Tag: مویشی

  • تھرپارکر میں مویشی پالنے والے افراد اپنے مویشیوں کے گلے میں مختلف سائز کی گھنٹیاں کیوں باندھتے ہیں؟

    تھرپارکر میں مویشی پالنے والے افراد اپنے مویشیوں کے گلے میں مختلف سائز کی گھنٹیاں کیوں باندھتے ہیں؟

    روز صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے تھر کے دیہات میں رہنے والے چرواہے اپنی بھیڑ بکریوں کو جنگل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس وقت پورے گاؤں میں اذان اور مندروں کی گھنٹیوں کی آواز کے ساتھ جانوروں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ یہ مدھر آواز دیہاتیوں کو میٹھی نیند سے جگا دیتی ہے۔

    یہ گھنٹیاں چرواہے قریبی چھوٹے بڑے شہروں میں لگنے والی جانوروں کی منڈیوں سے خریدتے ہیں۔ ان منڈیوں میں گھنٹیاں بیچنے والے باقاعدہ دکانیں لگاتے ہیں۔

    گھنٹیاں عموماً چھوٹے شہروں میں بسنے والے لوہار قبیلے کے لوگ بناتے ہیں۔ تاہم ان میں سر دیہات میں رہنے والے ماہر افراد سیٹ کرتے ہیں۔ یہ لوگ گھنٹیوں میں سر درست کرنے کے ماہر مانے جاتے ہیں۔

    دیہاتی بتاتے ہیں کہ ان گھنٹیوں کے اندر ایک لکڑی لگائی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں لار کہا جاتا ہے۔ یہ لار خاص طور پر تھر میں پائے جانے والے کونبہٹ کے درخت سے تیار کی جاتی ہے۔ اس میں کنبھٹ کی لکڑی کا بیچ والا کالا حصہ استعمال ہوتا ہے جسے مقامی زبان میں کرسی کہا جاتا ہے۔ ماضی میں بعض اوقات جانوروں کی ہڈیاں بھی لار کے طور پر استعمال کی جاتی تھیں۔

    لکڑی لگانے کے بعد گھنٹی کا سر سیٹ کیا جاتا ہے۔ اس دوران ماہر فرد گھنٹی کو ہاتھ سے بجاتا ہے اور ایک چھوٹی لوہے کی ہتھوڑی سے آہستہ آہستہ مارتا ہے۔ جب مطلوبہ سر بن جاتا ہے تو اس کی آواز کانوں کو خوشگوار محسوس ہوتی ہے۔

    چرواہوں کے مطابق جانوروں میں باندھی جانے والی گھنٹیوں کے دو سر ہوتے ہیں۔ ایک سر کو مقامی زبان میں ہکڑ کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے کو سرلو کہتے ہیں۔ ہکڑ کو کڑوا سر اور سرلو کو میٹھا سر سمجھا جاتا ہے۔

    چرواہے بتاتے ہیں کہ تھر میں خاص طور پر بارشوں کے موسم میں گھنٹیاں باندھی جاتی ہیں کیونکہ اس دوران زیادہ تر زمین کاشت ہوتی ہے۔ اگر جانور کسی کے کھیت میں داخل ہو جائیں تو گھنٹیوں کی آواز سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے۔ اس طرح کاشتکار کو بھی خبر ہو جاتی ہے۔ موسم کے بعد یہ گھنٹیاں جانوروں سے اتار لی جاتی ہیں۔

    کچھ گھنٹیاں ایسے جانوروں میں باندھی جاتی ہیں جو ریوڑ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ جانور آگے چلتا ہے اور باقی سب اس کے پیچھے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو جانور ریوڑ سے الگ ہو جائے اس میں بھی مخصوص گھنٹی باندھی جاتی ہے جسے ہکڑ کہا جاتا ہے۔ کئی چرواہے شوقیہ طور پر بھی جانوروں میں گھنٹیاں باندھتے ہیں۔

    چرواہوں کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں وہ اکثر رات کے وقت جانور چرانے لے جاتے ہیں۔ اس وقت جانور نظر نہیں آتے مگر گھنٹیوں کی آواز سے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے۔ چرواہے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے جانوروں کی گھنٹیوں کی آواز پہچان لیتے ہیں۔

    گھنٹیاں ان کے سائز کے حساب سے بھی پہچانی جاتی ہیں اور ہر سائز کا الگ نام ہوتا ہے۔ سب سے چھوٹی گھنٹیاں بکری اور بھیڑ میں باندھی جاتی ہیں جنہیں کڑک کہا جاتا ہے۔ گائے میں باندھی جانے والی بڑی گھنٹی کو اٹھ آنی کہا جاتا ہے۔ ہر جانور کے قد اور جسامت کے مطابق گھنٹی منتخب کی جاتی ہے۔

    آج بھی تھر کے چراگاہوں میں یہ گھنٹیاں سنائی دیتی ہیں۔ چرواہوں کے لیے یہ آوازیں صرف شناخت نہیں بلکہ چراگاہوں کی موسیقی ہیں جو پورے علاقے کو ایک خاص لے میں باندھ دیتی ہیں۔