Tag: مُنارو

  • سکھر: 84 فٹ اونچی ٹاور نما منفرد عمارت ‘معصوم شاہ جو مُنارو’ کے تعمیر کا کیا سبب تھا؟

    سکھر: 84 فٹ اونچی ٹاور نما منفرد عمارت ‘معصوم شاہ جو مُنارو’ کے تعمیر کا کیا سبب تھا؟

     

    سکھر کے تاریخی منظرنامے میں میر معصوم شاہ بکھری ایک منفرد اور اہم شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ محقق سید امداد حسین شاہ کے مطابق، یہ شخصیت نہ صرف سندھ کے مغلیہ دور کی حکومتی اور فوجی ذمہ داریوں کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات کی بھی علامت ہے۔
    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سید امداد حسین شاہ نے بتایا کہ میر معصوم شاہ بکھری نے سندھ میں انتظامی اصلاحات کیں، مقامی مسائل حل کیے اور سندھ کی تحریری تاریخ میں نمایاں حصہ ڈالا۔ ان کی معروف تصنیف ‘تاریخِ معصومی’ سندھ کی قدیم تاریخ اور معاشرتی حقائق کے لیے ایک اہم ماخذ ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نے مزید کہا کہ میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت میں ادب، شعر و شاعری اور خطاطی کا بھی گہرا تعلق تھا، اور وہ اس دور کے علمی حلقوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔

    دیگر محققین کے مطابق، مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں انہیں سندھ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے نہ صرف انتظامی امور سنبھالے بلکہ مقامی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات کیے۔ ان کی بصیرت اور قیادت نے سکھر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو امن و استحکام فراہم کیا۔

    سید امداد حسین شاہ کے مطابق، میر معصوم شاہ بکھری نے اپنی زندگی میں ایک منفرد تعمیر، مینار بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ کتب مینار کی طرز پر ہے ۔ یہ مینار نہ صرف شہر کی پہچان ہے بلکہ مغلیہ فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی ایک مثال بھی ہے۔ مینار کی تعمیر کا آغاز تقریباً 1595ء میں ہوا اور بعد میں میر معصوم شاہ کے بیٹے نے اسے مکمل کروایا۔

    مینار کی خاص بات اس کی عددی ترتیب اور پیمائش ہے: بنیاد اور اندرونی سیڑھیاں 84 عدد میں رکھی گئی ہیں، جبکہ عمارت کی اونچائی بھی تقریباً 84 فٹ ہے۔ بعض تاریخی حوالوں میں بتایا گیا ہے کہ مینار کی بنیاد بھی 84 فٹ چوڑی ہے، جو اس کی مضبوطی اور استحکام کی دلیل ہے۔ اوپری حصہ گنبد نما ہے، جہاں سے شہر اور دریائے سندھ کے علاقوں کا نظارہ ممکن ہوتا ہے۔ سید امداد حسین شاہ کے مطابق یہ ترتیب محض جمالیاتی نہیں بلکہ اس دور کے فنِ تعمیر اور علامتی اہمیت کی بھی عکاس ہے۔

    مینار کو دیگر محققین کے مطابق اکثر “نگرانی ٹاور” کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شہر اور دریائے سندھ کے اردگرد کے علاقوں پر نظر رکھی جا سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عمارت علمی اور ثقافتی علامت بھی تھی۔ تحقیقی کتب اور مقامی دستاویزات میں ذکر ہے کہ مینار کی تعمیر میں سرخ اینٹیں، چونے کے پتھر اور مقامی و راجستھان سے منگوائے گئے پتھر استعمال کیے گئے، جو نہ صرف اس کی مضبوطی بلکہ فنّی خوبصورتی کی بھی دلیل ہیں۔

    یہ مینار گھومتی سیڑھیوں کے ذریعے چوٹی تک جاتی ہے، جو مغلیہ فنِ تعمیر کی مہارت کی عکاس ہے۔ مزید قابل ذکر بات یہ ہے کہ مینار کے ساتھ ہی میر معصوم شاہ بکھری کو دفن کیا گیا اور اسی مقام پر ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبریں بھی موجود ہیں، جس سے یہ جگہ نہ صرف تاریخی بلکہ یادگار مقام بھی بن جاتی ہے۔

    مینار اور میر معصوم شاہ بکھری کی شخصیت آج بھی شہریوں اور سیاحوں کے لیے کشش کا مرکز ہیں۔ ان کی علمی، ادبی، حکومتی اور فوجی خدمات کے علاوہ یہ عمارت فنِ تعمیر اور عددی اہتمام کی مثال کے طور پر موجود ہے۔ دیگر محققین بھی متفق ہیں کہ میر معصوم شاہ اور ان کا مینار سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ ہیں، جن کی موجودگی شہر کی شناخت اور تاریخی تعلیم کے لیے اہم ہے۔

    سید امداد حسین شاہ نےکہا کہ تاریخی ورثے کی حفاظت نہ صرف مقامی حکومت بلکہ ثقافتی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس کی اصل اہمیت سے واقف رہیں۔ مینار کی حفاظت، مرمّت اور تحقیقی کام جاری رہنا چاہیے تاکہ یہ تاریخی ورثہ زندہ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔

    اس کے ساتھ ہی، میر معصوم شاہ کی علمی اور حکومتی خدمات بھی یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ سندھ کی تاریخ کا یہ اہم باب ہمیشہ زندہ رہے