس میں پاکستان سمیت کئی ممالک شریک ہوئے، مگر اس اتحاد کا دائرہ کار دہشت گردی تک محدود تھا اور اس میں اجتماعی دفاع کی شق شامل نہیں تھی۔

    مکہ معاہدہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں ریاستی دفاع، مشترکہ عسکری تعاون اور اجتماعی سلامتی کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ اگر اس کی دفاعی شقیں مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہیں تو یہ مسلم دنیا میں پہلی بار ایک ایسا دفاعی نظام ہوگا جس میں حملے کی صورت میں اجتماعی ردعمل کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ بعض مبصرین اس کا موازنہ نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے کر رہے ہیں، اگرچہ دونوں معاہدوں کی قانونی اور ادارہ جاتی ساخت ایک جیسی نہیں۔

    پاکستان کے لیے یہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟

    پاکستان اس اتحاد کا واحد ایٹمی ملک ہے۔ اس کے پاس جدید میزائل پروگرام، بڑی بری فوج، تجربہ کار فضائیہ اور بحریہ موجود ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان نے ترکی کے ساتھ جنگی بحری جہازوں، ڈرون ٹیکنالوجی، تربیت اور دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھایا، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی دفاعی تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے رہے ہیں۔

    یہ معاہدہ پاکستان کو کئی اہم فوائد دے سکتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے نئی منڈیاں پیدا ہو سکتی ہیں، ترکی کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی مزید آسان ہو سکتی ہے، سعودی سرمایہ کاری کے ذریعے دفاعی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ بحیرہ عرب، خلیج اور بحیرہ احمر میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت بھی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا سفارتی کردار بھی مضبوط ہوگا کیونکہ وہ اس اتحاد کی واحد جوہری طاقت ہے۔

    سعودی عرب کو اس اتحاد کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

    گزشتہ چند برسوں میں سعودی عرب نے اپنی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ یمن جنگ، ایران کے ساتھ کشیدگی، بحیرہ احمر میں حملے، غزہ جنگ اور خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن نے ریاض کو اپنی سلامتی کے نئے انتظامات پر غور کرنے پر مجبور کیا۔

    اگرچہ سعودی عرب امریکہ کا اہم اتحادی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی براہ راست فوجی موجودگی نسبتاً کم کی ہے۔ اس صورتحال میں سعودی عرب اب علاقائی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ترکی کو کیا فائدہ ہوگا؟

    ترکی گزشتہ دو دہائیوں میں دفاعی صنعت کی ایک بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔ جنگی ڈرونز، میزائل، بحری جہاز، بکتر بند گاڑیاں اور فضائی دفاعی نظام اب اس کی نمایاں برآمدات میں شامل ہیں۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون سے ترکی نہ صرف اپنی دفاعی مصنوعات کی نئی منڈیاں حاصل کر سکتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ، بحیرہ احمر اور جنوبی ایشیا میں اپنا تزویراتی اثر و رسوخ بھی مزید بڑھا سکتا ہے۔

    ایران کے لیے اس معاہدے کا کیا مطلب ہے؟

    اگرچہ معاہدے میں ایران کا نام شامل نہیں اور تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں، لیکن تہران اس پیش رفت پر یقیناً گہری نظر رکھے گا۔

    ایران اور سعودی عرب برسوں تک خطے میں حریف رہے ہیں، اگرچہ حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ دوسری جانب ترکی اور ایران شام، عراق اور جنوبی قفقاز سمیت مختلف معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں اور مقابلہ بھی۔

    پاکستان کی صورتحال سب سے زیادہ حساس ہے کیونکہ اس کی ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ اسی لیے اسلام آباد کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ایران کو یہ یقین دہانی کرائے کہ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی دفاع کے لیے ہے۔

    اگر ایران اس اتحاد کو اپنے خلاف تصور کرتا ہے تو خطے میں نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، تاہم اگر اسے دفاعی تعاون کے ایک محدود فریم ورک کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو یہ خطے میں استحکام کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

    اسرائیل کے لیے اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

    غزہ جنگ اور ایران اسرائیل کشیدگی کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئے اتحاد تیزی سے تشکیل پا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون اسرائیل کے لیے بھی ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔

    اگرچہ معاہدہ اسرائیل کے خلاف نہیں، لیکن اسرائیل یقیناً اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا یہ تعاون مستقبل میں مشترکہ میزائل دفاع، انٹیلی جنس کے تبادلے، بحری نگرانی اور دفاعی منصوبہ بندی تک بھی پھیلتا ہے یا نہیں۔

    کیا یہ مسلم دنیا کا نیٹو بن سکتا ہے؟

    فی الحال ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا۔

    نیٹو کے پاس مستقل ہیڈکوارٹر، مشترکہ فوجی کمان، اجتماعی منصوبہ بندی، مستقل بجٹ، مربوط انٹیلی جنس نظام اور کئی دہائیوں پر مشتمل ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے۔

    مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اگر مستقبل میں اس کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس کا مربوط نظام، مشترکہ کمان اور واضح دفاعی ذمہ داریاں قائم ہوتی ہیں تو یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں مسلم دنیا کا سب سے مؤثر دفاعی اتحاد بن سکتا ہے۔

    آگے کیا ہو سکتا ہے؟

    ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس اتحاد میں قطر، مصر، آذربائیجان، ملائیشیا یا دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مسلم دنیا میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔

    تاہم اس اتحاد کی اصل کامیابی صرف معاہدے پر دستخط سے نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ، مشترکہ دفاعی ڈھانچے، سیاسی ہم آہنگی اور اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا یہ ممالک بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے مستقل تعاون جاری رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔