کیا آپ جانتے ہیں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں گھوڑوں کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہے، خانہ بدوشوں کے اس ملک کی 90 فیصد سے زیادہ زمین غیر آباد ہے اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی دارالحکومت میں رہتی ہے۔
یہ "منگولیا” ہے، پاکستان کے شمال مشرق میں واقع اس ملک کے ایک جانب روس اور دوسری جانب چین ہے۔ مشرقی ایشیا کے وسیع میدانوں میں واقع منگولیا بظاہر ایک خاموش اور کم آبادی والا ملک ہے۔
منگولیا کا کل رقبہ 15 لاکھ 64 ہزار مربع کلومیٹر ہے اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کا 18 واں بڑا ملک ہے مگر آبادی صرف 35 لاکھ ہے، جبکہ پچاس فیصد سے زائد آبادی ملک کے دارالحکومت "اُلن باتار” میں مقیم ہے۔
منگولیا کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی خانہ بدوش ثقافت ہے۔ آج بھی ایک بڑی تعداد روایتی خیموں میں رہتی ہے اور مویشی پالنا ان کی معیشت کا بنیادی حصہ ہے۔
گھوڑا منگول زندگی کا اہم جز ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں گھوڑوں کی تعداد انسانوں سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
منگولیا کی پہچان اس کی شاندار تاریخ سے وابستہ ہے، جس کا مرکز عظیم فاتح چنگیز خان ہے۔
13ویں صدی میں مختلف قبائل کو متحد کر کے منگول سلطنت کی بنیاد رکھی۔ کہا جاتا ہے چنگیز خان جہاں سے گزرا تہلکہ مچاتا گیا اور انسانوں کی آبادیوں کو راکھ کا ڈھیر بناتا گیا۔
منگول سلطنت مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ کے قلب تک پھیلتی گئی۔
منگول سلطنت کے زوال کے بعد یہ خطہ مختلف طاقتوں کے زیر اثر رہا، یہاں تک کہ 20ویں صدی کے اوائل میں منگولیا نے چین سے آزادی حاصل کی اور بعد میں سوویت اثر میں ایک سوشلسٹ ریاست کے طور پر ابھرا۔
1990 کی دہائی میں سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی منگولیا نے جمہوری نظام اپنایا اور ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

