سندھ کے میرپورخاص ڈویژن کے گاؤں کے مناظر، جہاں مٹی کی خوشبو اور کمھار کے ہاتھوں کی مہارت آپ کو صدیوں پرانی روایت میں لے جاتی ہے۔ آج ہم آپ کو لے کر چلیں گے ایک ایسے ہنرمند کے پاس، جو اپنے ہاتھوں سے مٹی کو زندگی بخشتا ہے، اسے گھڑتا ہے، سنوارتا ہے اور پھر اسے خوبصورت برتنوں میں ڈھال دیتا ہے۔ مٹھی سے محبت کا عملی جائزہ لینا ہو تو کمہار کے فن کو دیکھیں۔ یہ ہے روایتی کمھار کا فن، جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے اور آج بھی زندہ ہے۔
سب سے پہلے کمھار مٹی کو چھانٹتا ہے تاکہ اس میں سے پتھر، گھاس پھوس اور دوسری چیزیں الگ ہو جائیں۔ پھر وہ اس مٹی میں پانی ملاتا ہے اور اسے خوب گوندھتا ہے۔ یہ کام بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ مٹی میں نمی اور لچک ہی برتن کو مضبوط بناتی ہے۔ گوندھنے کے بعد مٹی کو پلاسٹک کی چادر سے ڈھانپ کر کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ یکساں طور پر تیار ہو جائے۔
جس کے بعد دلچسپ مرحلہ آتا ہے۔
چَک، چرخِ کمہار یا چرخہ، جسے سندھی زبان میں چَک کہا جاتا ہے، جو ایک وہیل نما ہوتا ہے، جس پر گوندھی ہوئی مٹی رکھ کر برتن بنائے جاتے ہیں۔ کمھار مٹی کی ایک لوئی لے کر چَک پر رکھتا ہے اور چَک کو گھمانا شروع کر دیتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کو پانی میں بھگو کر وہ مٹی کو شکل دیتا ہے، اسے اوپر اٹھاتا ہے، اندر سے کھوکھلا کرتا ہے اور پھر اسے ایک خوبصورت گھڑے، مٹکے یا ہانڈی کی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔ کمھار کے ہاتھوں کی یہ جنبش دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا وہ مٹی سے بات کر رہا ہے اور وہ جو اس کی ہر اشارے کو سمجھ رہی ہے۔
چَک پر برتن بنا لینے کے بعد کمھار اسے ایک طرف رکھ دیتا ہے تاکہ وہ قدرے خشک ہو جائے۔ جب برتن آدھا خشک ہو جاتا ہے تو کمھار اس پر باریک مٹی چھڑکتا ہے اور ہلکے ہاتھوں سے اس کے بدن کو تھپکی دیتا ہے تاکہ اسے مکمل شکل مل سکے۔ پھر ان برتنوں کو دھوپ میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اچھی طرح سوکھ جائیں۔
برتنوں کے مکمل خشک ہو جانے کے بعد انہیں بھٹی میں پکانے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ کمھار بھٹی میں لکڑی، چاول کی بھوسی اور گوبر کے اپلے ڈال کر آگ جلائے گا۔ یہ برتن بھٹی میں تقریباً 15 سے 20 گھنٹے تک پکتے رہیں گے، جس کے بعد یہ پختہ اور مضبوط ہو جائیں گے۔
کچھ برتنوں کو بغیر رنگ کے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے، تو کچھ پر خوبصورت نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ کمھار برش کی مدد سے برتنوں پر پھول، بیل بوٹے اور جیومیٹرک ڈیزائن بناتا ہے۔ اس کے لیے وہ قدرتی رنگوں کا استعمال کرتا ہے، جیسے کوبالٹ بلیو، فیروزی، پیلا، جامنی اور بھورا۔ یہ رنگ برتنوں کو ایک منفرد اور دلکش شکل دیتے ہیں۔سندھ میں عام طور پر مٹی کے برتنوں پر رنگ کرنے کا کام خواتین کرتی ہیں۔
کمھار مختلف قسم کے برتن بناتے ہیں۔ گھڑا اور مٹکا پینے کے پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پیالہ، کونڈی اور ہانڈی کھانا پکانے اور پیش کرنے کے کام آتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے وہ مٹی کے کھلونے بھی بناتے ہیں، اور دیوالی یا عرسوں کے لیے روایتی مٹی کے چراغ بھی۔
لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ کمھار کو صبح سے شام تک دھوپ اور گرمی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ مٹی کو چھانٹنا، گوندھنا، برتن بنانا، انہیں دھوپ میں خشک کرنا، بھٹی میں پکانا اور پھر رنگ کرنا، یہ سب بہت محنت طلب کام ہے۔ اس کے باوجود، آج کل کمھاروں کو اپنے فن کو جاری رکھنے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ پلاسٹک اور اسٹیل کے برتنوں نے مٹی کے برتنوں کی جگہ لے لی ہے، اور لوگ اب انہیں اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی پہلے دیتے تھے۔
مٹی کے برتنوں کی مانگ میں کمی کی وجہ سے کمھاروں کی آمدن بہت کم ہو گئی ہے۔ بہت سے کمھار اپنا پیشہ چھوڑ کر دوسرے کاموں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل بھی اس فن کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں لے رہی، کیونکہ اس میں پیسہ نہیں ہے۔ اس طرح یہ صدیوں پرانا فن آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم مٹی کے برتنوں کو استعمال کریں اور کمھاروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ مٹی کے برتن نہ صرف ماحول دوست ہیں، بلکہ ان میں کھانا پکانے سے صحت بھی بہتر رہتی ہے۔ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں مٹی کے برتنوں کو شامل کر کے اس فن کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ تھی روایتی کمھار کی کہانی، جو مٹی سے محبت کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں کی مہارت سے اسے فن پارے میں بدل دیتا ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر اس ہنر کی قدر کریں اور ان کمھاروں کا ساتھ دیں، تاکہ یہ فن صدیوں تک زندہ رہ سکے۔
ساگا ڈیجیٹل روائتی، مٹی سے محبت سے جڑی کہانیاں لاتا ہے۔ ایسی دلچسپ کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

